Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ کی مڈٹرم ریلی یا ریپبلکن امیدواروں کا امتحان؟ ڈلاس کنونشن سے پہلے پارٹی میں کھلی تقسیم

ٹرمپ کی مڈٹرم ریلی یا ریپبلکن امیدواروں کا امتحان؟ ڈلاس کنونشن سے پہلے پارٹی میں کھلی تقسیم

ڈیلس : ریپبلکن پارٹی اس ہفتے ڈیلس میں اپنی غیر معمولی مڈٹرم کنونشن کی تیاری کر رہی ہے، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی پارٹی کے اندر یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ نومبر کے انتخابات سے صرف چند ہفتے پہلے ٹرمپ کو انتخابی مہم کا مرکزی چہرہ بنانا ریپبلکن امیدواروں کے لیے فائدہ مند ہوگا یا نقصان دہ
9 اور 10 ستمبر کو ڈلاس میں ہونے والی یہ دو روزہ تقریب امریکی سیاسی روایت میں غیر معمولی ہے، کیونکہ مڈٹرم انتخابات کے دوران اس نوعیت کا قومی سطح کا ریپبلکن کنونشن عام طور پر نہیں ہوتا،ٹرمپ نے خود اس تقریب کو اپنی سیاسی مہم کا اہم حصہ بنایا ہے،نائب صدر جے ڈی وینس بھی خطاب کریں گے جبکہ ٹرمپ دونوں راتوں میں نمایاں کردار ادا کریں گے،ریپبلکن قیادت کا مقصد ٹرمپ کے حامیوں، خصوصاً کم شرح سے ووٹ ڈالنے والے ’’میگا‘‘ ووٹرز کو متحرک کرنا اور نومبر کے انتخابات میں ان کی شرکت یقینی بنانا ہے
لیکن پارٹی کے اندر ہی کچھ امیدواروں اور سیاسی حکمتِ عملی بنانے والوں کو خدشہ ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ انتہائی نمایاں طور پر کھڑا ہونا ان امیدواروں کے لیے مسئلہ بن سکتا ہے جو سخت مقابلے والی نشستوں پر الیکشن لڑ رہے ہیں،بعض ریپبلکن امیدوار کنونشن سے دور رہنے یا اپنی موجودگی محدود رکھنے کا فیصلہ کر رہے ہیں تاکہ اپنی مہم کو مقامی مسائل، معیشت اور اپنے حلقوں کے معاملات تک محدود رکھ سکیں
یہ تقسیم بنیادی طور پر ایک سوال پر ہے،کیا ٹرمپ کی موجودگی ریپبلکن ووٹرز کو بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنوں تک لائے گی، یا ان کی موجودہ مقبولیت کے مسائل معتدل اور آزاد ووٹرز کو ریپبلکن امیدواروں سے دور کر سکتے ہیں؟
حالیہ رائے عامہ کے جائزوں میں ٹرمپ کی مجموعی منظوری کمزور دکھائی دے رہی ہے،فنانشل ٹائمز کے تازہ سروے میں صرف 33 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے ان کی کارکردگی کی منظوری دی، جبکہ 57 فیصد نے کہا کہ وہ ٹرمپ کے دور میں مالی طور پر پہلے سے بدتر حالت میں ہیں،اسی سروے میں تقریباً نصف آزاد ووٹرز نے کہا کہ ٹرمپ کی حمایت ان کے امیدوار کے لیے ان کی رائے کو منفی طور پر متاثر کر سکتی ہے
تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی اہم ہے،جو ووٹر ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں، ان میں ریپبلکن امیدواروں کے لیے حمایت خاصی مضبوط ہے، پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق ٹرمپ کے حامی ووٹرز میں ریپبلکن امیدواروں کی حمایت نمایاں طور پر زیادہ ہے، جبکہ ٹرمپ کو سخت ناپسند کرنے والے ووٹرز بڑی تعداد میں ڈیموکریٹ امیدواروں کی طرف جھکتے ہیں،اس لیے ریپبلکن پارٹی کے لیے ٹرمپ سے مکمل فاصلہ اختیار کرنا بھی آسان نہیں
یہی وجہ ہے کہ ڈیلس کا کنونشن محض ایک سیاسی اجتماع نہیں بلکہ ریپبلکن پارٹی کی موجودہ حکمتِ عملی کا عملی مظاہرہ بن گیا ہے
پارٹی قیادت کا حساب یہ ہے کہ ٹرمپ کی شخصیت اور ان کی سیاسی تحریک ریپبلکن ووٹرز میں وہ جوش پیدا کر سکتی ہے جو عام مڈٹرم انتخابات میں کم دکھائی دیتا ہے،لیکن مشکل یہ ہے کہ نومبر میں بیلٹ پر ٹرمپ کا نام خود امیدوار کے طور پر نہیں ہوگا،اس لیے ٹرمپ کے حامیوں کو ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نکالنا ایک الگ چیلنج ہے
دوسری طرف ٹرمپ کی سیاسی موجودگی سے بعض امیدواروں کو اس لیے خطرہ محسوس ہو رہا ہے کہ ان کے اپنے حلقوں میں معیشت، مہنگائی اور زندگی گزارنے کی لاگت زیادہ اہم انتخابی موضوعات بن رہے ہیں
اسی تضاد کی ایک واضح مثال ٹیکساس ہے، جہاں ڈلاس کنونشن منعقد ہو رہا ہے،ٹیکساس طویل عرصے سے ریپبلکن پارٹی کا مضبوط گڑھ ہے، لیکن تازہ سیاسی مقابلے میں ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو نے ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن کے خلاف سخت مقابلہ پیدا کر دیا ہے،ٹیکساس پولیٹکس پروجیکٹ کے گزشتہ ماہ کے سروے میں ٹرمپ کی اپنی منظوری بھی ریاست میں 43 فیصد رہی، یعنی 50 فیصد سے کم
یہی وجہ ہے کہ ڈیکس کنونشن کا انتخاب بھی سیاسی طور پر معنی خیز ہے،ریپبلکن پارٹی یہاں صرف اپنی قومی قیادت کو متحد دکھانا نہیں چاہتی بلکہ ٹیکساس میں اپنی سیاسی گرفت برقرار رکھنے کے لیے بھی مہم چلا رہی ہے
ٹرمپ کے سیاسی گروپ کے پاس انتخابی اخراجات کے لیے بہت بڑا مالی ذخیرہ بھی موجود ہے،ٹیکساس میں کین پیکسٹن کی حمایت اور ان کے ڈیموکریٹ حریف کے خلاف تشہیر کے لیے حال ہی میں تقریباً 10 کروڑ ڈالر نہیں بلکہ 1 کروڑ ڈالر کی ڈیجیٹل اور اسٹریمنگ اشتہاری مہم شروع کی گئی ہے، جبکہ ٹرمپ کے سیاسی نیٹ ورک کے پاس مجموعی طور پر 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ کا ذخیرہ موجود بتایا گیا ہے
اس پورے معاملے کا ایک اور پہلو بھی اہم ہے،ٹرمپ چاہتے ہیں کہ 2026 کے مڈٹرم انتخابات کو ان کی صدارت پر ریفرنڈم کے طور پر دیکھا جائے،لیکن جن ریپبلکن امیدواروں کو اپنے حلقوں میں سخت مقابلے کا سامنا ہے، ان کے لیے یہ حکمتِ عملی ہمیشہ آسان نہیں
اس لیے ڈیلس میں اصل مقابلہ صرف ریپبلکن اور ڈیموکریٹ پارٹیوں کے درمیان نہیں بلکہ ریپبلکن پارٹی کے اندر موجود دو انتخابی سوچوں کے درمیان بھی نظر آ رہا ہے
ایک سوچ کہتی ہے کہ ٹرمپ ہی وہ سیاسی قوت ہیں جو ریپبلکن ووٹرز کو متحرک کر سکتی ہے
دوسری سوچ یہ ہے کہ مقابلے والی نشستوں پر امیدواروں کو ٹرمپ کی قومی سیاست سے کچھ فاصلہ رکھ کر اپنے مقامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے
آج سے شروع ہونے والا یہ کنونشن اسی کشمکش کو سب کے سامنے لے آئے گا،ٹرمپ کے حامی اسے پارٹی اتحاد اور انتخابی توانائی کا مظاہرہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ ریپبلکن امیدوار اس بات پر محتاط ہیں کہ نومبر میں ان کی اپنی نشست کا فیصلہ صرف ٹرمپ کے حامیوں سے نہیں بلکہ آزاد اور معتدل ووٹرز سے بھی ہوگا
چنانچہ ڈیلس کا یہ اجتماع ریپبلکن پارٹی کے لیے صرف ایک انتخابی کنونشن نہیں بلکہ ٹرمپ کے سیاسی اثر و رسوخ اور 2026 کے مڈٹرم انتخابات کے درمیان تعلق کا ایک بڑا امتحان بن چکا ہے

قومی خبریں سے مزید