بروکلین کی ذکیہ خان کو 64 ملین ڈالر کے میڈیکیڈ فراڈ میں 6 سال 4 ماہ قید، 56 ملین ڈالر واپسی کا حکم
بروکلین میں بزرگ شہریوں کے لیے سوشل ڈے کیئر مراکز کے ذریعے کروڑوں ڈالر کے میڈیکیڈ فراڈ کی سرغنہ قرار دی جانے والی ذکیہ خان کو وفاقی عدالت نے 6 سال 4 ماہ، یعنی 76 ماہ قید کی سزا سنا دی ہے,وفاقی جج نتاشا سی مرل نے ذکیہ خان کو میڈیکیڈ سے حاصل کی گئی تقریباً 56 ملین ڈالر کی رقم واپس کرنے اور 5 ملین ڈالر کے اثاثے ضبط کرنے کا بھی حکم دیا ہے،ضبط شدہ اثاثوں میں دو جائیدادیں، نقد رقم اور سونے کے زیورات شامل ہیں
محکمۂ انصاف کے مطابق ذکیہ خان نے اکتوبر 2017 سے جولائی 2024 تک کونی آئی لینڈ، بروکلین میں ہیپی فیملی سوشل ایڈلٹ ڈے کیئر اور فیملی سوشل ایڈلٹ ڈے کیئر کے ذریعے یہ اسکیم چلائی،ان مراکز کے علاوہ اس کے پاس ریسپانسبل کیئر اسٹافنگ نامی ہوم ہیلتھ کیئر مالیاتی ادارہ اور ٹانوی سروسز نامی کمپنی بھی تھی، جسے فراڈ سے حاصل ہونے والی رقم وصول کرنے اور چھپانے کے لیے استعمال کیا گیا
تفتیشی ریکارڈ کے مطابق ذکیہ خان اور اس کے ساتھی مارکیٹرز Medicaid کے مستحق افراد کو نقد رشوت اور کک بیکس دے کر ان مراکز میں رجسٹر کراتے تھے،اس کے بعد ایسے خدمات کے بل میڈیکیڈ کو بھیجے جاتے تھے جو یا تو فراہم ہی نہیں کی گئیں، یا جن کی فراہمی کے لیے رشوت دی گئی تھی،بعض معاملات میں جعلی حاضری شیٹس تیار کی گئیں،2017 سے 2024 کے دوران دونوں ڈے کیئر مراکز نے تقریباً 64 ملین ڈالر کے جعلی دعوے جمع کرائے، جن میں سے میڈیکیڈ نے تقریباً 56 ملین ڈالر ادا کیے
یہ مقدمہ ابتدا میں تقریباً 68 ملین ڈالر کے فراڈ اسکیم کے طور پر سامنے آیا تھا،اکتوبر 2024 میں وفاقی فردِ جرم کے تحت 8 افراد پر الزامات عائد کیے گئے، جبکہ مارچ 2025 کی سپر سیڈنگ فردِ جرم میں ملزمان کی تعداد بڑھ کر 14 ہوگئی،عدالت کے ریکارڈ کے مطابق ذکیہ خان کے علاوہ انصار عباسی، ملک ندیم عابد، گوہر علی، ایلین انٹاؤ، اومنہ حمیدی، عمران ہاشمی، جوزف ہیلمی، احسن اعجاز، امل اسماعیل، ذکیہ نورین خٹک، سیما میمن، عبدالسلام اور منال واصف کے نام فردِ جرم میں شامل ہیں
ان میں سے سیما میمن، عمران ہاشمی، جوزف ہیلمی اور امل اسماعیل پہلے ہی جرم کا اعتراف کرچکے تھے،جنوری 2026 میں ایلین انٹاؤ اور منال واصف نے بھی جرم قبول کرلیا، جس کے بعد اس مقدمے میں جرم قبول کرنے والے ملزمان کی تعداد 7 ہوگئی،انٹاؤ اور واصف نے مجموعی طور پر تقریباً 1 ملین ڈالر ضبط کرانے پر بھی اتفاق کیا
باقی ملزمان کے مقدمات الگ عدالتی کارروائی کے تحت جاری ہیں،دستیاب وفاقی ریکارڈ میں کسی شریک ملزم کو ’’مفرور‘‘ یا عدالت سے فرار قرار نہیں دیا گیا، اس لیے موجودہ سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر کسی شخص کو ابسکونڈر کہنا درست نہیں ہوگا،ابتدائی اور بعد کی فردِ جرم میں تمام ملزمان پر لگائے گئے الزامات محض الزامات تھے اور جرم ثابت ہونے تک وہ قانونی طور پر بے گناہ تصور کیے جاتے ہیں
ذکیہ خان کے معاملے میں 56 ملین ڈالر کی ادائیگی کا حکم اضافی قید کی خودکار سزا نہیں ہے،اگر وہ یہ رقم ادا نہ کرسکے تو وفاقی قانون کے تحت عدالت اس کے مالی وسائل، آمدنی اور ادائیگی کی صلاحیت کا جائزہ لے سکتی ہے، ادائیگی کا طریقہ تبدیل کرسکتی ہے، جائیداد فروخت کرانے، عدالتی توہین کی کارروائی یا دیگر قانونی اقدامات کا حکم دے سکتی ہے،جان بوجھ کر ادائیگی سے انکار یا ادائیگی کی استطاعت کے باوجود مناسب کوشش نہ کرنے کی صورت میں عدالت بعض حالات میں اضافی قید بھی عائد کرسکتی ہے، لیکن صرف غریب یا مالی طور پر ناقابلِ ادائیگی ہونے کی وجہ سے اسے خودکار طور پر مزید قید نہیں دی جاسکتی
محکمۂ انصاف کے مطابق وفاقی حکومت عموماً ایسے ریسٹی ٹیوشن احکامات کی وصولی کے لیے ملزم کی جائیداد، آمدنی اور دیگر مالی وسائل کا سراغ لگاتی ہے،وفاقی قانون کے تحت ریسٹی ٹیوشن کا دعویٰ عام طور پر فیصلے کے بعد 20 سال تک، اور قید کی مدت کے اضافے سمیت، نافذ رہ سکتا ہے،محکمۂ انصاف خود تسلیم کرتا ہے کہ کروڑوں ڈالر کی ریسٹی ٹیوشن مکمل طور پر واپس ملنا اکثر مشکل ہوتا ہے اور بہت سے مجرم پوری رقم ادا نہیں کر پاتے
ذکیہ خان کے خلاف کارروائی میں محکمۂ صحت کے انسپکٹر جنرل، ہوم لینڈ سکیورٹی انویسٹی گیشنز اور نیویارک پولیس نے مشترکہ تحقیقات کیں،حکام کے مطابق یہ اسکیم بزرگ شہریوں کے لیے مختص میڈیکیڈ پروگرام کو جعلی دعووں، رشوت اور کک بیکس کے ذریعے لوٹنے کے لیے کئی کاروباری اداروں کے نیٹ ورک کے طور پر استعمال کی گئی





