پیوٹن سے ملاقات کے اگلے ہی روز وٹکاف اور کشنر کی زیلنسکی سے ملاقات، امریکہ نے روس، یوکرین براہِ راست مذاکرات کی راہ دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر نے ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے طویل ملاقات کے صرف ایک روز بعد کییف پہنچ کر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے مذاکرات کیے ہیں،یہ پیش رفت اس لحاظ سے اہم ہے کہ امریکی وفد نے پہلے روسی صدر سے جنگ کے خاتمے کے امکانات پر بات کی اور اگلے ہی روز یوکرینی قیادت کے سامنے واشنگٹن کی تجاویز رکھیں،امریکی حکام اب دوبارہ روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات شروع کرانے کی کوشش کر رہے ہیں
ماسکو میں 5 ستمبر کو وٹکاف اور کشنر کی پیوٹن سے تین گھنٹے سے زیادہ ملاقات ہوئی تھی،ملاقات کے بعد امریکی حکام نے اسے آئندہ مذاکرات کے لیے مفید قرار دیا، لیکن روس کی جانب سے جنگ ختم کرنے کے لیے کسی بڑے سمجھوتے کا اعلان نہیں کیا گیا،پیوٹن نے اس کے برعکس روس کے جنگی مقاصد اور ان بنیادی مسائل کے حل پر زور دیا جنہیں ماسکو تنازعہ کی اصل وجہ قرار دیتا ہے
اس کے بعد وٹکاف اور کشنر 6 ستمبر کو کییف پہنچے، جہاں یہ ان کا یوکرین پر روسی حملے کے آغاز کے بعد پہلا دورہ تھا،زیلنسکی نے مذاکرات کو انتہائی سنجیدہ اور بامعنی قرار دیا،ملاقات میں ممکنہ امن عمل کے ساتھ یوکرین کے لیے موسم سرما کی امداد، فضائی دفاع، توانائی کے بنیادی ڈھانچے، طویل المدتی سلامتی کی ضمانتوں اور جنگ کے بعد اقتصادی تعاون پر بھی بات ہوئی
یوکرین کے لیے سب سے فوری مسئلہ فضائی دفاع ہے،زیلنسکی نے خاص طور پر پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کی ضرورت پر زور دیا، کیونکہ کییف کو خدشہ ہے کہ سردیوں میں روس یوکرین کے بجلی اور توانائی کے نظام پر دوبارہ بڑے حملے کرے گا،زیلنسکی نے واضح کیا کہ اگر جنگ موسم سرما تک جاری رہتی ہے تو یوکرین کو فضائی دفاع اور توانائی کے شعبے میں امریکی اور یورپی مدد کی شدید ضرورت ہوگی
تاہم مذاکرات کی اہمیت کے باوجود کوئی ایسا معاہدہ سامنے نہیں آیا جس سے یہ تاثر ملے کہ جنگ فوری طور پر ختم ہونے والی ہے،زیلنسکی نے خود کہا کہ یوکرین کو جنگ کے موسم سرما تک جاری رہنے کا خدشہ ہے،امریکی وفد بھی کسی حتمی امن معاہدے کا اعلان کیے بغیر واپس روانہ ہوا
اصل پیش رفت یہ ہے کہ واشنگٹن اب دوبارہ تین فریقی مذاکرات کی راہ تلاش کر رہا ہے،امریکی حکام نے کہا ہے کہ ماسکو اور کییف میں ہونے والی بات چیت کے بعد اگلے اقدامات کے لیے منصوبے زیر غور ہیں اور آئندہ ہفتوں میں مزید مذاکرات کا اعلان کیا جا سکتا ہے،یورپی ممالک کے سکیورٹی حکام بھی کییف میں ہونے والی بات چیت کے ایک مرحلے میں شریک ہوئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ امن عمل کو صرف روس اور یوکرین تک محدود رکھنے کے بجائے یورپی اتحادیوں کو بھی اس میں شامل رکھنا چاہتا ہے
لیکن سب سے بڑی رکاوٹ اب بھی وہی ہے جو گزشتہ مذاکرات میں موجود تھی، یعنی یوکرین کی علاقائی سالمیت، روس کے زیر قبضہ علاقوں کا مستقبل اور یوکرین کو جنگ کے بعد کس نوعیت کی سلامتی کی ضمانتیں دی جائیں گی،ان بنیادی معاملات پر ماسکو اور کییف کے مؤقف میں اب بھی نمایاں فرق موجود ہے،اسی لیے وٹکاف اور کشنر کی پے در پے ماسکو اور کییف ملاقاتوں کو امن معاہدے کے بجائے مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرنے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے
یوں ٹرمپ انتظامیہ نے ایک ہی ہفتے کے آخر میں روسی اور یوکرینی قیادت کے ساتھ براہِ راست رابطہ بحال کر کے یہ اشارہ دیا ہے کہ واشنگٹن یوکرین جنگ کو دوبارہ اپنی سفارتی ترجیحات میں نمایاں مقام دینا چاہتا ہے،مگر اس وقت تک دستیاب شواہد یہ بتاتے ہیں کہ بات چیت کا دروازہ دوبارہ کھلا ہے، جنگ ختم کرنے کا راستہ ابھی طے نہیں ہوا





