ڈی این اے ٹیکنالوجی پاکستان میں حشرات کی تحقیق کا نقشہ بدلنے لگی، ہزاروں اقسام کی شناخت کا نیا راستہ کھل گیا

ڈی این اے ٹیکنالوجی پاکستان میں حشرات کی تحقیق کا نقشہ بدلنے لگی، ہزاروں اقسام کی شناخت کا نیا راستہ کھل گیا

پاکستان میں حشرات کی دنیا آج بھی بڑی حد تک پراسرار ہے، تاہم ڈی این اے بارکوڈنگ، جینیاتی ڈیٹا، بایو انفارمیٹکس اور مصنوعی ذہانت نے سائنس دانوں کے لیے ایسے حشرات کی شناخت اور تحقیق کے نئے راستے کھول دیے ہیں جنہیں صرف ظاہری شکل دیکھ کر پہچاننا مشکل ہوتا ہے پاکستان میں گھاس پھوس کے خشک علاقوں کے ٹڈوں سے لے کر جنگلات کی تتلیوں اور پتنگوں، فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں، مردہ مادے کو ختم کرنے والے بھنوروں اور بیماری پھیلانے والے مچھروں تک حشرات کی بے شمار اقسام موجود ہیں، لیکن ان میں سے بہت سی اقسام کے بارے میں ابھی مکمل معلومات دستیاب نہیں
روایتی طور پر کسی کیڑے کی شناخت کے لیے اسے خوردبین کے نیچے رکھ کر اس کی جسمانی خصوصیات کا جائزہ لیا جاتا اور پہلے سے موجود سائنسی ریکارڈز سے موازنہ کیا جاتا تھا مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب 2 مختلف اقسام ظاہری طور پر ایک جیسی دکھائی دیں، یا کوئی نمونہ کم عمر، خراب یا نامکمل حالت میں ہو ایسے حالات میں ڈی این اے بارکوڈنگ ایک اہم ذریعہ بن جاتی ہے، جس کے ذریعے خلیے کے اندر موجود جینیاتی معلومات کو استعمال کرکے حشرے کی شناخت اور اس کے قریبی رشتہ داروں کا تعین کیا جاسکتا ہے
پاکستان میں حشرات کی حیاتیاتی تنوع پر کیے گئے ایک بڑے ڈی این اے بارکوڈ سروے کے دوران 2010 سے 2019 کے درمیان 1,858 مقامات سے نمونے جمع کیے گئے اس تحقیق سے 50,592 ڈی این اے بارکوڈ ریکارڈز تیار ہوئے، جن میں سے 49,363 نمونوں کو 6,590 جینیاتی گروپس میں تقسیم کیا گیا حیران کن بات یہ سامنے آئی کہ ان جینیاتی گروپس میں سے صرف 21 فیصد کو عالمی ڈیٹا بیس میں پہلے سے موجود کسی باقاعدہ سائنسی نام کے ساتھ ملایا جاسکا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں حشرات کی بڑی تعداد ابھی تک مکمل طور پر شناخت نہیں ہوسکی
ڈی این اے ڈیٹا سے محققین کو یہ بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ کن علاقوں میں مزید تحقیق اور نمونوں کی ضرورت ہے اس طرح سائنس دان نامعلوم حشرات کو تلاش کرکے ان کی درجہ بندی اور باقاعدہ سائنسی نام دینے کی طرف بڑھ سکتے ہیں مختلف ممالک کے محققین اگر اپنا ڈیٹا ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کریں تو پاکستان میں پائے جانے والے کئی نامعلوم حشرات کی شناخت مزید تیزی سے ممکن ہوسکتی ہے
اس ٹیکنالوجی کی اہمیت زراعت میں خاص طور پر بڑھ جاتی ہے مثال کے طور پر سفید مکھی بظاہر ایک ہی قسم کی معمولی سی سفید مکھی دکھائی دیتی ہے، لیکن جینیاتی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس کے اندر کئی قریبی اقسام اور جینیاتی گروپس موجود ہیں۔ یہ گروپس فصلوں میں وائرس پھیلانے اور کیڑے مار ادویات کے خلاف مزاحمت کے معاملے میں ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتے ہیں
پاکستان میں سفید مکھی کے نمونے پنجاب اور سندھ کے 255 مقامات سے جمع کیے گئے تھے۔ تحقیق میں 173 ریکارڈز شامل کیے گئے اور انہیں 15 جینیاتی گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ اس دوران ایک ایسا جینیاتی گروپ بھی سامنے آیا جسے پاکستان کے نام سے نشان زد کیا گیا، جس سے ظاہر ہوا کہ صرف ظاہری شکل کی بنیاد پر حشرات کی شناخت کرنا کئی مرتبہ ناکافی ہوسکتا ہے
بعد کی تحقیق میں سفید مکھی کے پورے جینوم کا موازنہ بھی کیا گیا سائنس دانوں کو ڈی این اے میں تقریباً 2.33 ملین ایک حرفی جینیاتی اختلافات اور 202,479 اضافی جینیاتی تبدیلیاں ملیں تحقیق میں ایسے 14 جینز میں بھی تبدیلیاں شناخت کی گئیں جن کا تعلق کیڑے مار ادویات کے خلاف ممکنہ مزاحمت سے پہلے ہی جوڑا جاچکا ہے
تاہم ماہرین کے مطابق کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت صرف ممکنہ شواہد تک پہنچنے میں مدد دے سکتے ہیں کسی جینیاتی تبدیلی کا اسکرین پر اہم نظر آنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ حشرے کو واقعی کیڑے مار دوا سے بچنے کے قابل بناتی ہے اس کے لیے لیبارٹری تجربات اور پھر کھیتوں میں عملی نگرانی ضروری ہے یوں حشرات کی مزاحمت سمجھنے کے لیے بایو انفارمیٹکس، لیبارٹری تجربات اور مسلسل فیلڈ مانیٹرنگ تینوں کا امتزاج ضروری ہے
کپاس کو نقصان پہنچانے والے گلابی سنڈی کے بارے میں بھی جینیاتی تحقیق سے اہم معلومات حاصل کی جارہی ہیں سائنس دانوں نے پنجاب اور سندھ سمیت مختلف علاقوں سے حاصل کیے گئے نمونوں کا جینیاتی موازنہ کیا ہے جبکہ پنجاب کے 17 اضلاع کے ریکارڈ، لیبارٹری مشاہدات اور درجہ حرارت پر مبنی ماڈلز کے ذریعے مستقبل میں اس کیڑے کے پھیلاؤ کا اندازہ لگانے کی کوشش بھی کی گئی ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو مچھروں، فصلوں کے نقصان دہ کیڑوں، پولینیٹرز اور فائدہ مند حشرات کے لیے ایک مضبوط قومی جینیاتی ڈیٹا نیٹ ورک قائم کرنا چاہیے اگر فیصل آباد سے حاصل ہونے والے کسی حشرے کا ڈی این اے ریکارڈ سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے نمونوں کے ساتھ آسانی سے ملایا جاسکے تو ملک میں حشرات کی نقل و حرکت، جینیاتی تبدیلیوں اور بیماری یا فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں کے پھیلاؤ کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھا جاسکے گا
تاہم ڈی این اے ٹیکنالوجی ہر مسئلے کا مکمل حل نہیں غلط شناخت، ڈی این اے میں آلودگی، نامکمل ڈیٹا بیس، کم تعداد میں نمونے اور نمونوں کے مقام یا وقت کی نامکمل معلومات نتائج کو متاثر کرسکتی ہیں۔ اسی لیے سائنس دانوں کے مطابق جدید کمپیوٹرائزڈ تحقیق کو روایتی فیلڈ ورک، حشرات کی درجہ بندی اور لیبارٹری تجربات کا متبادل نہیں بلکہ ان سب کو جوڑنے والا ذریعہ سمجھنا چاہیے
پاکستان نے حشرات کی ڈی این اے بارکوڈنگ کے میدان میں ایک اہم ابتدائی قدم اٹھا لیا ہے، لیکن ملک میں موجود حشرات کی حقیقی حیاتیاتی تنوع کو سمجھنے کے لیے مزید فیلڈ سروے، بہتر حوالہ جاتی مجموعے، ڈیٹا شیئرنگ اور ایسے ماہرین کی ضرورت ہے جو حشرات کی سائنس کے ساتھ بایو انفارمیٹکس اور جینیاتی تجزیے میں بھی مہارت رکھتے ہوں جدید تحقیق اب کسی حشرے کو صرف اس کی ظاہری شکل سے نہیں دیکھ رہی بلکہ اس کے ڈی این اے میں محفوظ جینیاتی معلومات کو بھی اس کی شناخت اور مستقبل کو سمجھنے کی ایک اہم کنجی قرار دے رہی ہے

قومی خبریں سے مزید