ڈگریاں ہاتھ میں، مستقبل داؤ پر، پاکستان میں میرٹ کے بحران نے نوجوانوں کو کہاں پہنچا دیا؟

ڈگریاں ہاتھ میں، مستقبل داؤ پر، پاکستان میں میرٹ کے بحران نے نوجوانوں کو کہاں پہنچا دیا؟

بلوچستان میں عدالتی ملازمتوں کی بھرتیوں سے متعلق سامنے آنے والے مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات نے پاکستان میں میرٹ، سفارش اور طاقت کے استعمال کے ایک ایسے مسئلے کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے جس کا اثر صرف چند امیدواروں تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل پر پڑتا ہے
کسی نوجوان کے لیے ملازمت حاصل کرنا صرف ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہوتا۔ کئی خاندان اپنے بچوں کی تعلیم پر برسوں اپنی جمع پونجی خرچ کرتے ہیں۔ نوجوان مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرتے ہیں، راتوں کو جاگ کر پڑھتے ہیں، مہنگی کتابیں خریدتے ہیں اور سالہا سال اپنی زندگی کا بہترین وقت ایک بہتر مستقبل کی امید میں لگا دیتے ہیں
لیکن جب ایک نوجوان کو یہ محسوس ہو کہ آخری فیصلہ قابلیت کے بجائے سفارش، تعلقات یا پیسے سے ہوسکتا ہے تو مسئلہ صرف ایک ملازمت کا نہیں رہتا۔ اس کا اعتماد پورے نظام سے اٹھنے لگتا ہے
عالمی بینک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں پاکستان میں 15 سے 24 سال کی عمر کے تقریباً 34.4 فیصد نوجوان نہ تعلیم حاصل کررہے تھے، نہ روزگار میں تھے اور نہ کسی تربیتی پروگرام میں شامل تھے۔ عالمی بینک کے ایک اور تجزیے میں 2022 کے لیے نوجوانوں میں یہ شرح تقریباً 34.2 فیصد بتائی گئی تھی
یہ اعداد صرف بے روزگاری کی کہانی نہیں سناتے بلکہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے مناسب مواقع سے محروم ہے
صورتحال کا ایک انتہائی تشویش ناک پہلو تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کی مشکلات ہیں عالمی بینک کے اعداد و شمار میں پاکستان میں اعلیٰ تعلیم رکھنے والی افرادی قوت کی بے روزگاری کے لیے بھی الگ اعداد موجود ہیں، جو اس بات کی اہمیت ظاہر کرتے ہیں کہ صرف تعلیم حاصل کرلینا روزگار کی ضمانت نہیں رہا
ایسے ماحول میں اگر بھرتیوں کے کسی مرحلے پر سفارش یا مالی اثر و رسوخ میرٹ پر غالب آنے کا شبہ پیدا ہو تو نقصان کئی گنا بڑھ جاتا ہے
سب سے زیادہ نقصان اس نوجوان کا ہوتا ہے جس کے پاس سفارش نہیں ہوتی
ایک باصلاحیت نوجوان اگر امتحان میں اچھے نمبر حاصل کرے، انٹرویو کے لیے اہل قرار پائے اور تمام شرائط پوری کرے لیکن اسے کسی بااثر امیدوار کے مقابلے میں نظر انداز کردیا جائے تو اس کے سامنے چند راستے رہ جاتے ہیں۔ وہ دوبارہ کوشش کرے، نجی شعبے میں کم اجرت والی ملازمت قبول کرے، اپنا کاروبار شروع کرنے کی کوشش کرے یا بیرون ملک بہتر مواقع تلاش کرے
یہی وجہ ہے کہ پاکستان سے بیرون ملک جانے والے افراد کا معاملہ صرف ہجرت نہیں بلکہ انسانی صلاحیت کے ضیاع کا معاملہ بھی ہے۔ عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں پاکستان کی خالص نقل مکانی تقریباً منفی 1.24 ملین رہی یہ عدد بذات خود یہ ثابت نہیں کرتا کہ بیرون ملک جانے والا ہر شخص میرٹ کے بحران کی وجہ سے گیا، لیکن یہ ملک سے بڑی تعداد میں لوگوں کے باہر جانے کی واضح تصویر ضرور پیش کرتا ہے
پاکستانی معاشرے میں سفارش کا مسئلہ بھی اسی ماحول میں زیادہ خطرناک بن جاتا ہے جب کسی سرکاری یا نیم سرکاری ادارے میں یہ تصور مضبوط ہوجائے کہ کسی کام کے لیے قابلیت سے پہلے کسی بااثر شخص کی سفارش ضروری ہے تو عام شہری کا ریاستی اداروں پر اعتماد کم ہونے لگتا ہے
رشوت اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان نے 2025 کے بدعنوانی کے تاثر کے اشاریے میں 100 میں سے 28 نمبر حاصل کیے اور 182 ممالک میں 136ویں نمبر پر رہا اس اشاریے میں صفر انتہائی بدعنوان اور 100 انتہائی صاف نظام کی نمائندگی کرتا ہے
اسی ادارے کے پاکستان سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق 35 فیصد لوگوں کا خیال تھا کہ گزشتہ 12 ماہ میں بدعنوانی میں اضافہ ہوا، جبکہ دستیاب تازہ ترین عوامی خدمت کے اعداد میں 25 فیصد عوامی خدمت استعمال کرنے والوں نے گزشتہ 12 ماہ میں رشوت دینے کی اطلاع دی تھی
یہ اعداد پاکستان کے ہر شہری یا ہر سرکاری افسر کو بدعنوان ثابت نہیں کرتے پاکستان میں بے شمار دیانت دار اور محنتی لوگ بھی موجود ہیں جو مشکل حالات میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اصل مسئلہ وہ نظام ہے جہاں بدعنوانی کے امکانات موجود ہوں اور طاقتور افراد کو جواب دہ بنانے کے ادارے کمزور پڑ جائیں
میرٹ کے خلاف سب سے خطرناک چیز صرف رشوت نہیں بلکہ طاقت کا غیر منصفانہ استعمال ہے
اگر ایک عام نوجوان کو کسی عہدے کے لیے مقابلہ کرنا ہو اور دوسرے امیدوار کے پاس سیاسی تعلقات، خاندانی اثر و رسوخ یا طاقتور افراد تک براہ راست رسائی ہو تو دونوں بظاہر ایک ہی مقابلے میں شامل ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں ان کے مواقع برابر نہیں رہتے
یہی وہ صورتحال ہے جس میں ایک نوجوان اپنے والدین سے پوچھ سکتا ہے کہ اگر قابلیت کے باوجود کامیابی یقینی نہیں تو پھر تعلیم حاصل کرنے کا فائدہ کیا ہے؟
یہ سوال خطرناک ہے
کیونکہ جب ایک نسل کو محنت اور کامیابی کے درمیان تعلق کمزور نظر آنے لگے تو معاشرہ آہستہ آہستہ محنت، دیانت اور قابلیت کی قدر کھونے لگتا ہے
پھر سفارش معمول بن جاتی ہے
لوگ کہتے ہیں کہ فلاں شخص کو فون کروا دو
فلاں افسر کو جانتے ہو؟
کسی وزیر، رکن اسمبلی، بڑے افسر یا بااثر خاندان سے تعلق ہے؟
اور جب یہ سوچ عام ہوجائے تو میرٹ صرف ایک خوبصورت لفظ بن کر رہ جاتا ہے
اس کے بعد اداروں میں بھی نقصان شروع ہوجاتا ہے
اگر کسی عہدے پر سب سے قابل شخص کے بجائے کم اہل شخص پہنچ جائے تو اس کی قیمت پوری عوام ادا کرتی ہے عدالت ہو، سرکاری دفتر ہو، پولیس ہو، تعلیمی ادارہ ہو یا کوئی انتظامی محکمہ، ہر جگہ قابلیت کا براہ راست تعلق عوام کو ملنے والی خدمت کے معیار سے ہوتا ہے
اسی لیے بھرتیوں میں شفافیت صرف امیدواروں کا مسئلہ نہیں بلکہ عوامی مفاد کا مسئلہ ہے
اگر کسی بھرتی کے بارے میں شکایت سامنے آتی ہے تو اس کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہییں۔ امتحانات کے نتائج، میرٹ فہرستیں، امیدواروں کے نمبرز، انٹرویو کے معیار اور تقرری کی وجوہات زیادہ سے زیادہ شفاف ہونی چاہییں تاکہ کسی امیدوار کو یہ احساس نہ ہو کہ فیصلہ بند کمرے میں کیا گیا
پاکستان کے نوجوانوں کے لیے اصل ضرورت ایسی ریاست کی ہے جہاں کسی غریب گھر کے بچے کو بھی یہ یقین ہو کہ اگر وہ محنت کرے گا تو اس کے لیے راستہ موجود ہے
ایسا نظام جہاں کسی طاقتور شخص کی سفارش کسی مستحق امیدوار کا حق نہ چھین سکے
ایسا نظام جہاں رشوت دینے والا بھی مجرم ہو اور رشوت لینے والا بھی
ایسا نظام جہاں سیاسی تعلقات رکھنے والا شخص قانون سے بالاتر نہ ہو
اور ایسا نظام جہاں کسی ادارے میں اعلیٰ عہدے پر بیٹھا شخص اپنے اختیارات کو ذاتی تعلقات کے لیے استعمال کرنے کی قیمت ادا کرے
پاکستان کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ ملک میں باصلاحیت نوجوان موجود ہیں یا نہیں۔ باصلاحیت نوجوان بڑی تعداد میں موجود ہیں
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ملک انہیں آگے بڑھنے کا منصفانہ موقع دے رہا ہے؟
اگر جواب نفی میں ہو تو پاکستان صرف ایک امیدوار کو ملازمت سے محروم نہیں کرتا بلکہ ممکنہ ڈاکٹر، انجینئر، استاد، افسر، سائنس دان، کاروباری شخص اور مستقبل کے رہنما کو بھی کھو سکتا ہے
اور جب یہی نوجوان بیرون ملک جاکر اپنی قابلیت استعمال کرتے ہیں تو کامیابی ان کی ہوتی ہے، لیکن ان کی تعلیم اور تربیت میں خرچ ہونے والا انسانی سرمایہ پاکستان کا ہوتا ہے
اسی لیے میرٹ کا تحفظ محض اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی اور قومی ضرورت بھی ہے
بلوچستان میں بھرتیوں سے متعلق موجودہ الزامات کی حقیقت کا فیصلہ آزادانہ تحقیقات سے ہی ہونا چاہیے اگر بے ضابطگیاں ثابت ہوتی ہیں تو ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی، متاثرہ امیدواروں کے حقوق کی بحالی اور بھرتی کے نظام میں اصلاحات ضروری ہیں
کیونکہ جس ملک میں نوجوان کو اپنی قابلیت سے زیادہ سفارش کی طاقت پر یقین ہونے لگے، وہاں مسئلہ صرف نوکریوں کا نہیں رہتا
وہاں پورے مستقبل کا سوال پیدا ہوجاتا ہے

قومی خبریں سے مزید