Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

بچوں میں ایچ آئی وی پھیل گیا، مگر آزاد تحقیقات سے انکار، آخر کس کو بچانے کی کوشش ہے؟

بچوں میں ایچ آئی وی پھیل گیا، مگر آزاد تحقیقات سے انکار، آخر کس کو بچانے کی کوشش ہے؟

سندھ کے سرکاری صحت کے نظام سے متعلق ایک انتہائی سنگین معاملہ سامنے آنے کے بعد سندھ اسمبلی میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی آزادانہ تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا مطالبہ مسترد کر دیا گیا سوال یہ ہے کہ جب معاملہ بچوں کی زندگیوں سے متعلق ہو اور اسپتال کے نظام پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہوں تو حکومت ایک ایسی آزاد تحقیقات سے کیوں گریز کر رہی ہے جو اصل ذمہ داروں تک پہنچ سکتی ہے؟
کراچی کے کلثوم بائی ولیکا اسپتال سے متعلق سامنے آنے والے معاملے میں کم از کم 130 افراد کے ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔ اس صورتحال نے طبی سہولیات، انفیکشن کنٹرول، نگرانی اور اسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں
اندرونی تحقیقات میں بھی طبی حفاظتی اقدامات میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ ایک جامع انکوائری میں 78 متاثرین اور 6 اموات کا ذکر کیا گیا جبکہ متعدد ڈاکٹروں اور اسپتال ملازمین سے وضاحت طلب کی گئی۔ ایسے حالات میں یہ سوال بالکل جائز ہے کہ اگر محکمانہ تحقیقات میں خامیاں سامنے آ سکتی ہیں تو پھر مکمل طور پر آزاد کمیشن بنانے میں کیا قباحت ہے؟
پاکستان میں سرکاری اداروں کے بارے میں سب سے بڑا مسئلہ یہی رہا ہے کہ کسی بڑے اسکینڈل کے بعد اکثر تحقیقات اسی محکمے کے اندر رہ جاتی ہیں جس کی کارکردگی خود سوالات کی زد میں ہوتی ہے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کچھ افسران تبدیل ہو جاتے ہیں، کچھ فائلیں بند ہو جاتی ہیں اور متاثرہ خاندان برسوں تک جواب کے منتظر رہتے ہیں
یہاں بھی اصل معاملہ صرف ایچ آئی وی کے متاثرین کی تعداد نہیں بلکہ یہ معلوم کرنا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کی نوبت کیوں آئی کیا طبی آلات اور سرنجوں کے استعمال کے اصولوں پر مکمل عمل ہوا؟ کیا اسپتال میں انفیکشن کنٹرول کا مؤثر نظام موجود تھا؟ کیا ضروری سامان کی خریداری اور فراہمی درست طریقے سے ہوئی؟ کیا نگرانی کرنے والے افسران اپنی ذمہ داری پوری کر رہے تھے؟ اور اگر کسی سطح پر غفلت یا مالی بے ضابطگی ہوئی تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟
ان سوالات کے جوابات صرف ایک شفاف اور آزاد تحقیقات سے ہی سامنے آ سکتے ہیں۔ کسی پر پہلے سے کرپشن یا بدعنوانی کا الزام لگانا درست نہیں، لیکن آزاد تحقیقات سے انکار بھی عوام کے ذہن میں شکوک پیدا کرتا ہے
اس معاملے کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جن بچوں کو سرکاری نظام سے علاج، تحفظ اور محفوظ طبی سہولت ملنی چاہیے تھی، وہ خود ایک ایسے بحران کا شکار ہو گئے جس کی روک تھام طبی نظام کی بنیادی ذمہ داری تھی
سندھ میں 2019 کے رتوڈیرو ایچ آئی وی بحران کے دوران بھی بڑی تعداد میں بچوں میں وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اس وقت طبی ماہرین نے غیر محفوظ طبی طریقوں، سرنجوں کے دوبارہ استعمال اور انفیکشن کنٹرول کی ناقص صورتحال جیسے عوامل پر توجہ دلائی تھی برسوں بعد دوبارہ بچوں میں ایچ آئی وی کے کیسز سامنے آنا اس سوال کو مزید سنگین بنا دیتا ہے کہ ماضی کے تجربات سے آخر کیا سبق سیکھا گیا؟
عوام کا پیسہ سرکاری اسپتالوں، طبی سامان، ادویات، عملے اور حفاظتی نظام پر خرچ ہوتا ہے اگر انہی اداروں میں بنیادی حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی ہو اور پھر ذمہ داری واضح نہ کی جائے تو یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کا بھی بحران بن جاتا ہے
اب حکومت کے سامنے سب سے بہتر راستہ یہی ہے کہ ایک غیر جانب دار، بااختیار اور شفاف تحقیقات کرائی جائے۔ اگر کسی افسر، ڈاکٹر، انتظامی اہلکار یا ٹھیکیدار کی کوئی غلطی نہیں تو تحقیقات اسے بری الذمہ قرار دے دیں گی لیکن اگر کہیں غفلت، نااہلی، مالی بے ضابطگی یا اختیارات کے غلط استعمال کا ثبوت ملتا ہے تو ذمہ داروں کو قانون کے مطابق جواب دینا ہوگا
آخرکار سوال صرف یہ نہیں کہ ایچ آئی وی کیسے پھیلا، سوال یہ بھی ہے کہ کیا اس بحران کی پوری حقیقت سامنے لانے کی اجازت دی جائے گی یا ایک بار پھر فائلیں، افسران اور سیاسی بیانات اصل ذمہ داری پر پردہ ڈال دیں گے؟

قومی خبریں سے مزید