نصیرالدین شاہ کا اعلان: ’’مجھے فخر ہے کہ میں دماغی نکسل ہوں‘‘، جامعہ کے طلبہ کی حمایت میں حکومت پر کڑی تنقید
دہلی:بھارت کے معروف اداکار نصیرالدین شاہ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اور ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے،انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ فخر سے خود کو ’’دماغی نکسل‘‘ کہتے ہیں اور حکومت کے ناقدین کو غدارِ وطن یا ملک توڑنے والے گروہ سے جوڑنے کی کوششوں پر سوال اٹھایا
نصیرالدین شاہ نے کہا کہ حکومت کے ناقدین کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے، جن میں ’’اینٹی نیشنل‘‘ اور ’’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘‘ جیسے الزامات بھی شامل ہیں،انہوں نے ان الزامات کو حکومت کے حامیوں کی جانب سے استعمال کیے جانے والے سیاسی لیبل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ ملک کے نوجوانوں کی ہمت توڑنے، تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچانے اور جمہوریت کو خطرے میں ڈالنے کے لیے مزید کیا کچھ کیا جائے گا
اداکار نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ کے ساتھ ساتھ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اور ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ کے معاملات کا حوالہ دیا،ان کے مطابق، تعلیمی اداروں میں طلبہ کے خلاف کارروائیاں اور احتجاج کرنے والوں پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں فراموش نہیں کی جائیں گی
نصیرالدین شاہ نے حکومت کے حامی میڈیا کے بعض حلقوں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے آئی ٹی سیل پر بھی تنقید کی،انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف جو کچھ کرنا ہے کر لیا جائے، لیکن ملک کے نوجوانوں کا حوصلہ نہیں توڑا جا سکے گا، تعلیمی اداروں کو تباہ نہیں ہونے دیا جائے گا اور جمہوریت کو خطرے میں ڈالنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی
ان کے اس بیان کا پس منظر جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کے انتخابات سے متعلق مطالبات ہیں،طلبہ یونین کے انتخابات 2006 کے بعد سے نہیں ہوئے اور طلبہ انتخابات کی تاریخ اور یونین کے آئین کی منظوری کے لیے واضح ٹائم لائن کا مطالبہ کر رہے ہیں،نصیرالدین شاہ اس سے پہلے بھی طلبہ کے احتجاج کی حمایت کر چکے ہیں
’دماغی نکسل‘ کی اصطلاح بھارت میں عموماً ایسے افراد کے لیے استعمال کی جاتی ہے جن پر ماؤ نواز یا نکسل تحریک کے نظریات کی حمایت کا الزام لگایا جاتا ہے،نصیرالدین شاہ نے اس اصطلاح کو اپنے لیے فخریہ انداز میں استعمال کرتے ہوئے ان سیاسی لیبلوں کو چیلنج کیا جو ان کے بقول حکومت کے ناقدین پر لگائے جاتے ہیں






