ڈرٹی ہیری‘‘ سے نیکٹا تک، فیصل نصیر کو فوج سے نکال کر دہشت گردی کے خلاف سول نظام کے مرکز میں کیوں لایا گیا، انکی نئی تقرری تحریک انصاف سے ڈیل کا نتیجہ ہے ؟

ڈرٹی ہیری‘‘ سے نیکٹا تک، فیصل نصیر کو فوج سے نکال کر دہشت گردی کے خلاف سول نظام کے مرکز میں کیوں لایا گیا، انکی نئی تقرری تحریک انصاف سے ڈیل کا نتیجہ ہے ؟

رپورٹ آفاق فاروقی
میجر جنرل فیصل نصیر کی بظاہر ذمہ داری تبدیل کرکے فوج سے الگ کرنے کے بعد ایک ایسے سویلین ادارے نیکٹا کا سربراہ بنا دیا گیا ہے جس کا کنٹرول فوج کے پاس ہے مگر ایک سویلین ادارہ شمار کیا جاتا ہے ، جس کی سربراہی کے دوران وردی انکے جسم کا حصہ رہے گی مگر وردی سے جڑے محکمے سے انہیں دور کردیا گیا ہے ، میجر جنرل فیصل نصیر کو 3 سال کے لیے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی یعنی نیکٹا کا قومی رابطہ کار مقرر کردیا گیا ہے،اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ تقرری وفاقی حکومت کی منظوری سے فوری طور پر مؤثر ہوگئی ہے
یہ تقرری اس لیے معمول کی سرکاری تعیناتی نہیں سمجھی جارہی کہ فیصل نصیر وہی آئی ایس آئی افسر ہیں جنہیں عمران خان نے ’’ڈرٹی ہیری‘‘ کا نام دیا تھا اور جن پر تحریک انصاف کی جانب سے سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں،ان کا نام 2022 کے بعد تحریک انصاف کی سیاسی مزاحمت کے دوران نمایاں طور پر سامنے آیا، اور انکی نئی اچانک تقرری کو سیاسی حلقے فوجی اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کے درمیان کسی ڈیل کی خبروں اطلاعات اور افواہوں کے پسمنظر میں دیکھتے ہوئے ڈیل کی پہلی قربانی قرار دے رہے ہیں کہ میجر جنرل فیصل نصیر کی اچانک شعبہ جاتی تبدیلی تحریک انصاف سے بہتر انڈر اسٹینڈنگ اور Good gesture کا نتیجہ ہے ، جبکہ کچھ حلقوں کا یہ بھی خیال ہے ممکن ہے انہیں فوجی حلقوں میں بھی پسندیدگی کی نگاہ سے نہ دیکھے جانے کے باعث انکے موجودہ عہدے سے الگ کیا گیا ہو
فیصل نصیر آئی ایس آئی میں انسدادِ دہشت گردی اور انسدادِ جاسوسی کے انتہائی حساس عہدے پر فائز رہے ہیں اور اسی وجہ سے انہیں پاکستان کے طاقتور ترین انٹیلی جنس افسروں میں شمار کیا جاتا رہا، اب انہیں اسی فوجی انٹیلی جنس ڈھانچے سے نکال کر ایک ایسے ادارے میں بھیجا گیا ہے جس کی بنیادی ذمہ داری مختلف ریاستی اداروں کو ایک میز پر لاکر دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف قومی حکمت عملی بنانا ہے
یہاں نیکٹا کی اصل نوعیت سمجھنا ضروری ہے
نیکٹا کوئی نئی خفیہ ایجنسی یا فوجی کمانڈ نہیں، اسے 2008 میں قائم کیا گیا اور 2013 کے قانون کے تحت اسے انتظامی اور مالی خودمختاری کے ساتھ ایک قانونی ادارہ بنایا گیا،اس کا کام مختلف اداروں سے معلومات اور انٹیلی جنس حاصل کرکے ان کا تجزیہ کرنا، خطرات کا جائزہ تیار کرنا، انسدادِ دہشت گردی اور انتہاپسندی کی قومی حکمت عملی بنانا، کارروائی کے منصوبے تیار کرنا اور وفاقی حکومت کو ان پر عمل درآمد سے آگاہ کرنا ہے
لیکن اس ادارے کی اہمیت اس کے بورڈ سے بھی ظاہر ہوتی ہے،نیکٹا کے بورڈ آف گورنرز میں وزیر داخلہ، سیکریٹری دفاع، سیکریٹری داخلہ، آئی بی، ایف آئی اے، آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلی جنس اور چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے متعلقہ حکام شامل ہیں،قومی رابطہ کار اسی بورڈ کا سیکریٹری بھی ہوتا ہے
یعنی فیصل نصیر کو ایسا عہدہ ملا ہے جہاں ان کا کام کسی ایک ادارے کو براہ راست حکم دینا نہیں بلکہ ان اداروں کے درمیان ریاستی سطح پر رابطہ اور ہم آہنگی پیدا کرنا ہے
قانون نیشنل کوارڈینٹر کو نیکٹا کی منظور شدہ پالیسیوں اور منصوبوں پر عمل درآمد، ادارے کے مالی و انتظامی معاملات، فیلڈ سطح پر انتظامی ڈھانچے بنانے اور بورڈ کی طرف سے دی گئی اضافی ذمہ داریاں انجام دینے کے اختیارات دیتا ہے، جبکہ فیصل نصیر کی مذکورہ ادارے میں تعیناتی کے بعد یہ بھی کہا جارہا ہے انہیں زیادہ بااختیار بنانے اور ماضی کی کارکردگی کا صلہ دینے کے لیے رینجرز ایف سی اور ایف آئ اے سمیت آئ بی اور ایسے ہی دوسرے اداروں کی کمان نیکٹا کو دیدی جائے یا ان اداروں میں نیکٹا کا عمل دخل بڑھا کر نیشنل کوآرڈینیٹر کو مذید با اختیار بنا دیا جائے، کیونکہ
نیکٹا کے دائرۂ کار میں قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ رابطہ پہلے ہی شامل ہے اور سرکاری دستاویزات میں ایف سی اور رینجرز سمیت متعدد قانون نافذ کرنے والے اداروں کا نیکٹا کے وسیع انسدادِ دہشت گردی نظام سے تعلق واضح ہے
یہ تقرری اسی لیے ایک دلچسپ سوال پیدا کرتی ہے، کیا حکومت فیصل نصیر کو محض نیکٹا کا انتظامی سربراہ بنا رہی ہے یا نیکٹا کو آنے والے دنوں میں ایک زیادہ طاقتور قومی سلامتی کے رابطہ مرکز میں تبدیل کرنے کی تیاری ہورہی ہے؟
فی الحال دستیاب قانونی ڈھانچے سے دوسرے امکان کی مکمل تصدیق نہیں ہوتی،لیکن اگر حکومت نیکٹا کے ذریعے آئی بی، پولیس، ایف آئی اے، ایف سی، رینجرز اور دیگر اداروں کے درمیان معلومات اور کارروائی کا مربوط نظام زیادہ فعال بناتی ہے تو قومی رابطہ کار کا منصب غیر معمولی اہمیت اختیار کرسکتا ہے
یہ تقرری فیصل نصیر کے مستقبل کے بارے میں بھی سوال اٹھاتی ہے،ان کے فوج سے باہر آنے کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ ان کا فوجی کیریئر ختم ہوگیا،موجودہ نوٹیفکیشن میں انہیں 3 سال کے لیے دوسری جگہ تعینات کیا گیا ہے،اکتوبر کی ممکنہ فوجی ترقیوں میں ان کے بارے میں کوئی فیصلہ ہوتا ہے یا نہیں، اس کا فی الحال کوئی سرکاری اعلان موجود نہیں، اس لیے انہیں آئندہ لازماً لیفٹیننٹ جنرل بنائے جانے کی بات کو خبر کے بجائے قیاس ہی سمجھنا ہوگا
لیکن سیاسی طور پر اس تقرری کا سب سے اہم پہلو شاید یہی ہے کہ ایک ایسے افسر کو، جنہیں تحریک انصاف طویل عرصے سے اپنی سیاسی مشکلات اور ریاستی دباؤ کے ایک مرکزی کردار کے طور پر پیش کرتی رہی ہے، اب فوجی انٹیلی جنس کے حساس عہدے سے ہٹا کر ایک سول وفاقی ادارے کے سربراہ کے طور پر سامنے لایا گیا ہے
اگر تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان کسی سیاسی مفاہمت کی کوششیں واقعی جاری ہیں تو اس تقرری کو اس پورے عمل کے تناظر میں بھی یقیناً دیکھا جائے گا
اصل تبدیلی شاید یہ ہے کہ فیصل نصیر کی طاقت کا مرکز تبدیل ہوگیا ہے
آئی ایس آئی میں ان کا کردار بنیادی طور پر خفیہ معلومات، انسدادِ جاسوسی اور داخلی سلامتی سے متعلق تھا،نیکٹا میں ان کا رسمی کردار مختلف ریاستی اداروں کے درمیان رابطہ، پالیسی اور قومی انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی کو آگے بڑھانا ہے
اس لیے آنے والے دنوں میں اصل سوال یہ نہیں ہوگا کہ فیصل نصیر کے پاس پہلے کتنی طاقت تھی بلکہ یہ ہوگا کہ حکومت نیکٹا کو کتنی طاقت دینے کا فیصلہ کرتی ہے
اگر نیکٹا اپنی موجودہ قانونی حدود میں رہتا ہے تو یہ تقرری بنیادی طور پر ایک رابطہ کاری کا انتظام ہوگی،لیکن اگر حکومت بورڈ کے اختیارات اور وفاقی پالیسی کے ذریعے نیکٹا کو حقیقی معنوں میں ملک کے تمام انسدادِ دہشت گردی اداروں کا مرکزی رابطہ مرکز بنا دیتی ہے تو فیصل نصیر کا نیا عہدہ بظاہر سول ہونے کے باوجود قومی سلامتی کے نظام میں ایک نہایت اہم مقام اختیار کرسکتا ہے
اور شاید یہی اس تقرری کا سب سے بڑا سوال ہے،کیا فیصل نصیر کو فوج سے دور کیا گیا ہے، یا انہیں ایک ایسے سول پلیٹ فارم پر منتقل کیا گیا ہے جہاں مختلف ریاستی اداروں کو ایک ہی میز پر لانے کی طاقت ان کے ہاتھ میں آسکتی ہے، وہ فیصل نصیر جنکے ذریعے تحریک انصاف کو دبایا گیا گلگت بلتستان سے کشمیر تک ریاستی سوچ کو پالیسی بنا کر عملی طور پر نافذ کروایا گیا کیا استعمال کرکے کھڈے لائن لگا دئیے گئے ہیں یا انکی کارکردگی سے خوش ہوکر انہیں غیر معمولی طور پر نوازا گیا ہے اس کا اندازہ یقیناً اکتوبر میں ہونے والی ترقیوں کی فہرست کے اعلان سے ہی ہوسکے گا کہ آیا انہیں تھری اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دیکر نیکٹا کو مذید کتنا پھیلایا اور بااختیار بنایا جاتا ہے یا پھر وہ ایک وفاقی سویلین ادارے کے عام کوآرڈینیٹر کے طور پر اپنی مدت ملازمت کے دن پورے کرنے کے لیے انکے اصل کام سے الگ کردئیے گئے ہیں

قومی خبریں سے مزید