امریکا میں خسرے کا بدترین پھیلاؤ، ویکسین اب کلینک نہیں گھروں کی میزوں تک پہنچ گئی
امریکا میں خسرے کے جاری بدترین وبائی پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پنسلوانیا کے صحتِ عامہ کے کارکنوں نے ایک غیر معمولی حکمتِ عملی اختیار کر لی ہے،اب ویکسینیشن کے مراکز صرف اسپتالوں یا سرکاری عمارتوں تک محدود نہیں رہے بلکہ بعض خاندانوں کے گھروں کے کچن، فائر اسٹیشنوں، عبادت گاہوں اور حتیٰ کہ پڑوسیوں کے گھروں کے برآمدوں تک پہنچ گئے ہیں
ریاست میں صحتِ عامہ کے ماہرین ملک میں اس وقت جاری خسرہ کے سب سے بڑے پھیلاؤ سے نمٹ رہے ہیں،حکام کا کہنا ہے کہ اس وبا سے اب تک 2 افراد جان سے جا چکے ہیں، جن میں ایک نومولود بچہ بھی شامل ہے
اس مہم کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ بعض ویکسینیشن مراکز کے مقامات کی باقاعدہ تشہیر نہیں کی جا رہی،صحت کے کارکن مقامی لوگوں کے ذریعے ایک دوسرے تک اطلاع پہنچانے کے طریقے پر انحصار کر رہے ہیں تاکہ ایسے مقامات پر میڈیا یا احتجاج کرنے والے افراد کی بڑی تعداد جمع نہ ہو
چنانچہ کسی خاندان کو اپنے گھر میں ہی ویکسین لگوانے کی سہولت دی جا رہی ہے،کہیں عارضی مرکز فائر اسٹیشن میں قائم کیا جا رہا ہے، کہیں عبادت گاہ میں، جبکہ بعض مقامات پر صحت کے کارکن کسی مقامی باشندے کے گھر کے سامنے موجود جگہ کو ہی عارضی ویکسینیشن مرکز بنا رہے ہیں
یہ طریقۂ کار اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ صحت کے حکام کے لیے مسئلہ صرف وائرس کو روکنا نہیں بلکہ ان لوگوں تک پہنچنا بھی ہے جو ویکسینیشن کے بارے میں خوف، بداعتمادی یا سماجی دباؤ کا شکار ہیں
خسرہ انتہائی متعدی بیماری ہے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے آبادی میں ویکسینیشن کی بلند شرح بنیادی اہمیت رکھتی ہے،اسی لیے پنسلوانیا میں جاری مہم کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو براہِ راست ویکسین تک پہنچانا ہے، خصوصاً ان خاندانوں کو جو عام ویکسینیشن مراکز تک جانے سے گریز کر رہے ہیں
اس مہم کی سب سے غیر معمولی بات شاید یہی ہے کہ صحتِ عامہ کا روایتی ماڈل، جس میں لوگ ویکسین لگوانے کے لیے کسی مرکز کا رخ کرتے ہیں، یہاں الٹ گیا ہے،اب سرکاری کارکن لوگوں تک پہنچ رہے ہیں، کبھی ان کے گھروں میں اور کبھی ان کے محلے میں، اور بعض اوقات ایک خاندان دوسرے خاندان کو اطلاع دے کر ویکسینیشن تک پہنچنے کا ذریعہ بن رہا ہے
پنسلوانیا کی صورتِ حال اس وسیع تر امریکی بحث کو بھی نمایاں کرتی ہے جس میں خسرہ جیسی بیماریوں کے دوبارہ پھیلنے کے ساتھ ویکسین پر اعتماد، غلط معلومات اور صحتِ عامہ کے اداروں پر عوامی اعتماد ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں
اور جب ایک نومولود سمیت 2 افراد کی موت ہو چکی ہو تو یہ مہم محض ایک طبی پروگرام نہیں رہتی،یہ اس کوشش میں بدل جاتی ہے کہ ایک ایسے وائرس کو دوبارہ قابو میں رکھا جائے جسے امریکا نے کبھی تقریباً ختم کر دیا تھا





