Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اسرائیل میں تاریخی ٹرن آؤٹ کے باوجود انتخابی معرکہ غیر فیصلہ کن، نیتن یاہو اور حزب اختلاف اکثریت سے محروم، ایگزٹ پولز میں سخت مقابلے کا اشارہ

اسرائیل میں تاریخی ٹرن آؤٹ کے باوجود انتخابی معرکہ غیر فیصلہ کن، نیتن یاہو اور حزب اختلاف اکثریت سے محروم، ایگزٹ پولز میں سخت مقابلے کا اشارہ

اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ ختم ہونے کے بعد ابتدائی ایگزٹ پولز نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورت حال برقرار رکھی ہے۔ ملک کی 120 رکنی پارلیمنٹ کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں، لیکن بڑے ٹیلی وژن اداروں کے ابتدائی تخمینوں میں نہ نیتن یاہو کے حکومتی اتحاد کو واضح اکثریت ملی اور نہ ہی سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں حزب اختلاف اس حد تک پہنچ سکی
مرکزی انتخابی کمیٹی کے مطابق ووٹنگ ختم ہونے تک ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد تک پہنچ گیا اور 56 لاکھ 90 ہزار سے زیادہ ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا،اسرائیل میں 73 لاکھ 31 ہزار 981 افراد ووٹ ڈالنے کے اہل تھے،یہ ٹرن آؤٹ 2001 کے بعد رات 10 بجے تک ریکارڈ ہونے والی بلند ترین شرح قرار دیا گیا ہے،اس سے پہلے رات 8 بجے تک 74.3 فیصد ووٹر ووٹ ڈال چکے تھے، جو 2022 کے انتخابات میں اسی وقت کی 66.3 فیصد شرح سے نمایاں زیادہ تھا
ابتدائی ایگزٹ پولز میں مختلف ٹیلی وژن اداروں کے اندازوں میں فرق سامنے آیا ہے،چینل 13 کے ایگزٹ پول کے مطابق نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد کو 50 نشستیں، آئزن کوٹ کے اتحاد کو 53 نشستیں اور عرب جماعتوں کو مجموعی طور پر 17 نشستیں ملنے کا تخمینہ لگایا گیا، اس طرح کسی بھی بڑے اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دی،دوسری جانب آئی 24 نیوز کے ابتدائی ایگزٹ پول میں نیتن یاہو کی لیکود پارٹی کو 27 نشستیں، آئزن کوٹ کی یاشار جماعت کو 20 نشستیں، حکومتی اتحاد کو مجموعی طور پر 55 اور حزب اختلاف کو 49 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا، جبکہ عرب جماعتوں کے لیے 16 نشستوں کا تخمینہ دیا گیا
ان اعداد و شمار میں فرق اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ایگزٹ پول حتمی انتخابی نتائج نہیں ہوتے،یہ ووٹ ڈال کر نکلنے والے افراد کے سروے پر مبنی تخمینے ہیں اور اصل نتائج ووٹوں کی گنتی، چھوٹی جماعتوں کی کارکردگی اور انتخابی حد عبور کرنے والی جماعتوں کی تعداد کے مطابق تبدیل ہو سکتے ہیں،اسرائیل میں کسی جماعت کو پارلیمنٹ میں نشستیں حاصل کرنے کے لیے قومی سطح پر کم از کم 3.25 فیصد ووٹ درکار ہوتے ہیں، اس لیے معمولی فرق بھی حکومت سازی کے امکانات پر اثر انداز ہو سکتا ہے
اس انتخاب کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملوں اور اس کے بعد غزہ، لبنان اور خطے میں پھیلنے والی جنگوں کے بعد اسرائیل کا پہلا عام انتخاب ہے،نیتن یاہو کی قیادت میں حکومت کو اکتوبر 2023 کے سکیورٹی بحران، جنگ کے انتظام، یرغمالیوں کی رہائی اور فوجی خدمات سے متعلق داخلی اختلافات پر تنقید کا سامنا رہا ہے،دوسری جانب حزب اختلاف نے حکومتی تبدیلی اور مختلف پالیسیوں پر نظرثانی کا وعدہ کیا ہے،ان مسائل کے درمیان ووٹرز کی غیر معمولی شرکت نے انتخابی مقابلے کو مزید اہم بنا دیا ہے، تاہم صرف زیادہ ٹرن آؤٹ سے کسی ایک سیاسی فریق کی کامیابی اخذ نہیں کی جا سکتی
ووٹنگ کے دوران بے ضابطگیوں کے الزامات بھی سامنے آئے،بعض جماعتوں نے مختلف پولنگ مراکز پر بیلٹ پیپرز غائب ہونے یا خراب کیے جانے کی شکایات کیں، جبکہ پولیس نے ووٹ خریدنے کے شبہے میں تین کارکنوں کو گرفتار کیا،تل ابیب میں حزب اختلاف کے رہنما یائر گولان کے قریب چاقو رکھنے والے ایک شخص کو بھی حراست میں لیا گیا، تاہم دستیاب اطلاعات میں اس واقعے کو ثابت شدہ حملہ قرار نہیں دیا گیا،انتخابی حکام نے شکایات کا جائزہ لیا اور بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی کے دعووں کی تصدیق نہیں کی
اب اصل توجہ ووٹوں کی گنتی اور حکومت سازی کے امکانات پر ہے،اسرائیل میں ووٹر براہ راست وزیر اعظم کا انتخاب نہیں کرتے بلکہ جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں، جس کے بعد پارلیمانی نشستوں کی بنیاد پر اتحاد تشکیل پاتے ہیں،اگر کسی ایک سیاسی دھڑے کو اکثریت نہ ملی تو چھوٹی جماعتوں کی حمایت فیصلہ کن بن سکتی ہے،صدر اسحاق ہرزوگ انتخابی نتائج اور سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد اس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دے سکتے ہیں جس کے بارے میں انہیں سب سے زیادہ امکان ہو کہ وہ پارلیمانی اکثریت حاصل کر سکے
اس لیے موجودہ مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ نیتن یاہو اقتدار برقرار رکھیں گے یا حزب اختلاف نئی حکومت بنانے میں کامیاب ہوگی،ابتدائی ایگزٹ پولز ایک منقسم پارلیمنٹ اور مشکل مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جبکہ حتمی صورت حال سرکاری نتائج اور آئندہ سیاسی اتحادوں کے بعد واضح ہوگی ، تجزیہ نگار یہ بھی سمجھتے ہیں انتخابی نتائج اگلی حکومت بنانے کی کوششوں کو ہفتوں مہینوں میں تبدیل کرسکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید