ہانگ کانگ عدالت نے وال اسٹریٹ جرنل کے پبلشر کو صحافی کے یونین عہدے میں رکاوٹ ڈالنے پر مجرم قرار دیدیا
ہانگ کانگ کی عدالت نے وال اسٹریٹ جرنل کے پبلشر ڈاؤ جونز پبلشنگ کمپنی کو سابق صحافی سیلینا چینگ کو صحافتی یونین کی سربراہ بننے سے روکنے کی کوشش پر مجرم قرار دے دیا، تاہم عدالت نے انہیں ملازمت سے غیرقانونی طور پر برطرف کرنے کے الزام میں کمپنی کو بری کردیا
مجسٹریٹ ڈیوڈ چیونگ نے قرار دیا کہ ڈاؤ جونز نے جون 2024 میں سیلینا چینگ کو ہانگ کانگ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی قیادت کے لیے انتخاب لڑنے سے روکنے کی کوشش کرکے ہانگ کانگ کے ٹریڈ یونینز آرڈیننس کے تحت حاصل ان کے حق کی خلاف ورزی کی،کمپنی نے ان سے یونین عہدے کے لیے پیشگی اجازت لینے کا تقاضا کیا تھا، جبکہ عدالت کے مطابق یہ شرط ان کے قانونی حق میں رکاوٹ تھی
چینگ، جو 2022 سے 2024 تک وال اسٹریٹ جرنل کے لیے چین کے توانائی اور آٹو موبائل شعبے کی رپورٹنگ کرتی رہی تھیں، نے جون 2024 میں صحافتی یونین کی چیئرپرسن کا انتخاب جیت لیا تھا،اس سے قبل ان کا کہنا تھا کہ اخبار کے سینئر ایڈیٹرز نے ان پر یونین سے تعلق ختم کرنے اور ہانگ کانگ میں آزادی صحافت کے لیے سرگرمیوں سے گریز کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا
چینگ کو جولائی 2024 میں وال اسٹریٹ جرنل سے برطرف کردیا گیا،انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی برطرفی یونین سرگرمیوں سے انکار نہ کرنے کا نتیجہ تھی، تاہم کمپنی نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے معاملے کو تنظیم نو سے متعلق قرار دیا تھا،عدالت نے برطرفی کے الزام میں کمپنی کو اس لیے بری کیا کہ دستیاب شواہد سے یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ انہیں یونین سرگرمیوں کی وجہ سے ہی ملازمت سے نکالا گیا تھا
چینگ نے عدالتی فیصلے کو صحافیوں کے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا ہے،یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہانگ کانگ میں آزادی صحافت اور صحافتی اداروں کی آزادی پر مسلسل سوالات اٹھائے جارہے ہیں،ڈاؤ جونز کے خلاف سزا کا اعلان بعد میں کیا جائے گا، جبکہ ہر الزام پر زیادہ سے زیادہ 100,000 ہانگ کانگ ڈالر جرمانہ ہوسکتا ہے





