رالکاہل میں امریکی کارروائی، منشیات اسمگلنگ کے الزام میں ایکواڈور کا بحری جہاز ڈبو دیا گیا
امریکہ نے مشرقی بحرالکاہل میں ایکواڈور کے ایک بحری جہاز کو روکنے کے بعد اسے سمندر میں ڈبو دیا ہے،امریکی سدرن کمانڈ کے مطابق یہ جہاز سمندر میں منشیات اسمگل کرنے والے نیٹ ورک کے لیے ایک ’’متحرک ایندھن اسٹیشن‘‘ کے طور پر استعمال ہو رہا تھا اور اس کے تعلقات ایکواڈور کے طاقتور جرائم پیشہ گروہ ’’لاس چونیرس‘‘ سے تھے
امریکی فوج کے مطابق مشترکہ ٹاسک فورس نے جہاز کو بین الاقوامی پانیوں میں روکا، اس پر سوار افراد کو اتارا اور انہیں ایکواڈور کے حکام کے حوالے کرنے کے بعد جہاز کو سمندر میں غرق کر دیا،امریکی سدرن کمانڈ کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد منشیات کی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والے سمندری رسد کے نظام کو توڑنا تھا
یہ گزشتہ دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں امریکی افواج کی جانب سے نشانہ بنائے جانے والا پانچواں جہاز ہے،واشنگٹن ’’لاس چونیرس‘‘ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے اور اس کا الزام ہے کہ یہ گروہ منشیات کی اسمگلنگ، اغوا، بھتہ خوری اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہے
اس کارروائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی لاطینی امریکہ میں منشیات کے خلاف جاری فوجی مہم کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے،گزشتہ ایک سال کے دوران امریکی حکومت کی جانب سے بحرالکاہل اور بحیرہ کیریبین میں منشیات اسمگلنگ کے شبہے میں درجنوں کارروائیاں کی جا چکی ہیں، جن میں ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق کم از کم 227 افراد ہلاک ہوئے ہیں،ناقدین ان کارروائیوں کی قانونی حیثیت اور اس بات پر سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا مشتبہ منشیات فروشوں کے خلاف مہلک فوجی طاقت کا استعمال بین الاقوامی قانون کے تحت جائز ہے
اس تازہ کارروائی میں تاہم کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا،امریکی فوج کا کہنا ہے کہ جہاز پر موجود تمام افراد کو پہلے بحفاظت اتارا گیا، جبکہ ایکواڈور کے حکام نے اس تازہ واقعے پر فوری طور پر کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا





