اسرائیلی وزرا فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے منصوبے کھلے عام بتا رہے ہیں، مگر دنیا ہے کہ پھر بھی خاموش ہے

اسرائیلی وزرا فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے منصوبے کھلے عام بتا رہے ہیں، مگر دنیا ہے کہ پھر بھی خاموش ہے

لندن: برطانوی اخبار گارجین نے خبردار کیا ہے کہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی اقدامات اور عالمی برادری کے ردعمل کے درمیان فاصلہ اب اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ عالمی نظام کی اخلاقی ساکھ ہی سوال بن گئی ہے
گارجین کی کالم نگار نسرین ملک نے اپنے تازہ کالم میں لکھا ہے اسرائیلی حکومت کے انتہائی دائیں بازو کے وزرا اب فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور غزہ کی تباہی کے منصوبے چھپانے کے بجائے کھلے عام بیان کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود یورپی ممالک کی جانب سے سخت پابندیوں اور اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کی باتیں عملی اقدامات میں تبدیل نہیں ہو رہیں
انہوں نے حالیہ مثال دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے غزہ سے تمام فلسطینیوں کو نکالنے کے منصوبے کی تفصیلات بیان کیں اور ایک ایسی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو بھی جاری کی جس میں فلسطینیوں کو حراستی مراکز کی طرف لے جاتے دکھایا گیا تھا،اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز بھی کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل فلسطینیوں کو غزہ سے نکالنے کے لیے ’’ہر ممکن طریقے‘‘ سے تیار ہے
کالم نگار کے مطابق ان بیانات کو محض انتخابی مہم کا انتہا پسندانہ شور قرار دینا درست نہیں، کیونکہ بن گویر اور کاٹز اسرائیلی حکومت میں فیصلہ کن اختیارات رکھنے والے وزرا ہیں اور ان کے بیانات کے ساتھ عملی پالیسیاں بھی آگے بڑھ رہی ہیں
ان کے مطابق بن گویر نے ایک ایسی زیرزمین جیل دوبارہ کھلوائی جسے ماضی میں غیر انسانی حالات کے باعث بند کر دیا گیا تھا، جبکہ فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کی حمایت بھی کی،دوسری جانب کاٹز نے مغربی کنارے میں کئی دہائیوں کی سب سے بڑی بستیوں کی توسیع کی منظوری دی اور ایسی پالیسیوں کو آگے بڑھایا جنہیں ناقدین فلسطینی علاقوں کے بتدریج الحاق کی طرف قدم قرار دیتے ہیں
نسرین ملک نے سوال اٹھایا کہ اگر اسرائیلی وزرا اپنے مقاصد دنیا کے سامنے خود بیان کر رہے ہیں تو عالمی برادری انہیں سنجیدگی سے کیوں نہیں لے رہی،ان کے بقول ایسے حالات میں محض مذمتی بیانات کافی نہیں، بلکہ پابندیاں، تجارت پر قدغنیں، ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی اور مؤثر عالمی دباؤ ضروری ہے
انہوں نے جرمنی سمیت بعض ممالک کی جانب سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمد کے اجازت ناموں میں اضافے اور دیگر یورپی ممالک کی جانب سے سخت اقدامات کی محض باتوں کو اس تضاد کی مثال قرار دیا جس میں فلسطینیوں کے خلاف زمینی صورتحال مسلسل سنگین ہو رہی ہے جبکہ عالمی ردعمل زیادہ تر بیانات تک محدود ہے
نسرین ملک کے مطابق اسرائیلی سیاسی دائیں بازو کے ایک حصے کے بیانات اور پالیسیوں میں ایک واضح سمت نظر آتی ہے، جس میں غزہ کی تباہی، فلسطینی آبادی کی بے دخلی، مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع اور فلسطینی خود اختیاری کے امکانات کو محدود کرنا شامل ہے
ان کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ نہیں رہا کہ اسرائیلی حکومت کے بعض انتہائی دائیں بازو کے رہنما کیا چاہتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ جب وہ اپنے منصوبے کھلے عام بتا رہے ہیں تو عالمی برادری انہیں روکنے کے لیے عملی اقدام کیوں نہیں کر رہی؟

قومی خبریں سے مزید