اسلام آباد کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ: ایس سی او کی سربراہی، پانی کی جنگ اور نئی علاقائی سفارت کاری
بشکیک میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہ کانفرنس نے پاکستان کو محض ایک شریک ملک کے بجائے آئندہ ایک سال کے لیے اس علاقائی تنظیم کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے،پاکستان نے تنظیم کی گردشی صدارت سنبھال لی ہے، 2027 کی سربراہ کانفرنس اسلام آباد میں ہوگی اور لاہور کو 2026-27 کے لیے تنظیم کا سیاحتی و ثقافتی دارالحکومت قرار دیا گیا ہے،بظاہر یہ سفارتی اعزازات ہیں، لیکن ان کے پیچھے وسطی اور جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی طاقت کی سیاست کا ایک زیادہ اہم منظرنامہ موجود ہے
اسلام آباد کے لیے اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ پاکستان ایک ایسے وقت میں تنظیم کی قیادت سنبھال رہا ہے جب شنگھائی تعاون تنظیم خود ایک بڑے جغرافیائی اور سیاسی تجربے سے گزر رہی ہے،چین، روس، بھارت، ایران، پاکستان اور وسطی ایشیا کی ریاستیں ایک ہی فورم پر موجود ہیں، مگر ان کے باہمی مفادات ہمیشہ یکساں نہیں،بھارت اور پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہیں، چین اور بھارت کے درمیان اپنے اختلافات ہیں، جبکہ روس، چین اور وسطی ایشیا اپنی اپنی ترجیحات کے ساتھ اس فورم کو دیکھتے ہیں،ایسے ماحول میں تنظیم کی قیادت محض اجلاسوں کی صدارت نہیں بلکہ مختلف مفادات کے درمیان توازن قائم کرنے کی سفارتی صلاحیت کا امتحان بھی ہے
پاکستان نے اسی پس منظر میں پانی کے مسئلے کو بھی علاقائی سفارت کاری کا موضوع بنانے کی کوشش کی ہے،وزیر اعظم شہباز شریف نے بشکیک میں واضح طور پر کہا کہ پانی کو سیاسی دباؤ یا جبر کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے،یہ بیان براہ راست بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کے تنازعے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے
یہ تنازعہ محض دو ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا معاملہ نہیں رہا،پاکستان کی زرعی معیشت کا ایک بہت بڑا حصہ دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ ہے، جبکہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ تین مغربی دریاؤں، سندھ، جہلم اور چناب، پر پاکستان کے بنیادی آبی مفادات کو تسلیم کرتا ہے اور بھارت کو ان دریاؤں پر مخصوص استعمال کی اجازت دیتا ہے
اپریل 2025 میں پہلگام حملے کے بعد بھارت نے معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا،پاکستان نے اس اقدام کو مسترد کیا اور معاملہ بین الاقوامی قانونی نظام میں لے جانے کی کوشش جاری رکھی،اگست 2026 کے آخر میں ہیگ میں قائم ثالثی عدالت نے پاکستان کے لیے اہم قانونی پیش رفت کرتے ہوئے قرار دیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے سے اپنی ذمہ داریاں اس طرح ختم نہیں کرسکتا اور بعض آبی منصوبوں سے متعلق پاکستانی اعتراضات بھی قابل غور ہیں،عدالت نے رتلے پن بجلی منصوبے سے متعلق تعمیراتی حدود کے معاملے پر بھی پاکستان کی درخواست کے حق میں فیصلہ دیا
لیکن یہاں ایک اہم حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا،بھارت نے اس ثالثی کے دائرۂ اختیار کو تسلیم نہیں کیا اور فیصلے کو اپنی خودمختار پالیسی پر اثر انداز ہونے سے انکار کیا ہے،اس لیے ہیگ کا فیصلہ پاکستان کے لیے ایک مضبوط قانونی اور سفارتی دلیل ضرور ہے، مگر اسے اس تنازعے کا آخری باب کہنا قبل از وقت ہوگا،اصل امتحان یہ ہے کہ اس قانونی کامیابی کو عملی سطح پر کس حد تک نافذ کرایا جاسکتا ہے
یہیں سے پاکستان کی موجودہ سفارت کاری کا اصل پہلو سامنے آتا ہے،اسلام آباد بیک وقت تین محاذوں پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے،بین الاقوامی قانون، علاقائی سفارت کاری اور کثیر ملکی تنظیموں میں عملی سیاسی حمایت
شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت اس حکمت عملی کے لیے ایک غیر معمولی پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے،پاکستان اب اگلے ایک سال تک تنظیم کے ایجنڈے، اجلاسوں اور علاقائی تعاون کے مختلف شعبوں میں اپنی ترجیحات پیش کرنے کی پوزیشن میں ہے،2027 میں اسلام آباد میں سربراہ اجلاس کا انعقاد اس موقع کو مزید اہم بنا دیتا ہے
لاہور کو تنظیم کا سیاحتی و ثقافتی دارالحکومت قرار دیا جانا بھی اسی تصویر کا نرم مگر اہم پہلو ہے،یہ فیصلہ پاکستان کو صرف سلامتی اور تنازعات کے تناظر میں پیش کرنے کے بجائے اس کے تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی ورثے کو وسطی ایشیا، چین، روس اور دیگر رکن ممالک کے عوام تک پہنچانے کا موقع فراہم کرتا ہے
تاہم اسلام آباد کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ ان سفارتی کامیابیوں کو علامتی اعزازات تک محدود نہ رہنے دیا جائے،شنگھائی تعاون تنظیم کی اصل اہمیت تب سامنے آئے گی جب پاکستان اپنی صدارت کے دوران علاقائی تجارت، توانائی، ٹرانسپورٹ، وسطی ایشیا تک رسائی، انسداد دہشت گردی اور اقتصادی رابطوں کے ایسے منصوبوں کو آگے بڑھائے جو تنظیم کے ارکان کے مشترکہ مفادات سے جڑتے ہوں
اسی طرح پانی کے معاملے میں بھی پاکستان کے لیے صرف بھارت کے خلاف سفارتی بیانات کافی نہیں ہوں گے،اسے اپنے آبی وسائل کی بہتر منصوبہ بندی، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، نہری نظام کی اصلاح، پانی کے ضیاع میں کمی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اندرونی اصلاحات بھی کرنا ہوں گی
بشکیک اجلاس کا سب سے اہم پیغام شاید یہی ہے کہ پاکستان کے لیے علاقائی سیاست میں نئی گنجائش پیدا ہوئی ہے،چین اور روس کی قیادت میں ابھرنے والے کثیر قطبی نظام میں شنگھائی تعاون تنظیم پاکستان کو ایک ایسا پلیٹ فارم دیتی ہے جہاں وہ بھارت کے ساتھ اپنے اختلافات کے باوجود وسطی ایشیا، چین، روس اور ایران کے ساتھ بیک وقت تعلقات آگے بڑھا سکتا ہے
اسلام آباد کی اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب وہ اس موقع کو صرف ایک سفارتی فتح کے طور پر نہیں بلکہ ایک طویل مدتی علاقائی حکمت عملی کے آغاز کے طور پر استعمال کرے،اگر ایسا ہوا تو 2026-27 کی شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت پاکستان کے لیے محض ایک اعزازی منصب نہیں رہے گی بلکہ اس کی خارجہ پالیسی میں ایک ایسے موڑ کی حیثیت اختیار کرسکتی ہے جہاں پاکستان جنوبی ایشیا کے تنازعات سے آگے بڑھ کر یوریشیا کے وسیع تر سیاسی، معاشی اور سفارتی نقشے میں اپنا کردار ازسرنو متعین کرے





