جرمنی میں قوم پرستوں کی تاریخی فتح، یورپ کی تمام مرکزی سیاسی قوتوں میں زلزلہ و بھونچال، یورپ کی انتہا پسند جماعتوں میں خوشی کی لہر ، جرمنی کی دیگر ریاستوں کے انتخابات عالمی اہمیت اختیار کر گئے
برلن،جرمنی کی مشرقی ریاست سیکسنی انہالٹ میں دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی نے ریاستی انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کر کے نہ صرف جرمن سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ دے دیا ہے بلکہ یورپ کی مرکزی سیاسی جماعتوں کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، جماعت نے 43.8 فیصد ووٹ حاصل کیے، جو دوسرے نمبر پر آنے والی کرسچن ڈیموکریٹک یونین کے 17.2 فیصد ووٹوں سے دوگنے سے بھی زیادہ ہیں
آلٹرنیٹو فار جرمنی کی قیادت کرنے والے 35 سالہ اولریش زیگمنڈ نے نتیجے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے حکومت بنانے کا واضح مینڈیٹ حاصل کر لیا ہے،تاہم 83 رکنی ریاستی پارلیمان میں جماعت کو 39 نشستیں ملیں اور واضح اکثریت کے لیے درکار 42 نشستوں سے وہ 3 نشستیں پیچھے رہ گئی،اس لیے سب سے بڑا سوال اب یہ ہے کہ جماعت حکومت کیسے بنائے گی
یہ نتیجہ جرمن چانسلر فریڈرک میرتس اور ان کی جماعت کے لیے بھی بڑا سیاسی دھچکا ہے،کرسچن ڈیموکریٹک یونین کی حمایت تقریباً نصف رہ گئی اور اسے صرف 17.2 فیصد ووٹ ملے،میرتس نے نتیجے کو اپنی جماعت کے لیے انتہائی سنجیدہ سیاسی انتباہ قرار دیا ہے، جبکہ جماعت نے آلٹرنیٹو فار جرمنی کے ساتھ حکومت بنانے یا باضابطہ تعاون کرنے سے انکار برقرار رکھا ہے
آلٹرنیٹو فار جرمنی کی کامیابی اس لیے بھی غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے جرمنی کی مرکزی سیاسی جماعتوں نے اس جماعت کو اقتدار سے دور رکھنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے،اسے جرمن سیاست میں ’’فائر وال‘‘ کہا جاتا ہے،سیکسنی انہالٹ میں جماعت کو ریاستی انٹیلی جنس ادارے نے دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیم قرار دے رکھا ہے، جسے جماعت مسترد کرتی ہے
زیگمنڈ کی انتخابی مہم میں امیگریشن، داخلی سلامتی اور مشرقی جرمنی کے عوام میں پائی جانے والی معاشی اور سیاسی بے چینی نمایاں موضوعات رہے،ان کی جماعت غیر قانونی تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر ملک بدری، امیگریشن پالیسی میں سخت تبدیلیوں اور یوکرین کے لیے جرمنی کی موجودہ حمایت ختم کرنے کی حمایت کرتی ہے
انتخابی نتیجے نے جرمنی سے باہر بھی فوری ردعمل پیدا کیا ہے،یورپ کی دائیں بازو اور قوم پرست جماعتوں نے اسے اپنی سیاسی سوچ کے لیے حوصلہ افزا قرار دیا، جبکہ یورپ کی مرکزی سیاسی قوتوں میں اس بات پر تشویش بڑھ گئی ہے کہ جرمنی میں دائیں بازو کی یہ پیش قدمی دوسرے یورپی ملکوں میں بھی قوم پرست جماعتوں کو مزید تقویت دے سکتی ہے
سیکسنی انہالٹ میں ووٹر ٹرن آؤٹ بھی ریکارڈ 76.5 فیصد رہا، جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ انتخاب ریاستی سیاست سے کہیں بڑھ کر قومی سطح پر اہمیت اختیار کر چکا تھا،جرمنی میں اسی ماہ مزید ریاستی انتخابات بھی ہونے ہیں، اس لیے موجودہ نتیجہ فریڈرک میرتس کی حکومت کے لیے آئندہ سیاسی مرحلے کا ایک اہم امتحان بن گیا ہے
آلٹرنیٹو فار جرمنی کے لیے اصل چیلنج اب انتخابات جیتنے کے بعد حکومت تشکیل دینا ہے،جماعت سب سے بڑی پارلیمانی قوت تو بن گئی ہے، مگر اکثریت سے محروم ہے اور دیگر بڑی جماعتیں اس کے ساتھ اتحاد سے انکار کر رہی ہیں،یوں جرمنی میں ایک نئی سیاسی حقیقت سامنے آ گئی ہے،دائیں بازو کی جماعت کو اقتدار تک پہنچنے سے روکنے والی سیاسی دیوار اب بھی موجود ہے، لیکن اس دیوار کے باہر کھڑی جماعت پہلی مرتبہ اتنی بڑی انتخابی طاقت بن چکی ہے کہ اسے نظر انداز کرنا مرکزی سیاسی جماعتوں کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے





