گلوریا اسٹائنم ، طاقت تضاد اور مساوات کی علامت
گلوریا اسٹائنم جو بانوے برس کی عمر میں دو ستمبر کو نیویارک میں انتقال کرگئیں، وہ نصف صدی سے زیادہ عرصے تک امریکی خواتین کی آزادی، مساوات اور سیاسی حقوق کی جدوجہد کا ایک نمایاں چہرہ رہیں، ان کی طاقت صرف یہ نہیں تھی کہ وہ ایک مؤثر مقرر یا مصنف تھیں، بلکہ یہ تھی کہ انہوں نے ایسے سوالات کو امریکی سیاست اور معاشرے کے مرکز میں پہنچا دیا جنہیں پہلے اکثر نجی یا ثانوی معاملات سمجھا جاتا تھا
لیکن اسٹائنم کی میراث کا دوسرا پہلو اس کے تضادات ہیں،وہ طاقت کے روایتی ڈھانچوں کی ناقد تھیں، مگر خود امریکی نسوانی تحریک کی سب سے طاقتور اور پہچانی جانے والی شخصیات میں شامل ہو گئیں،وہ درجہ بندی کے بجائے برابری اور باہمی شراکت کی بات کرتی تھیں اور طاقت کو دوسروں پر اختیار کے بجائے کچھ کرنے کی صلاحیت سمجھتی تھیں
ان کا ایک بڑا تصور یہ تھا کہ حقیقی طاقت ’‘کسی پر طاقت’’ نہیں بلکہ ‘‘کچھ کرنے کی طاقت’’ ہے،اسی لیے وہ تنظیم سازی، اجتماعی جدوجہد اور خواتین کے ایک دوسرے کا ساتھ دینے پر زور دیتی رہیں،انہوں نے 1972 میں خواتین کے لیے رسالہ مس شروع کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا، کیونکہ ان کے نزدیک میڈیا میں خواتین کی آواز اور اختیار انتہائی محدود تھا
ان کی زندگی میں ایک اور دلچسپ تضاد یہ تھا کہ وہ ایک ایسی تحریک کی علامت بن گئیں جسے اکثر ایک مخصوص نظریاتی اور ثقافتی انداز سے جوڑا جاتا تھا، لیکن خود اسٹائنم نے نسوانیت کی تعریف کو وسیع کرنے کی کوشش کی،مثال کے طور پر انہوں نے ڈولی پارٹن جیسی شخصیت میں بھی نسوانی خود اختیاری اور معاشی آزادی کی مثال دیکھی، حالانکہ پارٹن خود لازماً روایتی سیاسی معنوں میں خود کو نسوانی تحریک سے منسوب نہیں کرتی تھیں
شاید یہی اسٹائنم کی سب سے بڑی طاقت تھی،وہ نسوانیت کو صرف عورتوں کے حقوق کی تحریک نہیں بلکہ طاقت، اختیار اور انسانی آزادی کے سوال کے طور پر پیش کرتی تھیں
اور ان کی سب سے بڑی میراث شاید کوئی قانون، رسالہ یا سیاسی مہم نہیں، بلکہ یہ خیال ہے کہ معاشرے میں جو چیز ہمیشہ سے معمول سمجھی جاتی رہی ہو، اسے سوال کے کٹہرے میں کھڑا کرنا بھی ایک سیاسی عمل ہے
اسٹائنم نے یہی کیا،اسی لیے ان کی موت کے بعد بھی بحث صرف اس بات پر نہیں ہو رہی کہ انہوں نے کیا حاصل کیا، بلکہ اس پر بھی جاری ہے کہ انہوں نے امریکی معاشرے کو طاقت اور مساوات کے بارے میں سوچنے کا انداز کس حد تک بدل دیا





