کیلیفورنیا: نو مور ڈی ایم وی , ریپبلکن امیدوار اسٹیو ہلٹن نے گاڑیوں کی سالانہ رجسٹریشن 73 ڈالر مقرر کرنے کی تجویز دے دی

کیلیفورنیا: نو مور ڈی ایم وی , ریپبلکن امیدوار اسٹیو ہلٹن نے گاڑیوں کی سالانہ رجسٹریشن 73 ڈالر مقرر کرنے کی تجویز دے دی

کیلیفورنیا کے ریپبلکن گورنر امیدوار اسٹیو ہلٹن نے ریاست کے محکمہ موٹر وہیکلز، یعنی ڈی ایم وی، کو موجودہ شکل میں ختم کرنے اور گاڑیوں کی سالانہ رجسٹریشن فیس صرف 73 ڈالر مقرر کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا ہے،ہلٹن نے یہ اعلان 8 ستمبر کو ویسٹ ہالی وڈ کے ایک ڈی ایم وی دفتر کے باہر کیا اور ادارے کو ایک ایسی سرکاری اجارہ داری قرار دیا جو شہریوں کو طویل قطاروں، پیچیدہ کارروائیوں اور بھاری اخراجات کا سامنا کراتی ہے
ہلٹن کے مطابق ان کا منصوبہ محض ڈی ایم وی کے دفاتر بند کرنے کا نہیں بلکہ پورے نظام کی تنظیم نو کا ہے،ان کی تجویز کے تحت ڈی ایم وی کو پہلے 3 ماہ کے مالی اور انتظامی جائزے سے گزارا جائے گا، جس کے بعد اسے ایک علیحدہ ریاستی محکمہ رکھنے کا نظام ختم کیا جائے گا،ڈرائیونگ لائسنس، شناختی دستاویزات، دھوکا دہی کی روک تھام، ریئل آئی ڈی اور دیگر بنیادی حفاظتی و ریکارڈ ذمہ داریاں ایک نسبتاً چھوٹے ریاستی ادارے کے پاس رہیں گی
دوسری جانب گاڑیوں کے ٹائٹل، رجسٹریشن اور تجدید جیسے معمول کے کام کاؤنٹی دفاتر اور تصدیق شدہ مقامی سروس مراکز کو منتقل کرنے کی تجویز ہے،ہلٹن کی مہم کا کہنا ہے کہ کسی ڈی ایم وی فیلڈ آفس کو اس وقت تک بند نہیں کیا جائے گا جب تک اس علاقے کے شہریوں کے لیے اس کے برابر یا اس سے بہتر ذاتی طور پر دستیاب سروس متبادل فراہم نہ ہو
ہلٹن کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا کے موجودہ نظام میں بنیادی رجسٹریشن فیس کے علاوہ گاڑی کی قیمت کے حساب سے ٹیکس، ٹرانسپورٹیشن چارجز اور مقامی اضافی فیسیں شامل ہوجاتی ہیں، جس کے باعث بعض گاڑی مالکان کو سالانہ رجسٹریشن پر سینکڑوں سے لے کر 1,000 ڈالر سے زیادہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے،ان کا منصوبہ اس پورے نظام کو تبدیل کرکے سالانہ رجسٹریشن کی حد 73 ڈالر مقرر کرنا ہے
ہلٹن کی مہم کے مطابق اس تبدیلی سے ریاست کی گاڑیوں کی رجسٹریشن سے حاصل ہونے والی آمدنی تقریباً 11 ارب ڈالر سے کم ہوکر 2.7 ارب ڈالر رہ جائے گی،ان کے مطابق اس کمی کو ریاستی اخراجات میں بچت کے ایک الگ منصوبے کے ذریعے پورا کیا جائے گا جسے ان کی مہم نے ’’آپریشن زیرو ویسٹ‘‘ کا نام دیا ہے
ہلٹن نے ڈی ایم وی کو ’’اجارہ داری‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیلیفورنیا کو بہتر ڈی ایم وی قطار کی نہیں بلکہ ایسی صورتحال کی ضرورت ہے جہاں شہریوں کو قطار میں کھڑا ہی نہ ہونا پڑے،ان کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام میں شہریوں کو سرکاری کارروائی کے لیے اپنا وقت اور کام قربان کرنا پڑتا ہے، جبکہ رجسٹریشن کی مجموعی لاگت بھی بہت زیادہ ہے
تجویز کے تحت ڈی ایم وی کی وہ جائیدادیں بھی، جن کی مستقبل میں ضرورت باقی نہ رہے، پہلے کمیونٹی کالجوں اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کے لیے پیش کی جائیں گی اور اس کے بعد انہیں فروخت کرنے کا آپشن رکھا جائے گا،تاہم اس منصوبے کو نافذ کرنے کے لیے ریاستی قانون سازی درکار ہوگی، جس کے لیے ہلٹن کی مہم نے مجوزہ قانون کو ’’نو مور ڈی ایم وی ایکٹ‘‘ کا نام دیا ہے
اسٹیو ہلٹن نومبر کے گورنر انتخابات میں ڈیموکریٹ زیویئر بیسیرا کے مدمقابل ہیں،ہلٹن نے جون کی پرائمری میں ریپبلکن امیدواروں میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے عام انتخابات میں جگہ بنائی، جبکہ بیسیرا ڈیموکریٹک امیدوار کے طور پر آگے آئے
ڈی ایم وی کے خاتمے کی تجویز ہلٹن کی اس وسیع تر انتخابی مہم کا حصہ ہے جس میں وہ کیلیفورنیا میں حکومتی اخراجات، ضوابط اور شہریوں پر عائد مختلف اخراجات کم کرنے کا وعدہ کر رہے ہیں،ان کی انتخابی مہم میں گھر، بجلی، پٹرول اور ٹیکسوں کی لاگت کم کرنے کے وعدے بھی شامل ہیں
اس تجویز کا بنیادی سوال یہ ہوگا کہ کیا ڈی ایم وی کے موجودہ کام واقعی کم خرچ اور زیادہ مؤثر طریقے سے کاؤنٹی حکومتوں اور مقامی سروس مراکز کو منتقل کیے جاسکتے ہیں، اور کیا ریاست 73 ڈالر کی مقررہ رجسٹریشن فیس کے بعد اربوں ڈالر کی آمدنی میں ممکنہ کمی کو دوسرے اخراجات کم کرکے پورا کرسکتی ہے،فی الحال یہ ایک انتخابی منصوبہ ہے، نافذ شدہ پالیسی نہیں، اور اس پر عمل درآمد کے لیے ریاستی قانون میں تبدیلی ضروری ہوگی

قومی خبریں سے مزید