مہنگائی صرف طلب کا مسئلہ نہیں، حکومتی قرضوں کا بوجھ بھی معیشت کو دبا رہا ہے
پاکستان میں مہنگائی کا مسئلہ صرف عوام کی زیادہ خریداری یا ملکی طلب میں اضافے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے حکومتی قرضوں، روپے کی قدر میں کمی، درآمدی ایندھن، عالمی اجناس کی قیمتوں، توانائی کے نرخوں اور خوراک کی فراہمی میں رکاوٹوں جیسے کئی بنیادی عوامل موجود ہیں
حالیہ برسوں میں بڑھتی مہنگائی اور محدود زرمبادلہ کے ذخائر کے باعث حکومت نے اپنے اخراجات اور بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے ملکی قرضوں پر زیادہ انحصار کیا اس دوران متغیر شرح سود والے طویل مدتی قرضوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے شرح سود بڑھنے کی صورت میں حکومت کے قرضوں کی لاگت بھی تیزی سے بڑھ جاتی ہے
اعداد و شمار کے مطابق نیم سالانہ متغیر شرح والے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کا مجموعی حجم 2020 میں 1 ٹریلین روپے سے بھی کم تھا، جو 2024 میں 14 ٹریلین روپے سے تجاوز کر گیا اور اب 22 ٹریلین روپے سے زیادہ ہو چکا ہے ملکی سرکاری قرضوں میں تقریباً 70 فیصد حصہ متغیر شرح والے قرضوں کا ہے
ماہرین کے مطابق مرکزی بینک کی جانب سے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود بڑھانا ضروری ہو سکتا ہے، لیکن اس کا ایک بڑا منفی اثر حکومت کے قرضوں پر پڑتا ہے شرح سود میں اضافہ حکومت کے بڑے متغیر شرح والے قرضے کو مہنگا کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں قرضوں کی ادائیگی کے لیے بجٹ سے مزید رقم مختص کرنا پڑتی ہے
اس عمل کا اثر فوری طور پر مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوتا بلکہ تقریباً 2 سے 3 سہ ماہیوں کے بعد قرضوں کی لاگت پر زیادہ نمایاں اثر پڑتا ہے، کیونکہ متغیر شرح والے قرضوں کی شرح بتدریج دوبارہ مقرر ہوتی ہے
حکومت کے بجٹ پر قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ پہلے ہی انتہائی زیادہ ہے مسلسل 3 برس تک سخت مالی پالیسی اور بنیادی بجٹ میں اضافی رقم بچانے کے باوجود قرضوں کی ادائیگی وفاقی بجٹ کا تقریباً 40 فیصد حصہ کھا رہی ہے اس صورتحال کے باعث حکومت کو ترقیاتی اخراجات اور پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری کم کرنا پڑ رہی ہے
یوں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود بڑھانے کی پالیسی ایک طرف قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کرتی ہے تو دوسری طرف حکومت کے قرضوں کی لاگت بڑھا کر مالی دباؤ میں اضافہ کر سکتی ہے
پاکستان میں مہنگائی کی ایک بڑی وجہ رسد کا مسئلہ بھی ہے روپے کی اچانک قدر میں کمی، عالمی منڈی میں اجناس کی قیمتوں میں اضافہ، بجلی اور توانائی کے نرخوں میں بار بار تبدیلی اور خوراک کی فراہمی میں رکاوٹیں قیمتوں کو اوپر لے جاتی ہیں
اس کے علاوہ سیلاب، شدید گرمی، فصلوں کو نقصان اور موسمیاتی تبدیلی بھی معیشت کے لیے بڑے خطرات بن چکے ہیں قدرتی آفات نہ صرف بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ خوراک کی قیمتیں بڑھانے اور حکومت کے مالی وسائل پر اضافی دباؤ ڈالنے کا سبب بھی بنتی ہیں
پاکستان کی درآمدی ایندھن پر زیادہ انحصار بھی معیشت کو عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے سامنے انتہائی کمزور بناتا ہے۔ عالمی سطح پر تیل یا دیگر اہم اجناس کی قیمت بڑھنے سے ملکی معیشت پر فوری دباؤ پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی اور معاشی عدم استحکام میں اضافہ ہو سکتا ہے
ماہرین کے مطابق حکومت کو قرضوں کے ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ متغیر شرح والے قرضوں کا حصہ کم کرکے مقررہ شرح والے قرضوں میں اضافہ، قرضوں کی مدت بڑھانا اور حکومتی قرضوں کو دوبارہ ترتیب دینا ضروری ہے تاکہ شرح سود میں تبدیلی سے سرکاری خزانے پر پڑنے والا اثر کم کیا جا سکے
اسی طرح موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پانی کے بہتر انتظام، زرعی بنیادی ڈھانچے، ذخیرہ اندوزی اور خوراک کی ترسیل کے نظام کو جدید بنانا ہوگا درآمدی توانائی پر انحصار کم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ عالمی قیمتوں کے جھٹکوں سے ملکی معیشت کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھا جا سکے
معاشی ماہرین کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کا مستقل حل صرف شرح سود بڑھانے میں نہیں بلکہ حکومتی قرضوں، توانائی، خوراک، زراعت، درآمدی انحصار اور موسمیاتی خطرات سے متعلق بنیادی مسائل کو حل کرنے میں ہے





