Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

جنگلات کی آگ اور شدید گرمی نے صاف ہوا کی عالمی کوششوں کو خطرے میں ڈال دیا، اقوام متحدہ کا انتباہ

جنگلات کی آگ اور شدید گرمی نے صاف ہوا کی عالمی کوششوں کو خطرے میں ڈال دیا، اقوام متحدہ کا انتباہ

اقوام متحدہ کے عالمی موسمیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ جنگلات میں بڑھتی ہوئی شدید آگ اور شدید گرمی کی لہریں دنیا بھر میں ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید گرمی اور جنگلات کی آگ زیادہ بار اور زیادہ شدت سے آنے کا رجحان ظاہر کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں فضا میں زہریلے آلودہ ذرات کی مقدار بڑھ رہی ہے
رپورٹ کے مطابق جنگلات کی آگ سے پیدا ہونے والے انتہائی باریک ذرات، جنہیں پی ایم 2.5 کہا جاتا ہے، پھیپھڑوں کے اندر گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں اور خون میں بھی شامل ہو سکتے ہیں ان ذرات کو صحت کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے، جبکہ آگ سے پیدا ہونے والی آلودگی ہوا کے ذریعے آگ لگنے کی جگہ سے بہت دور تک پہنچ سکتی ہے
ایک اہم تشویش یہ بھی ہے کہ جنگلات کی آگ سے پیدا ہونے والے ذرات بعض دیگر آلودگیوں کے مقابلے میں زیادہ زہریلے ہو سکتے ہیں عالمی موسمیاتی ادارے کے مطابق روایتی اندازوں میں جنگلات کی آگ سے ہونے والی اموات کو 93 فیصد تک کم شمار کیا جا سکتا ہے، کیونکہ ان میں آگ کے دھوئیں سے پیدا ہونے والے ذرات کی اضافی زہریلی خصوصیات کو مکمل طور پر شامل نہیں کیا جاتا
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شدید آگ اور اس کے دھوئیں کے واقعات 1990 کی دہائی کے مقابلے میں عالمی سطح پر تقریباً 3 گنا ہو چکے ہیں ایک مطالعے کے مطابق 2010 سے 2018 کے دوران شدید جنگلاتی آگ کے دھوئیں سے ہر سال تقریباً 100,000 اضافی اموات ہوئیں، تاہم ماہرین کے مطابق اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے
شدید گرمی ایک دوسری بڑی مشکل پیدا کر رہی ہے بلند درجہ حرارت، ہوا کا ٹھہراؤ اور تیز دھوپ زمین کے قریب اوزون کی مقدار بڑھا سکتے ہیں یہ آلودگی سانس کی بیماریوں اور قبل از وقت اموات کے خطرے میں اضافہ کرتی ہے، خاص طور پر شدید گرمی کی لہروں کے دوران
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یورپ اور شمالی امریکہ میں صنعت اور ٹرانسپورٹ سے پیدا ہونے والے پی ایم 2.5 میں کمی آئی ہے، لیکن جنگلات کی آگ سے پیدا ہونے والی آلودگی میں اضافہ اس پیش رفت کو متاثر کر رہا ہے اس کا مطلب ہے کہ صرف گاڑیوں اور صنعتی دھوئیں کو کم کرنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ موسمیاتی تبدیلی اور جنگلات کی آگ کے بڑھتے ہوئے خطرے سے بھی نمٹنا ہوگا
عالمی موسمیاتی ادارے نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کو الگ الگ مسائل سمجھنے کے بجائے مشترکہ حکمت عملی کے تحت نمٹا جائے پی ایم 2.5، زمین کے قریب اوزون، سیاہ کاربن اور مائیکرو پلاسٹکس سمیت مختلف آلودگیوں کی نگرانی بہتر بنانے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ کئی علاقوں میں ان کی باقاعدہ نگرانی ابھی ناکافی ہے

قومی خبریں سے مزید