امریکہ میں پہلا مسلمان سینیٹر بننے کی دوڑ: عبدالسید کی مسلم شناخت اب انتخابی طاقت بھی ہے اور سیاسی امتحان بھی
مشی گن سے ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹ امیدوار عبدالسید کی انتخابی مہم امریکی سیاست میں ایک ایسے مرحلے پر پہنچ گئی ہے جہاں ان کی مسلم شناخت محض ذاتی پس منظر نہیں رہی بلکہ قومی سیاسی بحث کا اہم موضوع بن چکی ہے، وہ نومبر میں کامیاب ہوتے ہیں تو امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر بن سکتے ہیں، لیکن ان کے گرد جاری سیاسی کشمکش یہ بھی دکھا رہی ہے کہ ایک مسلمان امیدوار کے لیے مذہب، اسرائیل، فلسطین اور ترقی پسند سیاست کے سوالات کس طرح ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں
عبدالسید نے حالیہ خطاب میں اپنی مسلم شناخت کو چھپانے کے بجائے اسے امریکی شناخت کے ساتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ مشی گن کے لوگوں کے لیے کسی شخص کا کردار اس کے مذہب یا نسلی پس منظر سے زیادہ اہم ہونا چاہیے،یہ مؤقف اس وقت سامنے آیا جب وہ اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ کے سالانہ اجتماع میں شریک ہوئے، جس کے بعض مقررین کے ماضی کے بیانات پہلے ہی تنازعہ کا باعث بن چکے تھے
دوسری طرف قدامت پسند امریکی حلقے عبدالسید کے سیاسی روابط اور ماضی کے بیانات کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں،فاکس نیوز نے آج کی اپنی تفصیلی رپورٹ میں ان کے برنی سینڈرز، رشیدہ طلیب، الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز اور ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ سے روابط کو نمایاں کیا ہے،عبدالسید خود کو سوشلسٹ قرار دینے سے انکار کرتے ہیں، لیکن ان کی ماضی کی سیاسی سرگرمیوں اور ترقی پسند حلقوں سے قربت کو ان کے مخالفین انتخابی مسئلہ بنا رہے ہیں
مسلم برادری سے ان کے روابط بھی اسی طرح سیاسی بحث کا حصہ بن گئے ہیں،فاکس نیوز نے بعض مسلم مذہبی شخصیات کے ساتھ ان کی موجودگی اور ایسے بیانات کو نمایاں کیا ہے جنہیں یہودی مخالف یا حماس اور حزب اللہ کے بارے میں ہمدردانہ قرار دیا گیا ہے،عبدالسید کے حامی اس تنقید کو ان کی مسلم شناخت اور فلسطین کے بارے میں ان کے واضح مؤقف کو سیاسی طور پر مشکوک بنانے کی کوشش سمجھتے ہیں، جبکہ مخالفین اسے ان کے سیاسی فیصلوں اور روابط کی جائز جانچ قرار دیتے ہیں
یہ تنازعہ پہلے ہی قومی سطح پر پھیل چکا ہے،نائب صدر جے ڈی وینس نے عبدالسید پر شدید تنقید کی ہے، جبکہ عبدالسید نے جواب میں کہا ہے کہ امریکی سیاست میں ان کے خلاف مذہبی تعصب کے اشارے استعمال کیے جا رہے ہیں،وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ یہودیوں کی سلامتی کے لیے ان کا عزم اتنا ہی مضبوط ہے جتنا اپنے بچوں کی سلامتی کے لیے
عبدالسید کی کامیابی کا دوسرا پہلو بھی غیر معمولی ہے،مشی گن میں بڑی عرب اور مسلم آبادی نے ان کی ڈیموکریٹک نامزدگی میں اہم کردار ادا کیا، اور وہ اسرائیل کی پالیسی، فلسطینیوں کے حقوق اور امریکی خارجہ پالیسی پر سخت مؤقف اختیار کر کے اس حلقے میں مقبول ہوئے
یوں عبدالسید کی مہم صرف ایک سینیٹ کی نشست کا مقابلہ نہیں رہی،یہ امریکی سیاست میں ایک بڑے سوال کی علامت بن گئی ہے،کیا ایک مسلمان امیدوار اپنی مذہبی شناخت، فلسطین پر واضح مؤقف اور ترقی پسند سیاسی نظریات کے ساتھ امریکی سیاست کے مرکزی دھارے میں کامیاب ہو سکتا ہے، یا یہی شناخت اس کے خلاف انتخابی ہتھیار بنا دی جائے گی؟
نومبر کا انتخاب اس سوال کا فیصلہ کرے گا، لیکن ایک بات پہلے ہی واضح ہو چکی ہے،امریکہ میں مسلمان اب سیاسی منظرنامے کے کنارے پر کھڑے ووٹر نہیں رہے، بلکہ ان کی نمائندگی کرنے والے امیدوار قومی سیاست کے عین مرکز میں پہنچ چکے ہیں





