Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایران کی امریکہ کو دھمکی، خلیج میں تیل اور گیس کے امریکی مفادات نشانے پر آنے کا خدشہ

ایران کی امریکہ کو دھمکی، خلیج میں تیل اور گیس کے امریکی مفادات نشانے پر آنے کا خدشہ

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اس کے اثاثوں کے خلاف مزید حملے کیے تو وہ خلیج میں امریکی تیل اور گیس کے مفادات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتا ہے ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر ایران کے اثاثوں پر حملہ کیا گیا تو جواب میں امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ یہ دھمکی ہفتے کے اختتام پر امریکہ اور ایران کے درمیان بحری جھڑپوں کے بعد سامنے آئی ہے، جن کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تقریباً 6 ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئیں
ایران کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے کہا ہے کہ تہران خلیج میں ایک نئے محدود بحری علاقے اور آبنائے ہرمز کے اندر ایک نئے بحری راستے کا اعلان کرے گا ان کے مطابق اس علاقے میں داخل ہونے والے جہازوں کو ایرانی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے
آبنائے ہرمز اس بحران کا سب سے حساس نقطہ بن چکی ہے کیونکہ جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی تھی جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے بحری جہازوں کی آمدورفت پر پابندیاں سخت کر دی ہیں، جبکہ حالیہ دنوں میں اس راستے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد مئی کے بعد کم ترین سطح تک پہنچ گئی ہے
یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب امریکی فورسز نے ہفتے کے روز 3 ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں ایک جہاز ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارک جزیرے کے قریب تھا اس کے بعد ایران نے امریکی مفادات اور خلیجی توانائی کے ڈھانچے کو ممکنہ جوابی کارروائی کے دائرے میں رکھنے کا اشارہ دیا ہے
ایران نے جنوبی کوریا کو بھی خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے آبنائے ہرمز میں امریکی کارروائیوں کے لیے فوجی تعاون کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جنوبی کوریا نے اسٹریٹجک آبنائے میں امریکی سکیورٹی کوششوں میں ممکنہ تعاون پر غور کرنے کا کہا تھا، تاہم ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا
بحران کا اثر عالمی توانائی منڈی پر بھی نمایاں ہو رہا ہے تازہ حملوں کے بعد تیل کی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں، جبکہ تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی مزید متاثر ہوئی تو عالمی تیل اور ایندھن کی قیمتوں پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے
صورتحال اس وقت مزید خطرناک ہو گئی ہے کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی مذاکرات میں کوئی واضح پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ ایک طرف امریکہ ایرانی تیل کی برآمدات اور بحری نقل و حرکت پر دباؤ بڑھا رہا ہے، دوسری طرف تہران آبنائے ہرمز کو اپنے دباؤ کے اہم ذریعے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ اگر دونوں جانب سے حملوں کا سلسلہ بڑھا تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکہ تک محدود رہنے کے بجائے پورے خلیجی خطے اور عالمی توانائی کی قیمتوں تک پہنچ سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید