امریکی امن کوششوں کے فوراً بعد روس کا کیف پر میزائل حملہ، جنگ بندی کا مختصر وقفہ ختم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے کیف کے دورے اور یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی نئی کوشش کے فوراً بعد روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر بیلسٹک اور کروز میزائلوں سے بڑا حملہ کر دیا،یوکرینی حکام کے مطابق حملے میں ڈرون بھی استعمال کیے گئے اور رہائشی عمارتوں سمیت شہر کے مختلف حصوں کو نقصان پہنچا،کم از کم 6 افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک تعلیمی ادارے میں بھی آگ لگنے کی اطلاعات ہیں
کیف کے میئر وٹالی کلِچکو کے مطابق حملوں کے بعد ایک رہائشی عمارت میں لوگ پھنس گئے تھے، جبکہ شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے اور محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی ہدایت کی گئی،حملوں کے نتیجے میں شہر کے مختلف علاقوں میں آگ بھڑک اٹھی
یہ حملہ اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مشیر وٹکوف اور جے کشنر نے اس سے صرف ایک روز قبل کیف میں یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی تھی،اس سے پہلے دونوں امریکی نمائندوں نے ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بھی مذاکرات کیے تھے،امریکی کوشش کا مقصد کئی ماہ سے تعطل کا شکار روس، یوکرین امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا اور ممکنہ جنگ بندی کی راہ نکالنا ہے
امریکی ایلچیوں نے کیف میں مذاکرات کو ’’بامعنی، اہم اور مفید‘‘ قرار دیا تھا، تاہم کسی فوری معاہدے یا بڑی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا،مذاکرات میں طویل مدتی امن کے علاوہ موسم سرما سے پہلے یوکرین کی توانائی اور فضائی دفاعی ضروریات بھی زیر بحث آئیں
حالیہ حملہ اس مختصر وقفے کے خاتمے کی بھی علامت ہے جس کے دوران امریکی سفارتی سرگرمیوں کے پیش نظر کیف پر روسی حملوں میں عارضی کمی آئی تھی،روسی حملوں کی بحالی نے واشنگٹن کی نئی امن کوشش کے سامنے فوری طور پر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ماسکو اور کیف کسی قابلِ عمل جنگ بندی پر آمادہ ہونے کے لیے تیار ہیں
دوسری جانب یوکرین نے بھی روسی اہداف کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی رابطوں کے باوجود میدان جنگ میں کشیدگی برقرار ہے،امریکی کوشش اب اس مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں ماسکو اور کیف کو کسی عملی جنگ بندی پر آمادہ کرنا واشنگٹن کے لیے سب سے بڑا امتحان ہوگا





