ٹورنٹو میں 100 سالہ طوفان کے بعد بحالی کا عمل تیز، ہزاروں گھروں کی بجلی بحال
ٹورنٹو میں شدید بارش، ژالہ باری اور تیز ہواؤں کے باعث آنے والے غیر معمولی طوفان کے بعد شہر میں صفائی اور بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔l بدھ کی شام آنے والے طوفان نے شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر سیلابی صورتحال پیدا کردی، درخت اور بجلی کی تاریں گر گئیں جبکہ متعدد سڑکیں اور شہری سہولیات متاثر ہوئیں
طوفان کے دوران ٹورنٹو میں تقریباً 65,000 صارفین کی بجلی منقطع ہوگئی حکام کے مطابق جمعرات کی صبح تک تقریباً 90 فیصد گھروں کی بجلی بحال کردی گئی تھی، جبکہ بجلی کی باقی فراہمی بحال کرنے کے لیے عملہ کام کرتا رہا
شدید بارش کے باعث ڈان دریا اپنے کناروں سے باہر آگیا اور ڈان ویلی پارک وے کے کچھ حصے بند کرنا پڑے گھروں میں پانی داخل ہونے کے علاوہ درخت اور بجلی کی تاریں گرنے کے واقعات بھی سامنے آئے ٹورنٹو کی زیر زمین ٹرین سروس اور ٹورنٹو آئی لینڈ جانے والی کشتی سروس بھی عارضی طور پر معطل رہی
موسمی صورتحال کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شہر کے بعض علاقوں میں صرف چند گھنٹوں کے دوران تقریباً 150 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ اگست میں ٹورنٹو میں اوسط ماہانہ بارش تقریباً 78 ملی میٹر رہتی ہے
ٹورنٹو کی میئر اولیویا چو نے جمعرات کو کہا کہ طوفان گزر چکا ہے اور شہر کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کام میں مصروف ہیں ان کے مطابق ڈان ویلی پارک وے دوبارہ کھول دیا گیا ہے اور شہر کی بیشتر خدمات معمول پر آچکی ہیں
شہر کے حکام کے مطابق طوفان کے بعد تقریباً 1,000 شہری درخواستیں موصول ہوئیں، جبکہ فائر حکام کو 24 گھنٹوں کے دوران تقریباً 1,500 ہنگامی کالز موصول ہوئیں۔ حکام کے مطابق یہ ایک دن میں کالز کی دوسری سب سے زیادہ تعداد تھی، جبکہ 2013 کا برفانی طوفان اس سے زیادہ ہنگامی کالز کا سبب بنا تھا
ٹورنٹو کے سٹی مینیجر پال جانسن کے مطابق بارش کی مقدار شہر کے مقرر کردہ معیار کے تحت 100 سالہ طوفان کے درجے میں آتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈان دریا نے طوفان کا سب سے زیادہ دباؤ برداشت کیا، جبکہ گزشتہ برسوں میں سیلاب سے بچاؤ کے لیے کیے گئے اقدامات نے صورتحال کو سنبھالنے میں مدد دی
حکام نے شہریوں سے کہا ہے کہ اگر انہیں طوفان سے ہونے والے نقصان، گرے ہوئے درختوں یا شہری خدمات سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ 311 پر رابطہ کریں۔ شہر کے مطابق بیشتر شہری خدمات بحال ہوچکی ہیں، تاہم بعض علاقوں میں صفائی اور سیلاب کے اثرات سے نمٹنے کا کام جاری ہے





