مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے باوجود عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے کیوں ہے؟
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے راستے تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے، تاہم عالمی معیار برینٹ خام تیل کی قیمت اب بھی 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے ہے مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی روزانہ ترسیل جنگ سے پہلے تقریباً 18 ملین بیرل تھی جو اب کم ہو کر تقریباً 11 ملین بیرل رہ گئی ہے
اس کے باوجود قیمت میں بہت بڑا اضافہ نہ ہونے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ آبنائے ہرمز سے اب بھی کچھ مقدار میں تیل گزر رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں روزانہ اوسطاً تقریباً 4 سے 5 ملین بیرل تیل اس راستے سے منتقل ہوا، جبکہ صنعتی اندازوں کے مطابق مجموعی برآمدات 6 سے 8 ملین بیرل یومیہ تک رہی ہیں
خلیجی تیل پیدا کرنے والے ممالک نے بھی متبادل راستے اختیار کیے ہیں سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات اور کویت اپنی برآمدات کا کچھ حصہ دوسرے بندرگاہی راستوں اور سمندری منتقلی کے ذریعے جاری رکھے ہوئے ہیں مصر کی صدی کریر بندرگاہ سے بھی اگست میں تیل کی برآمدات بڑھ کر 2.14 ملین بیرل یومیہ ہوگئیں، جو جون کے مقابلے میں دگنی سے زیادہ ہیں
دوسری جانب امریکا، کینیڈا اور گیانا سمیت آبنائے ہرمز سے باہر تیل پیدا کرنے والے ممالک رواں سال مجموعی پیداوار میں تقریباً 1.4 ملین بیرل یومیہ اضافہ کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ روس سے بھی جولائی اور اگست میں تقریباً 5.5 ملین بیرل یومیہ خام تیل برآمد ہوا، جس نے عالمی رسد میں کسی حد تک کمی پوری کی ہے
تیل کی قیمت کو قابو میں رکھنے والا ایک اور اہم عنصر عالمی طلب میں کمی ہے خاص طور پر چین میں خام تیل کی سمندری درآمد جولائی اور اگست میں کم ہو کر تقریباً 7 ملین بیرل یومیہ رہ گئی، جبکہ فروری میں یہ مقدار 11 ملین بیرل یومیہ سے زیادہ تھی۔ الیکٹرک گاڑیوں کے بڑھتے استعمال اور کیمیکل صنعت میں کوئلے کے بڑھتے استعمال نے بھی تیل کی طلب کو متاثر کیا ہے
چین کے پاس خام تیل کے بڑے ذخائر بھی موجود ہیں جن کا تخمینہ تقریباً 1.17 ارب بیرل لگایا گیا ہے ان ذخائر کی موجودگی نے عالمی منڈی میں فوری قلت کے خدشات کو کسی حد تک کم رکھا ہے
تاہم اصل صورتحال عالمی قیمت سے زیادہ سنگین دکھائی دے رہی ہے جسمانی منڈی میں تیل کی قلت کے آثار نمایاں ہیں اور نومبر میں ترسیل ہونے والے بعض تیل کے سودوں پر اضافی قیمتیں اپریل کی سطح تک پہنچ گئی ہیں۔ عمان کا مستقبل کا سودا 104.54 ڈالر جبکہ دبئی کا فوری سودا 105.10 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکا تھا
ماہرین کے مطابق ڈیزل کی صورتحال بھی تشویشناک ہے کیونکہ تیل صاف کرنے والے کارخانے ڈیزل کی پیداوار بڑھا رہے ہیں جبکہ عالمی منڈی میں اس کی کمی کے آثار واضح ہیں اگر آبنائے ہرمز میں ترسیل مزید محدود ہوئی اور متبادل راستے بھی دباؤ میں آئے تو خام تیل کی قیمت 100 ڈالر سے اوپر جانے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے
اسی خدشے کے باعث بڑے مالیاتی اداروں نے اپنی قیمتوں کی پیش گوئی بھی بڑھا دی ہے۔ مورگن اسٹینلے نے چوتھی سہ ماہی میں برینٹ کی اوسط قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل رہنے کی توقع ظاہر کی ہے، جبکہ گولڈمین ساکس نے دسمبر 2026 کے لیے برینٹ کی پیش گوئی 85 ڈالر اور امریکی خام تیل کی 80 ڈالر فی بیرل کردی ہے





