کارنی کی سرمایہ کاری کانفرنس، کینیڈا میں 167 بڑے منصوبوں کے ذریعے 1 ٹریلین ڈالر سرمایہ لانے کی کوشش

کارنی کی سرمایہ کاری کانفرنس، کینیڈا میں 167 بڑے منصوبوں کے ذریعے 1 ٹریلین ڈالر سرمایہ لانے کی کوشش

وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت نے کینیڈا میں عالمی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے 167 بڑے منصوبوں کی تفصیلی فہرست تیار کرلی ہے، جنہیں آئندہ ہفتے ٹورنٹو میں ہونے والی کینیڈا انویسٹمنٹ سمٹ کے دوران دنیا کے بڑے سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کیا جائے گا
14 اور 15 ستمبر کو ہونے والی اس 2 روزہ سمٹ میں عالمی سرمایہ کاروں، کینیڈین کاروباری رہنماؤں اور سرکاری نمائندوں کو مدعو کیا گیا ہے حکومت کا مقصد اگلے 5 سال میں کینیڈا میں تقریباً 1 ٹریلین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری لانا ہے تاکہ معیشت کو مضبوط کیا جاسکے اور امریکہ پر تجارتی انحصار کم کیا جاسکے
66 صفحات پر مشتمل سرمایہ کاری دستاویز میں منصوبوں کو 8 بڑے شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے ان میں 11 روایتی توانائی، 31 صاف توانائی، 63 کان کنی اور دھاتوں، 16 سمندری اور بندرگاہی انفراسٹرکچر، 11 بجلی اور یوٹیلیٹیز، 10 ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، 19 جدید مینوفیکچرنگ اور 6 ٹرانسپورٹ منصوبے شامل ہیں
فہرست میں البرٹا سے برٹش کولمبیا کے بحرالکاہل ساحل تک مجوزہ آئل پائپ لائن، برٹش کولمبیا میں تیرتا ہوا ایل این جی ٹرمینل اور کیلگری سے ایڈمنٹن کے درمیان تیز رفتار ریل منصوبہ بھی شامل ہیں کیلگری ایڈمنٹن ریل منصوبے کی متوقع لاگت تقریباً 10.9 ارب ڈالر بتائی گئی ہے، جبکہ ٹرینوں کی رفتار 300 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رکھنے کی تجویز ہے
بڑے منصوبوں میں چرچل بندرگاہ کی توسیع اور جدید کاری، نووا اسکاٹیا میں آف شور ونڈ توانائی اور دیگر بڑے توانائی و معدنی منصوبے بھی شامل ہیں سرمایہ کاری کی فہرست میں مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سینٹرز، دفاعی ٹیکنالوجی اور جدید مینوفیکچرنگ کے منصوبوں کو بھی جگہ دی گئی ہے
حکومت کو امید ہے کہ امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی کشیدگی کے دوران یہ سمٹ کینیڈا کو عالمی سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پرکشش بنائے گی اور یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ سمیت مختلف خطوں سے سرمایہ کاری حاصل کرنے میں مدد دے گی
سمٹ میں شریک ہونے والے عالمی سرمایہ کار مجموعی طور پر 100 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کے اثاثے مینیج کرتے ہیں، جس سے اس اجلاس کی مالی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے تاہم ماہرین کے مطابق کینیڈا کو سرمایہ کاری حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ بڑے منصوبوں کی منظوری، ریگولیٹری رکاوٹوں اور منصوبوں کو عملی شکل دینے کی رفتار جیسے مسائل بھی حل کرنا ہوں گے

قومی خبریں سے مزید