Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

63 گواہ، موبائل اور سی سی ٹی وی فرانزک کے لیے بھیج دیے گئے، پھر بھی میر رضا قتل کیس میں پولیس کے ہاتھ خالی

63 گواہ، موبائل اور سی سی ٹی وی فرانزک کے لیے بھیج دیے گئے، پھر بھی میر رضا قتل کیس میں پولیس کے ہاتھ خالی

کراچی کے پراسرار میر رضا علی قتل کیس میں پولیس تاحال کسی ملزم تک نہیں پہنچ سکی۔ تفتیشی افسر نے عدالت میں جمع کرائی گئی عبوری رپورٹ میں بتایا ہے کہ تمام ممکنہ پہلوؤں سے تحقیقات کے باوجود پولیس کو اب تک کوئی قابلِ ذکر سراغ یا پیش رفت نہیں مل سکی
تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج الدین لاشاری نے پیر کو جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں 7 صفحات پر مشتمل عبوری چالان جمع کرایا اور حتمی چالان پیش کرنے کے لیے مزید مہلت مانگی پولیس کے مطابق میر رضا کا موبائل فون، ایپل واچ اور سی سی ٹی وی ریکارڈ سمیت اہم ڈیجیٹل شواہد فرانزک معائنے کے لیے لاہور بھیجے گئے ہیں اور ان کی رپورٹس کا انتظار ہے
عبوری رپورٹ میں 63 گواہوں کے نام شامل کیے گئے ہیں، تاہم ملزمان کے خانے میں فی الحال کسی شخص کا نام درج نہیں کیا گیا۔ پولیس نے مقتول کے والدین، دوستوں، منگیتر، کاروباری شراکت داروں، سرمایہ کاروں، مالی، آن لائن ٹیکسی ڈرائیوروں اور دیگر افراد سے پوچھ گچھ کی ہے
کیس کی پراسراریت اس وقت مزید بڑھ گئی جب پولیس کے مطابق ایک سکیورٹی گارڈ محمد یوسف نے بتایا کہ اسے 27 اور 28 جولائی کی درمیانی شب تقریباً نصف شب کے قریب گولی چلنے کی آواز سنائی دی، لیکن باہر نکلنے پر اسے نہ کوئی شخص ملا اور نہ ہی کوئی گاڑی نظر آئی
رپورٹ کے مطابق میر رضا کے لاپتا ہونے کے بعد ان کے اہل خانہ اور دوستوں نے تلاش شروع کی۔ ان کے کمرے سے بٹوا، گاڑی کی چابیاں اور گھڑی ملی، جبکہ سی سی ٹی وی میں انہیں ایک سفید رنگ کی گاڑی میں سوار ہوتے دیکھا گیا بعد میں ان کے لاپتا ہونے کی ایف آئی آر درج کرائی گئی
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ میر رضا کے کاروباری ادارے میں تعینات سکیورٹی گارڈ کا ہتھیار بھی غائب تھا سی سی ٹی وی کے مطابق میر رضا دوبارہ کاروباری شاخ میں آئے، ہتھیار لیا اور اپنی گاڑی میں روانہ ہوگئے
پولیس رپورٹ کے مطابق 28 جولائی کی ابتدائی صبح میر رضا نے ایک آن لائن ٹیکسی حاصل کی ڈرائیور نے انہیں گلستان جوہر کی منظور اسٹریٹ پر اتارا، جہاں سے انہیں کچھ دیر بعد اکیلے پیدل جاتے دیکھا گیا پولیس کے مطابق اس دوران انہوں نے اپنا موبائل فون پھینک دیا اور ایک نرسری کی طرف جانے والی سڑک پر چلتے رہے
اب پولیس ڈیجیٹل شواہد کی فرانزک رپورٹس کی منتظر ہے حتمی چالان میں اصل سوالات کے جواب سامنے آسکتے ہیں کہ میر رضا کو کس نے قتل کیا، واردات کے پیچھے کیا محرک تھا، غائب ہونے والا ہتھیار کہاں گیا اور آخری مرتبہ انہیں دیکھے جانے کے بعد ان کے ساتھ کیا ہوا
63 گواہوں سے پوچھ گچھ، متعدد سی سی ٹی وی ریکارڈ، موبائل فون اور دیگر اہم شواہد کے باوجود اگر پولیس ابھی تک کسی ملزم تک نہیں پہنچ سکی تو اس کیس میں فرانزک رپورٹیں اب تفتیش کی سب سے اہم کڑی بن گئی ہیں

قومی خبریں سے مزید