دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو ایکسچینج بائنانس میں 6.3 ارب ڈالر کا سائبر سکیورٹی بحران، تقریباً 3 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد
دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس (Binance) کو تاریخ کے بڑے سائبر سکیورٹی واقعات میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں ایک سکیورٹی خلاف ورزی کے نتیجے میں تقریباً 6.3 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے متاثر ہونے کا انکشاف ہوا ہے کمپنی اور مختلف مالیاتی اداروں نے متاثرہ ڈیجیٹل اثاثوں کی تلاش اور انہیں منجمد کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اب تک تقریباً 3 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی رقم کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں
بائنانس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ سائبر حملے کا آغاز ممکنہ طور پر کمپنی کے ایک انجینئر کے لیپ ٹاپ تک غیر قانونی رسائی سے ہوا۔ حملہ آور نے مبینہ طور پر اس کمپیوٹر کے ذریعے کمپنی کے ایک سروس سسٹم تک رسائی حاصل کی اور غیر مجاز طریقے سے ڈیجیٹل اثاثوں کی منتقلی کی کارروائیاں انجام دیں
کمپنی کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں ڈیجیٹل والٹس کی نجی سکیورٹی چابیاں چوری ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا، تاہم واقعے کی مکمل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں
تقریباً 3 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد
بائنانس نے مختلف بلاک چین کمپنیوں، ڈیجیٹل کرنسی جاری کرنے والے اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے متاثرہ اثاثوں کو منجمد کرنے کا عمل شروع کیا
ڈیجیٹل کرنسی کی بڑی کمپنی ٹیتھر نے تقریباً 1.57 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کیے، جبکہ سرکل نے 800 ملین ڈالر سے زیادہ مالیت کے اثاثوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ رپل نے بھی تقریباً 200 ملین ڈالر کے متاثرہ اثاثے منجمد کرنے میں کردار ادا کیا
اس کے علاوہ ورلڈ لبرٹی فنانشل نے بھی تقریباً 27 ملین ڈالر کے اسٹیبل کوائنز منجمد کرنے میں تعاون کیا
بائنانس کی شریک بانی یی ہی نے کہا ہے کہ کمپنی سائبر حملے سے ہونے والے تمام نقصانات کی ذمہ داری قبول کرے گی اور صارفین کے اثاثوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری مالی وسائل فراہم کرے گی
واقعے کے بعد بائنانس نے احتیاطی اقدام کے طور پر صارفین کے لیے رقم جمع کرانے اور نکلوانے کی سہولت عارضی طور پر معطل کر دی تاکہ سکیورٹی نظام کی مکمل جانچ اور متاثرہ ڈیجیٹل والٹس کو محفوظ بنایا جا سکے
کمپنی کا کہنا ہے کہ صارفین کے فنڈز محفوظ ہیں اور ان کے مالی نقصانات کی تلافی کی جائے گی۔ بائنانس کے پاس صارفین کے اثاثوں کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی ہنگامی فنڈ بھی موجود ہے جسے سافو (SAFU) کہا جاتا ہے۔ یہ فنڈ بٹ کوائن کی شکل میں رکھا جاتا ہے اور سکیورٹی واقعات کی صورت میں صارفین کے نقصانات پورے کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے
بائنانس میں سکیورٹی بحران کی خبر سامنے آنے کے بعد عالمی کرپٹو مارکیٹ میں بھی منفی ردعمل دیکھا گیا
بٹ کوائن کی قیمت میں 3 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی اور یہ 6 ہفتوں کی کم ترین سطح تک پہنچ گیا دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ایتھیریم کی قیمت بھی 3 فیصد سے زیادہ گر گئی، جبکہ بائنانس سے منسلک ڈیجیٹل کرنسی بی این بی کی قیمت میں تقریباً 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی
امریکا میں کرپٹو ایکسچینج کوائن بیس کے حصص میں بھی تقریباً 4.8 فیصد کمی ہوئی، جبکہ بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنی اسٹریٹیجی کے حصص بھی تقریباً 6 فیصد نیچے آگئے
ماہرین کے مطابق اس واقعے کے اثرات صرف بائنانس تک محدود نہیں رہ سکتے بلکہ سرمایہ کار مرکزی کرپٹو ایکسچینجز میں اپنے اثاثے رکھنے کے خطرات پر دوبارہ غور کر سکتے ہیں خاص طور پر اس خدشے میں اضافہ ہوا ہے کہ اگر کسی بڑی ایکسچینج کی رقم نکلوانے کی سہولت بند ہو جائے تو سرمایہ کاروں کو اپنے اثاثوں تک رسائی میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں
بائنانس دنیا بھر میں تقریباً 335 ملین رجسٹرڈ صارفین رکھتی ہے کمپنی کی 2025 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اس کے پاس تقریباً 162.8 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے زیر تحویل تھے
اس بڑے صارفین کے نیٹ ورک اور مالیاتی حجم کے باعث موجودہ واقعہ پوری کرپٹو کرنسی صنعت کے لیے ایک اہم امتحان بن گیا ہے
بلاک چین تجزیاتی ادارے چین اینالسس کے مطابق گزشتہ برس دنیا بھر میں تقریباً 150 سائبر حملوں کے دوران 2.9 ارب ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری ہوئی تھی ستمبر میں کرپٹو ایکسچینج بٹ گیٹ کو بھی تقریباً 350 ملین ڈالر کے سائبر حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال سے سائبر حملہ آوروں کو سکیورٹی نظام میں خامیاں تلاش کرنے کے نئے مواقع مل رہے ہیں، جس کے باعث ڈیجیٹل مالیاتی اداروں کے لیے اپنے نظام کو محفوظ رکھنا مزید مشکل ہو رہا ہے
بائنانس کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعے کی تکنیکی تفصیلات پر مشتمل رپورٹ جاری کی جائے گی دوسری جانب امریکی کرپٹو ایکسچینج کوائن بیس اور بائنانس کے امریکی ادارے بائنانس یو ایس نے واضح کیا ہے کہ وہ اس واقعے سے متاثر نہیں ہوئے
اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ اربوں ڈالر کی ڈیجیٹل دولت رکھنے والی کرپٹو ایکسچینجز سائبر حملوں سے صارفین کے اثاثوں کو کس حد تک محفوظ رکھ سکتی ہیں اور اگر کسی بڑے ادارے کا سکیورٹی نظام ناکام ہو جائے تو سرمایہ کاروں کے مالی تحفظ کی ضمانت کون دے گا





