پاکستان میں سرمایہ کاری کے بڑے وعدے، مگر حقیقی سرمایہ کاری کہاں ہے؟
پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک اہم تبدیلی سامنے آ رہی ہے خلیجی ممالک کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے اعلانات اب صرف بڑے بڑے وعدوں تک محدود رکھنے کے بجائے حقیقی کاروباری منصوبوں، ملکیت اور منافع بخش سرمایہ کاری کی طرف بڑھ رہے ہیں ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے اصل کامیابی سرمایہ کاری کے اعلانات نہیں بلکہ اس رقم کا ملک میں آنا اور پیداواری منصوبوں میں استعمال ہونا ہے
سعودی عرب کی ریکو ڈک تانبے اور سونے کے منصوبے میں دلچسپی اس تبدیلی کی ایک اہم مثال ہے ریکو ڈک پاکستان کو عالمی تانبے کی فراہمی کے نظام کا حصہ بننے کا موقع دے سکتا ہے، کیونکہ بجلی کے بڑھتے استعمال، قابل تجدید توانائی اور عالمی توانائی کی تبدیلی کے باعث تانبے کی طلب طویل عرصے تک اہم رہنے کی توقع ہے
اس منصوبے میں ایشیائی ترقیاتی بینک، عالمی بینک کے بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور امریکی درآمدی و برآمدی بینک جیسے عالمی اداروں کی شمولیت بھی اہم ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے منصوبوں کو اب صرف سیاسی تعلقات کی بنیاد پر نہیں بلکہ منصوبے کی مالی صلاحیت، سرمایہ کاری کے ڈھانچے اور کاروباری خطرات کی بنیاد پر بھی جانچا جا رہا ہے
سعودی آرامکو کی گیس اینڈ آئل پاکستان لمیٹڈ میں 40 فیصد حصص کی خریداری بھی اسی تبدیلی کی مثال ہے یہ محض مفاہمتی یادداشت یا سرمایہ کاری کے وعدے کے بجائے حقیقی ملکیت ہے، جس کے ساتھ کاروباری ذمہ داری، انتظامی کردار اور پاکستانی مارکیٹ کی کارکردگی سے براہ راست وابستگی بھی شامل ہے
پاکستان میں ایک بنیادی مسئلہ یہ رہا ہے کہ سرمایہ کاری میں دلچسپی، سرمایہ کاری کے وعدے اور حقیقی سرمایہ کاری کو اکثر ایک ہی چیز سمجھ لیا جاتا ہے کسی سرمایہ کار کی دلچسپی کا اظہار سرمایہ کاری نہیں ہوتا، مفاہمتی یادداشت سرمایہ نہیں ہوتی، مالی معاہدہ مکمل ہونا بھی لازماً رقم کی منتقلی نہیں ہوتا، جبکہ بڑے مالیاتی اعداد و شمار کا اعلان بھی ضروری نہیں کہ ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کردے
خلیجی ممالک کے بڑے سرمایہ کاری ادارے اور کمپنیاں تجارتی منافع، طویل مدتی قدر اور حکمت عملی کے فوائد دیکھ کر سرمایہ لگاتے ہیں اس لیے پاکستان کو صرف خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی فہرست پیش کرنے کے بجائے ایسے منصوبے سامنے لانے ہوں گے جن کی قدر واضح ہو، انتظام شفاف ہو، کاروباری منصوبہ قابل عمل ہو اور قوانین میں اچانک تبدیلی کا خطرہ کم ہو
معدنی شعبے میں یہ ضرورت مزید واضح ہوجاتی ہے جو سرمایہ کار 20 یا 30 سال کے لیے سرمایہ لگاتا ہے اسے صرف معدنی ذخائر کی موجودگی پر اعتماد نہیں چاہیے بلکہ اسے کان کنی کے حقوق، ٹیکس، رائلٹی، ماحولیاتی ذمہ داریوں، زمین تک رسائی، سکیورٹی اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے اختیارات کے بارے میں بھی واضح یقین دہانی درکار ہوتی ہے
اصل فرق قرض اور پیداواری سرمایہ کاری کے درمیان ہے قرض وقتی طور پر زرمبادلہ فراہم کرسکتا ہے، بینکوں کی رقم یا قرض کی تجدید مالی بحران کو کچھ عرصے کے لیے مؤخر کرسکتی ہے، جبکہ مالیاتی منڈیوں میں آنے والا سرمایہ ضرورت پڑنے پر تیزی سے واپس بھی جا سکتا ہے اس کے برعکس ایک کامیاب کان دہائیوں تک برآمدی آمدنی پیدا کرسکتی ہے، ایک مسابقتی صنعتی منصوبہ درآمدات کم کرکے برآمدات بڑھا سکتا ہے، بہتر نقل و حمل پاکستانی مصنوعات کی لاگت کم کرسکتی ہے اور توانائی میں سرمایہ کاری درآمدی ایندھن پر زرمبادلہ کا دباؤ کم کرسکتی ہے
اعداد و شمار بھی پاکستان کے سرمایہ کاری کے مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی خالص آمد مالی سال 2026 میں تقریباً 1.64 ارب ڈالر رہی، جو مالی سال 2025 کے 2.48 ارب ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 34 فیصد کم ہے۔ مجموعی آمد زیادہ تھی، لیکن بیرون ملک جانے والی رقوم نے ملک میں برقرار رہنے والی خالص سرمایہ کاری کو کم کردیا
تاہم بڑے معدنی، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں سرمایہ ایک ہی وقت میں نہیں آتا۔ پہلے قابل عمل ہونے کا جائزہ، اجازت نامے، مالی انتظامات، تعمیر اور پھر مرحلہ وار اخراجات ہوتے ہیں اس لیے ہر اعلان کو فوراً ناکام سمجھنا بھی درست نہیں، لیکن حکومت کے لیے یہ ضروری ہے کہ وعدے اور حقیقی سرمایہ کاری کے درمیان فرق واضح طور پر سامنے رکھے
پاکستان میں سرمایہ کاری کی کامیابی کو صرف اس بنیاد پر نہیں ناپنا چاہیے کہ کتنے وفود آئے یا کتنی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ کتنے منصوبے مالی طور پر مکمل ہوئے، کتنا غیر ملکی سرمایہ حقیقتاً ملک میں آیا، کتنے پیداواری اثاثے بنے، کتنی مستقل ملازمتیں پیدا ہوئیں، برآمدی صلاحیت میں کتنا اضافہ ہوا اور ان منصوبوں سے مستقبل میں کتنا زرمبادلہ حاصل یا محفوظ ہوگا
اسی لیے سرمایہ کاری کے ہر منصوبے کو دلچسپی کے اظہار، جانچ پڑتال، معاہدے، مالی تکمیل، رقم کی منتقلی، تعمیر، کاروباری پیداوار اور بالآخر معاشی اثرات کے مختلف مراحل میں جانچنا ضروری ہے ایسا نظام پاکستان کو یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ کون سے منصوبے واقعی آگے بڑھ رہے ہیں اور کون سے صرف کاغذوں اور اعلانات تک محدود ہیں





