ایران کا خلیجی ممالک سے آبنائے ہرمز پر مذاکرات کا فیصلہ، اہم اجلاس پیر کو عمان میں ہوگا
ایران نے آبنائے ہرمز کے مستقبل اور وہاں بحری آمدورفت کے طریقہ کار پر خلیجی ممالک سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کردی ہے ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ایران خلیجی ممالک، جن میں عراق بھی شامل ہے، کے ساتھ پیر کو عمان میں اجلاس کرے گا مقصد خطے کے ممالک کے درمیان بہتر سمجھ بوجھ پیدا کرنا اور مشترکہ علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے
یہ مذاکرات ایران اور عمان کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری سفارتی رابطوں کے بعد ہو رہے ہیں دونوں ممالک آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے مستقبل کے طریقہ کار پر بات چیت کرتے رہے ہیں آبنائے ہرمز اس وقت ایران کے کنٹرول میں ہے اور وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں کو ایرانی اجازت درکار ہے
ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے سروس فیس وصول کرنے کے نظام پر بھی غور کر رہا ہے ایرانی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے بعض بحری جہازوں کو ایرانی فورسز کی جانب سے نشانہ بھی بنایا گیا ہے، جس کے باعث عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کو شدید مشکلات کا سامنا ہے
جنگ سے پہلے دنیا کی تقریباً 5واں حصہ تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی تھی آبنائے ہرمز میں مسلسل رکاوٹ کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں شدید بے یقینی پیدا ہوئی ہے اور اس ہفتے خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر چلی گئی
عمان کی میزبانی میں ہونے والی بات چیت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم سفارتی کوشش قرار دیا جا رہا ہے اگر ایران اور خلیجی ممالک کسی عارضی انتظام پر متفق ہوجاتے ہیں تو اس سے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے اور عالمی تیل کی سپلائی پر دباؤ کم کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے ایران اور عمان کے درمیان مجوزہ انتظام کے حوالے سے پہلے ہی بات چیت جاری ہے
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھارت کے دورے کے دوران خبردار کیا کہ ایران پر مغربی معاشی اور فوجی دباؤ ایک انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکا ہے ان کے مطابق تجارت، توانائی، بنیادی ڈھانچے اور مالی نظام پر دباؤ کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے اور عالمی معیشت کو متاثر کرتے ہیں





