لیک اونٹاریو کا نام ’’لیک امریکا‘‘ رکھنے کی کوشش، تاریخ بتاتی ہے امریکا کا نام بھی ایک اطالوی ایکسپلورر سے منسوب ہے

لیک اونٹاریو کا نام ’’لیک امریکا‘‘ رکھنے کی کوشش، تاریخ بتاتی ہے امریکا کا نام بھی ایک اطالوی ایکسپلورر سے منسوب ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لیک اونٹاریو کو ’’لیک امریکا‘‘ کا نام دینے کے فیصلے نے کینیڈا اور امریکا کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں ایک اور دلچسپ اور علامتی تنازع کھڑا کر دیا ہے تاہم اس نام کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے کہ ’’امریکا‘‘ کا نام خود کسی امریکی صدر یا امریکی ریاست کے نام سے نہیں بلکہ اطالوی ایکسپلورر امیریکو ویسپوچی کے نام سے نکلا ہے
لیک اونٹاریو کا نام صدیوں پرانا ہے اور اس کی جڑیں مقامی Indigenous زبانوں میں ملتی ہیں۔ ’’اونٹاریو‘‘ کو عموماً ہورون وینڈاٹ زبان کے لفظ سے منسوب کیا جاتا ہے، جس کا مفہوم ’’بڑی یا خوبصورت جھیل‘‘ کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ یہ نام یورپی آبادکاری سے پہلے مقامی لوگوں کے استعمال میں تھا اور بعد میں جغرافیائی نقشوں کا حصہ بنا
اس کے برعکس ’’امریکا‘‘ کا نام 16ویں صدی کے آغاز میں یورپی نقشہ سازوں کے ذریعے استعمال میں آیا۔ جرمن نقشہ ساز مارٹن والڈزیمولر نے 1507 میں ایک نقشے پر جنوبی امریکا کے لیے ’’امریکا‘‘ کا نام استعمال کیا، جو امیریکو ویسپوچی کے پہلے نام کی لاطینی شکل ’’امیریکس‘‘ سے بنایا گیا تھا۔ بعد میں یہ نام شمالی اور جنوبی دونوں براعظموں کے لیے استعمال ہونے لگا
تاریخی ریکارڈ کے مطابق ویسپوچی فلورنس کا تاجر اور مہم جو تھا جس نے نئی دنیا کے سفر کیے اور اس نتیجے تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کیا کہ یورپی مہم جو ایشیا نہیں بلکہ ایک الگ نئی سرزمین تک پہنچے تھے۔ اگرچہ وہ امریکا دریافت کرنے والا پہلا شخص نہیں تھا، لیکن اس کے نام کو نقشہ سازی کے ذریعے نئی دنیا کے نام کے طور پر شہرت مل گئی
یہی پہلو موجودہ تنازع کو مزید دلچسپ بناتا ہے ایک طرف لیک اونٹاریو کا نام مقامی Indigenous تاریخ اور صدیوں پرانی جغرافیائی شناخت سے جڑا ہوا ہے، جبکہ دوسری طرف ’’لیک امریکا‘‘ کا نام ایک ایسے یورپی ایکسپلورر کے پہلے نام سے نکلا ہے جس کا شمالی امریکا کی اس جھیل سے براہ راست تعلق نہیں تھا
تاریخی طور پر لیک اونٹاریو کا نام کینیڈا کے وجود میں آنے سے بھی بہت پہلے استعمال ہوتا تھا بعد میں اسی جھیل کے نام پر صوبہ اونٹاریو کا نام رکھا گیا اس لیے ’’لیک اونٹاریو‘‘ صرف ایک جغرافیائی نام نہیں بلکہ کینیڈا کے ایک بڑے صوبے کی تاریخی شناخت سے بھی جڑا ہوا ہے
ٹرمپ کی جانب سے نام تبدیل کرنے کی کوشش کا اطلاق بنیادی طور پر امریکی وفاقی حکومت کے نقشوں، دستاویزات اور ڈیٹا بیس پر ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ کینیڈا نے لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کر دیا ہے یا دونوں ممالک کے درمیان اس جھیل کا سرکاری نام مشترکہ طور پر تبدیل ہو گیا ہے کینیڈا میں جھیل اب بھی لیک اونٹاریو ہی ہے
یہ معاملہ محض نام کی تبدیلی تک محدود نہیں ناقدین کے مطابق مقامی Indigenous ناموں کو ہٹا کر یورپی یا سیاسی نام مسلط کرنا شمالی امریکا کی نوآبادیاتی تاریخ کا ایک پرانا حصہ رہا ہے اسی لیے لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے کی کوشش کو بعض حلقے محض ایک علامتی یا مزاحیہ اقدام کے بجائے تاریخی شناخت اور مقامی ثقافت سے جڑا معاملہ قرار دے رہے ہیں
یوں ’’لیک امریکا‘‘ کی بحث نے ایک دلچسپ تاریخی سوال بھی سامنے رکھ دیا ہے کہ اگر امریکا کا نام خود ایک اطالوی ایکسپلورر کے نام سے نکلا تھا تو کیا صدیوں پرانے Indigenous نام کو ہٹا کر اسی نام کو ایک اور جغرافیائی مقام پر مسلط کرنا تاریخ کو تبدیل کرنے کے مترادف نہیں ہوگا؟ لیک اونٹاریو کے نام کی بحث اب کینیڈا اور امریکا کے موجودہ سیاسی اختلاف سے نکل کر تاریخ، Indigenous شناخت اور نوآبادیاتی ورثے کی بحث بھی بن چکی ہے

قومی خبریں سے مزید