Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان میں صحافیوں کے خلاف مقدمات اور قانونی کارروائیوں کا نیا ہتھیار، آزادی صحافت کو سنگین خطرات لاحق

پاکستان میں صحافیوں کے خلاف مقدمات اور قانونی کارروائیوں کا نیا ہتھیار، آزادی صحافت کو سنگین خطرات لاحق

پاکستان میں صحافت کے لیے خطرات کی نوعیت تبدیل ہوتی جا رہی ہے صحافیوں کو پہلے تشدد، اغوا، دھمکیوں اور قتل جیسے خطرات کا سامنا تھا، لیکن اب قانونی مقدمات، سائبر کرائم کی تحقیقات اور عدالتی کارروائیوں کے ذریعے بھی صحافیوں کو دباؤ میں رکھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے اس طریقہ کار کو عالمی سطح پر ’لا فیئر‘ کہا جاتا ہے، جس سے مراد قانون اور عدالتی نظام کو کسی شخص یا ادارے کو دباؤ میں لانے یا خاموش کرنے کے لیے استعمال کرنا ہے
پاکستان میں میڈیا کی آزادی پر کام کرنے والے ادارے فریڈم نیٹ ورک کی تازہ سالانہ رپورٹ 2026 کے مطابق اکتوبر 2025 سے اگست 2026 کے دوران صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے خلاف مجموعی طور پر 78 واقعات ریکارڈ کیے گئے رپورٹ کا عنوان ’’تشدد سے قانونی محاصرے تک، صحافیوں کے لیے قانونی کارروائی بطور سزا‘‘ رکھا گیا ہے
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صحافیوں کے خلاف خلاف ورزیوں کی مجموعی تعداد میں کمی ضرور آئی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ صحافی پہلے سے زیادہ محفوظ ہو گئے ہیں ملک بھر میں اوسطاً ہر ماہ تقریباً 10 واقعات پیش آئے، جو صحافتی آزادی اور تحفظ کی خراب صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں
رپورٹ میں درج واقعات کی تفصیلات کے مطابق اس عرصے میں صحافت سے وابستہ ایک شخص کو کام کے دوران قتل کیا گیا، 3 صحافیوں پر قاتلانہ حملے ہوئے، 18 کو قتل یا جسمانی نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی گئیں، 11 کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، 13 کے خلاف قانونی کارروائیاں ہوئیں جبکہ 32 کو قانونی کارروائی کی دھمکیاں دی گئیں
صوبائی اعتبار سے پنجاب میں سب سے زیادہ 49 واقعات سامنے آئے، جو مجموعی تعداد کے نصف سے بھی زیادہ ہیں اس کے بعد خیبر پختونخوا، اسلام آباد اور بلوچستان میں صحافیوں کو مختلف نوعیت کے خطرات کا سامنا کرنا پڑا رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل میڈیا اور آزاد صحافت سے وابستہ صحافی خاص طور پر نشانے پر رہے
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تقریباً دو تہائی واقعات میں متاثرہ صحافیوں یا ان کے خاندانوں نے سرکاری اداروں اور حکام کو مبینہ طور پر ان کارروائیوں کا ذمہ دار قرار دیا تاہم یہ الزامات متاثرہ افراد کے مؤقف پر مبنی ہیں
پیکا قانون کے ذریعے صحافیوں پر دباؤ
رپورٹ میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ یعنی پیکا قانون کے بڑھتے ہوئے استعمال پر خصوصی تشویش ظاہر کی گئی ہے اس قانون کے تحت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی کارروائیاں صحافیوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہیں
رپورٹ کے مطابق سرکاری اخراجات، کرپشن، حکام کی کارکردگی اور عوامی معاملات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے خلاف ہتک عزت، جھوٹی معلومات پھیلانے، ہراسانی اور ساکھ کو نقصان پہنچانے جیسے الزامات کے تحت کارروائیاں کی جاتی ہیں
اس کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات کسی صحافی کے خلاف مقدمہ درج ہونے یا جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی قانونی کارروائی اس کے لیے سزا بن جاتی ہے تفتیش کے لیے طلبی، موبائل فون اور دیگر آلات کی جانچ، سفر کے اخراجات، وکیلوں کی بھاری فیس، گرفتاری یا حراست اور بار بار پیشیوں کے باعث صحافی مالی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں
رپورٹ کے مطابق ایسے معاملات میں بعض صحافیوں کو ضمانت یا عارضی قانونی تحفظ تو مل جاتا ہے، لیکن انہیں مکمل طور پر الزامات سے بری ہونے اور اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے طویل قانونی جنگ لڑنا پڑتی
رپورٹ میں پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے قائم اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں وفاقی سطح پر صحافیوں کے تحفظ کا نظام عملاً غیر فعال قرار دیا گیا ہے، جبکہ سندھ میں قائم کمیشن اگرچہ زیادہ نمایاں ہے، لیکن کراچی سے باہر صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں اس کی رسائی اور کارکردگی محدود رہی ہے
رپورٹ تیار کرنے میں انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ نے تکنیکی معاونت فراہم کی اسے صحافی عدنان رحمت اور فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک نے مرتب کیا
اقبال خٹک کے مطابق صحافیوں کے خلاف جرائم میں سزا سے استثنیٰ کا مسئلہ اب صرف تشدد کرنے والوں کو سزا نہ ملنے تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ دباؤ ڈالنے کے ایک وسیع نظام کی شکل اختیار کر رہا ہے
پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے 2 قوانین اور وفاقی و سندھ کی سطح پر کمیشن قائم ہونے کے باوجود صورتحال میں بہتری نہ آنا ایک اہم سوال ہے اگر صحافی عوامی اخراجات، حکومتی پالیسیوں، کرپشن اور سرکاری اداروں کی کارکردگی پر آزادانہ رپورٹنگ نہیں کر سکیں گے تو عوام تک درست معلومات پہنچانے کا عمل بھی متاثر ہوگا
آزادی صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کا بنیادی ستون ہے صحافیوں کو تشدد سے بچانے کے ساتھ ساتھ انہیں ایسے قانونی دباؤ سے محفوظ رکھنا بھی ضروری ہے جس کے ذریعے انہیں خاموش کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے قانون کا مقصد انصاف فراہم کرنا ہے، نہ کہ اختلافی آوازوں کو دبانے کا ذریعہ بننا

قومی خبریں سے مزید