مڈٹرم انتخابات سے قبل ٹرمپ کی سیاسی اسٹیج پر واپسی، ڈیلس میں حامیوں کے درمیان طنز و مزاح ، سیاسی مبالغہ آمیزی کے تاریخی مظاہرے
امریکا میں مڈٹرم انتخابات قریب آتے ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر بڑے سیاسی اجتماع کے اسٹیج پر اپنی مخصوص جارحانہ اور طنزیہ سیاست کے ساتھ واپس آگئے،ڈیلس میں ری پبلکن کنونشن کے دوران ٹرمپ نے اپنے حامیوں کے سامنے طویل خطاب کیا، جہاں شرکا نے ان کے متنازعہ دعووں پر بھی بھرپور پذیرائی دی اور ان کے سیاسی لطیفوں پر خوب داد دی
یہ اجتماع ٹرمپ کے لیے محض ایک انتخابی تقریر نہیں بلکہ ان کی سیاسی شخصیت کے اس پہلو کا مظہر تھا جس میں وہ خود کو ایک غیر معمولی سیاسی کردار کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اپنے حامیوں سے براہ راست جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں،مڈٹرم انتخابات کے تناظر میں ری پبلکن پارٹی کے لیے یہ اجتماعات خاص اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ صدر کی مقبولیت اور ان کی انتخابی مہم کا اثر نومبر کے انتخابات میں پارٹی کی کارکردگی پر پڑ سکتا ہے
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے سیاسی انداز میں خود کو ایک تاریخی اور غیر معمولی شخصیت کے طور پر پیش کرنے کا عنصر نمایاں رہا ہے،اسی تناظر میں میڈیا رپورٹس میں شمالی کوریا کے کم ال سونگ، چین کے ماؤ زے تنگ اور لیبیا کے معمر قذافی کی مثالیں دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں لکھا گیا کہ ان رہنماؤں نے بڑھاپے سے بچنے کے لیے مختلف طریقے آزمائے، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے جوانی کا راز ایسی ہی سیاسی راتوں میں پوشیدہ ہے
ڈیلس کا اجتماع اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ ٹرمپ اب بھی ری پبلکن جماعت کے ایک بڑے حصے کے لیے غیر معمولی سیاسی کشش رکھتے ہیں،ان کے حامی ان کے دعووں اور مزاحیہ انداز کو جوش و خروش سے قبول کرتے ہیں، جبکہ مخالفین اسے سیاسی مبالغہ، خود سری اور حقیقت سے دور بیانیے کی ایک اور مثال قرار دیتے ہیں
مڈٹرم انتخابات کی مہم تیز ہونے کے ساتھ ٹرمپ کا یہ انداز اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ انتخابی سیاست میں ایک بار پھر اپنی شخصیت کو ری پبلکن مہم کا مرکزی محور بنانے کی کوشش کر رہے ہیں





