نیپال کا المیہ اور ماحولیاتی تبدیلی: فطرت کا انتقام اور بچاؤ کی تدابیر


نیپال کا المیہ اور ماحولیاتی تبدیلی: فطرت کا انتقام اور بچاؤ کی تدابیر
(تحریر ۔ خالد مسعود چوہدری)

قدرت کے قہر کا کوئی رنگ اور کوئی روپ نہیں ہوتا، وہ جب بھی آتی ہے، تباہی کے سوا کچھ نہیں چھوڑتی۔ حال ہی میں نیپال میں پیش آنے والا ہولناک سانحہ اس بات کا تلخ ترین ثبوت ہے۔ پہاڑوں کی وادیوں میں اچانک آنے والے بھیانک سیلابوں اور زمین کھسکنے کے واقعات نے نہ صرف سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں جانیں نگل لی ہیں، جبکہ ہزاروں افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔ اس المناک واقعے میں سب سے خوفناک پہلو یہ ہے کہ یہ تباہی بغیر کسی پیشگی انتباہ کے آئی، جس نے پورے خطے کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔

ماہرین ماحولیات اور تجزیہ کاروں کے مطابق نیپال کا یہ المیہ کوئی اتفاقیہ واقعہ نہیں، بلکہ یہ ماحولیاتی تبدیلی کی نذر ہونے والی ایک اور بستی کی علامت ہے۔ انسانی غفلت، بے تحاشہ صنعتی آلودگی، کاربن کے بڑھتے ہوئے اخراج اور اوزون کی تہہ میں ہونے والی کمی نے زمین کے ماحول کو اس قدر غیر مستحکم کر دیا ہے کہ اب فطرت خود کو بچانے کے لیے انتقامی کارروائیوں پر اتر آئی ہے۔ نیپال میں برفانی تودوں کے تیزی سے پگھلنے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آنے والے ان سیلابوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ہمالیہ کا خطہ، جسے دنیا کی آب و ہوا کو متوازن رکھنے والا سمجھا جاتا تھا، اب خود شدید خطرے سے دوچار ہے۔

ایک قریب الوقوع عالمی تباہی

نیپال کا یہ سانحہ دراصل آنے والی عالمی تباہی کا ایک پیش خیمہ ہے۔ اگر ہم نے اپنے رویوں کو نہ بدلا، تو دنیا کا کوئی بھی خطہ محفوظ نہیں رہے گا۔ سائنسدانوں نے پہلے ہی خبردار کر دیا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث سمندروں کی سطح بڑھنے، غیر متوقع موسمی بارشوں، شدید گرمی کی لہروں اور اچانک آنے والے سیلابوں کا سلسلہ بڑھے گا۔ زمین کا درجہ حرارت بڑھنے سے نہ صرف انسانی نسل بلکہ زمین پر موجود دیگر تمام جانداروں کی اقسام کا وجود خطرے میں ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں “ماحولیاتی مہاجرین” کی ایک بڑی تعداد وجود میں آ رہی ہے۔

تباہی کو ٹالنے کے لیے حکمت عملی اور تدابیر

اس ماحولیاتی قیامت سے بچنے کے لیے اب جذباتی بیانات کی نہیں، بلکہ ٹھوس، عملی اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے ہمیں تین سطح پر کام کرنا ہوگا:

1. عالمی اور پالیسی سطح پر اقدامات: عالمی برادری کو پیرس موسمیاتی معاہدے کی روح کے مطابق کاربن کے اخراج کو خالص صفر کرنے کی طرف فوری قدم بڑھانا ہوں گے۔ جیواشم ایندھن (کوئلہ، تیل، گیس) کے استعمال کو مرحلہ وار ختم کر کے قابلِ تجدید توانائی (سورج، ہوا، پانی) پر منتقل ہونا ہوگا۔ ترقی یافتہ ممالک کو اپنی صنعتی آلودگی کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ ترقی پذیر ممالک کو ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے فنڈز اور سائنسی مہارت فراہم کرنی چاہیے۔

2. قومی اور علاقائی سطح پر حکمت عملی: پاکستان اور نیپال جیسے ممالک جو ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، انہیں اپنے بنیادی ڈھانچے کو موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانا ہوگا۔

ابتدائی انتباہی نظام: نیپال کے سانحے نے ثابت کیا کہ پیشگی انتباہ کتنا ضروری ہے۔ ہمیں جدید سائنسی طریقہ کار، معلوماتی تجزیے اور مصنوعی سیارچوں کے ذریعے ایسے نظام قائم کرنے ہوں گے جو اچانک آنے والے سیلابوں اور زمین کھسکنے کی پیشگوئی کر سکیں۔

شجرکاری اور جنگلات کا تحفظ: درختوں کی بلا واسطہ کٹائی کو سختی سے روکنا ہوگا۔ پاکستان میں درختوں کی کاشت کی مہمات کو مزید وسعت دینی ہوگی کیونکہ جنگلات نہ صرف کاربن جذب کرتے ہیں بلکہ مٹی کے کٹاؤ اور سیلاب کو روکنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

پائیدار بنیادی ڈھانچہ: ندی نالوں اور دریاؤں کے قریب بلا روک ٹوک تعمیرات کو روکنا ہوگا۔ بندوں اور پلوں کی تعمیر ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لے کر ہی کرنی چاہیے۔

3. انفرادی سطح پر ذمہ داری: ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ صرف حکومتوں کا کام نہیں، بلکہ یہ ہمارے انفرادی طرزِ زندگی کا مسئلہ ہے۔ ہمیں اپنے کاربن کے اخراج کے اثر کو کم کرنا ہوگا۔ مصنوعی مواد کے استعمال کو ترک کرنا، توانائی کا بلاوجہ ضیاع روکنا، پانی کی بچت کرنا اور اپنے ارد گرد درخت لگانا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔

حرفِ آخر

نیپال میں مرنے والے ہزاروں معصوم افراد کی لاشیں اور لاپتہ ہونے والوں کی چیخیں ہمیں یہ پیغام دے رہی ہیں کہ فطرت کے ساتھ کھیلنے کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔ ہم زمین کے مالک نہیں، بلکہ یہاں کے مہمان ہیں۔ اگر ہم نے اپنی انانیت اور لالچ کو کنٹرول نہ کیا، اور ماحول کو زہر آلود کرنے کا سلسلہ نہ روکا، تو آنے والا وقت ہمیں معاف نہیں کرے گا۔

یاد رکھیے، زمین ہمیں بچانے کے لیے نہیں آئے گی، ہمیں خود کو اور اپنی آنے والی نسلوں کو بچانے کے لیے آج ہی فطرت کے ساتھ صلح کرنا ہوگی۔ ورنہ، فطرت کا انتقام یقیناً بھیانک اور حتمی ہوگا۔

قومی خبریں سے مزید