Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

بھارت کی جوہری دھمکیوں اور میزائل پروگرام میں تیزی، جنوبی ایشیا میں ایٹمی جنگ کا خطرہ بڑھنے کا خدشہ

بھارت کی جوہری دھمکیوں اور میزائل پروگرام میں تیزی، جنوبی ایشیا میں ایٹمی جنگ کا خطرہ بڑھنے کا خدشہ

جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی دوڑ اور فوجی کشیدگی ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے دفاعی امور کے ماہر ڈاکٹر راشد ولی جنجوعہ نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے جوہری اور میزائل ٹیکنالوجی میں مسلسل اضافے، نئے فوجی نظریات اور اشتعال انگیز بیانات سے خطے میں جوہری توازن اور امن کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں
ان کے مطابق مئی 2025 میں آپریشن معرکہ حق کے دوران بھارت کی جانب سے روایتی جنگی وار ہیڈز کے ساتھ براہموس کروز میزائل استعمال کیے جانے سے ایک انتہائی خطرناک صورتحال پیدا ہوئی تھی ان کا کہنا ہے کہ ایسے دوہرے استعمال والے میزائلوں کو پاکستانی فضائی دفاعی نظام غلطی سے جوہری حملے کا آغاز بھی سمجھ سکتا تھا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تصادم غیر معمولی حد تک بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا تھا
ڈاکٹر راشد ولی جنجوعہ نے بھارت کے اگنی 5 میزائل کے تجربے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں ان کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان بیلسٹک میزائلوں کے تجربات سے پہلے اطلاع دینے کا معاہدہ موجود ہے، جس کے تحت تجربے سے کم از کم 72 گھنٹے پہلے اطلاع دینا ضروری ہے ان کا کہنا ہے کہ بھارت نے اس معاملے میں طے شدہ ضابطوں کی پاسداری نہیں کی، جس پر پاکستان کی وزارت خارجہ نے 2024 میں بھی اعتراض اٹھایا تھا
مضمون میں بھارت کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ اور میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول رجیم میں حاصل خصوصی سہولتوں پر بھی تنقید کی گئی ہے مصنف کے مطابق امریکا اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ سول نیوکلیئر معاہدے کے تحت بھارت کے 8 جوہری ری ایکٹرز کو بین الاقوامی نگرانی سے باہر رکھنے کی اجازت دی گئی
ان کا دعویٰ ہے کہ ان ری ایکٹرز میں استعمال ہونے والے ایندھن اور پیداوار کے حوالے سے ایسی صلاحیت موجود ہے جسے مستقبل میں فوجی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے
مصنف نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ برصغیر میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کا آغاز بھارت کے 1974 اور 1998 کے جوہری دھماکوں سے ہوا، جس کے بعد پاکستان نے اپنی قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت جوہری صلاحیت حاصل کی
مضمون میں بھارت کے فوجی نظریات کا جائزہ لیتے ہوئے کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن اور اس کے بعد سامنے آنے والی نئی فوجی حکمت عملیوں کا ذکر کیا گیا ہے مصنف کے مطابق بھارت نے جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کے باوجود روایتی فوجی کارروائیوں کے لیے جگہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے
ان کے مطابق بھارت کی نئی ڈائنامک رسپانس اسٹریٹجی میں تیزی سے حرکت کرنے والے مشترکہ فوجی دستوں اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس بریگیڈز کو اہمیت دی جا رہی ہے ان میں رودرا بریگیڈز بھی شامل ہیں، جنہیں مختلف محاذوں پر تیزی سے تعینات کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے
مصنف کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی مکمل دائرہ کار کی جوہری دفاعی حکمت عملی کے ذریعے بھارت کو روایتی جنگ میں کسی بڑی کارروائی سے روکنے کی کوشش کرتا ہے
مضمون میں بھارت کی جانب سے آبدوزوں سے داغے جانے والے جوہری بیلسٹک میزائلوں اور زمین سے داغے جانے والے جدید میزائلوں کی تعیناتی کو بھی خطے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے
مصنف کے مطابق جوہری ہتھیاروں سے لیس آبدوزوں کی مسلسل موجودگی اور کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تعیناتی پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے سے موجود بداعتمادی کو مزید بڑھا سکتی ہے
انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ایک انتخابی جلسے میں دیے گئے بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارت کے جوہری ہتھیار دیوالی کے لیے نہیں رکھے گئے مصنف کے نزدیک ایسے بیانات جوہری ہتھیاروں سے متعلق غیر ذمہ دارانہ سیاسی زبان کی مثال ہیں
مضمون کے مطابق پاکستان اور بھارت دونوں جوہری صلاحیت رکھنے والے ممالک ہیں اور ان کے درمیان کسی بھی فوجی تصادم کے نتائج صرف دونوں ملکوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے جنوبی ایشیا اور عالمی معیشت کو متاثر کر سکتے ہیں
مصنف نے معروف فوجی مؤرخ مارٹن وان کریویلڈ کے جنگ سے متعلق نظریے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جوہری دور میں جنگ کا بنیادی مقصد فتح حاصل کرنا نہیں بلکہ مخالف فریق کو جنگ سے باز رکھنا ہوتا ہے
ان کے مطابق بھارت کی جانب سے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے آبدوز بردار میزائلوں کی تعیناتی سے اس کی جوہری دفاعی صلاحیت مضبوط ہوئی ہے یا اس میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں، اس سوال پر بھارتی دفاعی ماہرین کو بھی غور کرنا چاہیے
مجموعی طور پر مضمون میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کے باعث دونوں ممالک کے لیے فوجی احتیاط، میزائل تجربات کے بارے میں پیشگی اطلاع، سفارتی رابطوں اور بحران کے دوران مؤثر مواصلاتی نظام کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے کسی غلط اندازے یا غیر ذمہ دارانہ فوجی فیصلے کے نتائج لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسانی زندگیوں کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں
نوٹ: یہ ڈاکٹر راشد ولی جنجوعہ کے دفاعی تجزیے کی تفصیلی اردو تشکیل ہے بھارت سے متعلق الزامات اور تشریحات مصنف کے مؤقف کے طور پر پیش کیے گئے ہیں

قومی خبریں سے مزید