پناہ گزینوں کے لیے بڑی امیگریشن رعایت ختم، غیر ظاہر شدہ خاندان کینیڈا نہیں بلا سکیں گے
کینیڈا کی حکومت نے ایسے مستقل رہائشیوں کے لیے ایک اہم رعایت ختم کر دی ہے جو پناہ گزین یا محفوظ شخص کی حیثیت سے کینیڈا آئے تھے اور اپنی مستقل رہائش کی درخواست کے وقت اپنے کسی قریبی خاندان کے فرد کو ظاہر نہیں کر سکے تھے یہ عارضی رعایت 10 ستمبر 2026 کو ختم ہو گئی ہے، جس کے بعد عام امیگریشن قوانین دوبارہ نافذ ہو گئے ہیں
اس پالیسی کا تعلق ان لوگوں سے ہے جنہوں نے کینیڈا میں مستقل رہائش حاصل کرنے کے بعد اپنے ایسے شریک حیات، کامن لا پارٹنر یا زیر کفالت بچے کو کینیڈا بلانے کی کوشش کی جس کا نام ان کی سابقہ مستقل رہائش کی درخواست میں ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔ عام قانون کے تحت اگر خاندان کے کسی رکن کو درخواست کے وقت ظاہر اور طبی و دیگر ضروری جانچ کے لیے پیش نہ کیا جائے تو بعد میں اسے فیملی اسپانسرشپ کے ذریعے مستقل رہائش دلوانے پر مستقل پابندی عائد ہو سکتی ہے
حکومت نے یہ عارضی رعایت پہلی مرتبہ 2019 میں متعارف کرائی تھی اس کا مقصد ان مخصوص خاندانوں کو دوبارہ ملانے کا موقع دینا تھا جنہیں غیر ظاہر شدہ خاندان کے حوالے سے موجود سخت قانون کی وجہ سے طویل مدتی یا مستقل رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا اس پالیسی کو بعد میں مختلف ادوار میں توسیع دی گئی اور آخری مرتبہ اس کے تحت درخواستیں 10 ستمبر 2026 تک وصول کی جانی تھیں
اہم بات یہ ہے کہ یہ رعایت ہر غیر ظاہر شدہ خاندان کے فرد کے لیے دستیاب نہیں تھی اس کے تحت عام طور پر وہ شریک حیات، کامن لا پارٹنر، کنجوگل پارٹنر یا زیر کفالت بچے آ سکتے تھے جنہیں مستقل رہائش حاصل کرتے وقت ظاہر یا طبی طور پر جانچا نہیں گیا تھا اس کے علاوہ اسپانسر کا اپنا کینیڈین مستقل رہائشی بننے کا راستہ بھی مخصوص ہونا ضروری تھا
اس رعایت سے فائدہ اٹھانے والوں میں ایسے افراد شامل ہو سکتے تھے جو کینیڈا میں دوبارہ آباد ہونے والے پناہ گزین کے طور پر مستقل رہائشی بنے، کینیڈا میں محفوظ شخص تسلیم کیے جانے کے بعد مستقل رہائش حاصل کی، یا مخصوص فیملی اسپانسرشپ پروگرام کے ذریعے مستقل رہائشی بنے تھے
تاہم پالیسی میں اہم پابندیاں بھی تھیں۔ اگر کسی خاندان کے فرد کو ظاہر کرنے کی صورت میں خود اسپانسر کی کینیڈا میں مستقل رہائش ہی خطرے میں پڑ جاتی، تو یہ رعایت استعمال نہیں کی جا سکتی تھی مثال کے طور پر بعض ایسے معاملات اس پالیسی سے باہر تھے جہاں اسپانسر نے ایسے امیگریشن پروگرام کے تحت مستقل رہائش حاصل کی تھی جس میں اس وقت غیر شادی شدہ ہونا یا کسی زیر کفالت فرد کا نہ ہونا لازمی تھا
حکومت کے مطابق مستقل رہائش کے لیے درخواست دینے والے افراد کے لیے اپنے تمام خاندان کے افراد کو ظاہر کرنا بنیادی شرط ہے، چاہے وہ خاندان کے افراد اس وقت کینیڈا نہ آ رہے ہوں اس میں شریک حیات، کامن لا پارٹنر، زیر کفالت بچے اور بعض حالات میں زیر کفالت بچے کے بچے بھی شامل ہو سکتے ہیں ان افراد کی طبی، سکیورٹی اور دیگر متعلقہ جانچ بھی ضروری ہو سکتی ہے
اس شرط کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ کینیڈین امیگریشن حکام مستقل رہائش کا فیصلہ کرتے وقت خاندان کے تمام متعلقہ افراد کی معلومات دیکھنا چاہتے ہیں حکومت کا کہنا ہے کہ مکمل معلومات فراہم کرنے سے یہ معلوم کرنے میں مدد ملتی ہے کہ درخواست گزار یا اس کے خاندان کا کوئی فرد امیگریشن قوانین کے تحت کینیڈا میں داخلے کے لیے نااہل تو نہیں
اس پالیسی کے خاتمے کا مطلب یہ نہیں کہ کینیڈا میں موجود پناہ گزینوں یا مستقل رہائشیوں کی اپنی مستقل رہائش ختم ہو رہی ہے اصل تبدیلی یہ ہے کہ مخصوص حالات میں پہلے دستیاب خصوصی رعایت کے ذریعے غیر ظاہر شدہ شریک حیات یا بچوں کو بعد میں مستقل رہائش کے لیے اسپانسر کرنے کا راستہ اب بند ہو گیا ہے
البتہ جن اہل افراد کی درخواستیں 10 ستمبر 2026 تک موصول ہو چکی تھیں، ان پر یہ پالیسی لاگو ہوتی رہے گی اور انہیں صرف پالیسی کے خاتمے کی وجہ سے دوبارہ درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوگی کینیڈا کی امیگریشن حکام نے واضح کیا ہے کہ 31 مئی 2019 سے 10 ستمبر 2026 کے درمیان موصول ہونے والی اہل درخواستوں پر متعلقہ پالیسی کے تحت کارروائی جاری رہے گی
نئی صورتحال میں ایسے خاندان جنہوں نے اس رعایت کے تحت درخواست نہیں دی اور جن کا خاندان کا فرد پہلے ظاہر نہیں کیا گیا تھا، ان کے لیے معاملہ کہیں زیادہ مشکل ہو سکتا ہے بعض حالات میں دوسرے قانونی راستے موجود ہو سکتے ہیں، لیکن وہ خودکار حق نہیں ہیں اور ہر کیس کی تفصیلات، امیگریشن تاریخ اور خاندان کے رشتے کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں
اس فیصلے سے خاص طور پر ان پناہ گزین خاندانوں پر اثر پڑنے کا امکان ہے جو کینیڈا پہنچنے کے بعد اپنے شریک حیات یا بچوں کو قانونی طور پر دوبارہ اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کر رہے تھے حکومت نے ماضی میں تسلیم کیا تھا کہ غیر ظاہر شدہ خاندان کے افراد پر عائد مستقل پابندی کے انسانی اور خاندانی اثرات کے حوالے سے خدشات موجود رہے ہیں، اسی وجہ سے 2019 میں یہ عارضی پالیسی متعارف کرائی گئی تھی





