پاکستان میں نومولود بچوں کی اموات کا سنگین بحران، صحت کے نظام کی کمزوریاں بے نقاب

پاکستان میں نومولود بچوں کی اموات کا سنگین بحران، صحت کے نظام کی کمزوریاں بے نقاب

اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں 26 اگست کو زچہ و بچہ وارڈ میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت نے پاکستان کے صحت کے نظام کی سنگین خامیوں پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں اس سانحے نے نہ صرف ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات بلکہ ملک میں نومولود بچوں کی مجموعی اموات کی انتہائی بلند شرح کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی ہے
ماہرین صحت کے مطابق ہسپتال میں ہونے والی اموات کو محض ایک حادثہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ملک کے صحت کے نظام میں موجود کئی دیرینہ کمزوریاں ایسے سانحات کا سبب بنتی ہیں۔ نومولود بچوں کی اموات کی بلند شرح بھی اسی وسیع تر بحران کی ایک علامت ہے
پاکستان میں ہر ایک ہزار زندہ پیدا ہونے والے بچوں میں تقریباً 36.1 بچے اپنی زندگی کے پہلے 28 دن مکمل ہونے سے پہلے انتقال کر جاتے ہیں۔ اس شرح کے اعتبار سے پاکستان دنیا میں تیسرے اور ایشیا میں سب سے زیادہ نومولود اموات والے ملکوں میں شامل ہے۔ صرف جنوبی سوڈان اور نائجیریا میں یہ شرح پاکستان سے زیادہ ہے
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں روزانہ تقریباً 691 نومولود بچے اپنی زندگی کا پہلا مہینہ مکمل کرنے سے پہلے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جبکہ ایک سال میں یہ تعداد تقریباً 248,500 تک پہنچ جاتی ہے
ماہرین کے مطابق ان میں سے بڑی تعداد ایسی اموات کی ہے جنہیں مناسب طبی سہولیات، بروقت علاج اور بہتر دیکھ بھال کے ذریعے روکا جا سکتا ہے قبل از وقت پیدائش، پیدائش کے دوران بچے کو مناسب مقدار میں آکسیجن نہ ملنا اور نومولود بچوں میں انفیکشن ان اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں
مسئلہ صرف بچوں کی پیدائش کے بعد شروع نہیں ہوتا بلکہ ماں کی صحت بھی نومولود بچے کی زندگی پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔ پاکستان میں تولیدی عمر کی تقریباً 49 فیصد خواتین خون کی کمی یا فولاد کی کمی کا شکار ہیں اس کے علاوہ تقریباً 31 فیصد پیدائشیں اب بھی ایسے افراد کی مدد سے ہوتی ہیں جن کے پاس باقاعدہ تربیت نہیں ہوتی
امیر اور غریب خاندانوں کے درمیان بھی نمایاں فرق موجود ہے ملک کے غریب ترین طبقے میں نومولود بچوں کی اموات کی شرح تقریباً 51 فی ہزار تک پہنچ جاتی ہے، جبکہ خوشحال خواتین میں تقریباً 85.2 فیصد کو تربیت یافتہ طبی عملے کی مدد حاصل ہوتی ہے۔ غریب خواتین میں یہ سہولت تقریباً 30 فیصد تک محدود ہے
صوبائی سطح پر بھی صورتحال مختلف ہے۔ پنجاب میں نومولود بچوں کی اموات کی شرح تقریباً 51 فی ہزار ہے۔ پنجاب کے ضلع چنیوٹ میں یہ شرح 65 فی ہزار جبکہ لاہور میں 35 فی ہزار بتائی گئی ہے
عالمی سطح پر پاکستان کی صورتحال مزید تشویش ناک دکھائی دیتی ہے ایران میں نومولود بچوں کی اموات کی شرح تقریباً 7.2 فی ہزار، سری لنکا میں 6.6 فی ہزار، چین اور برطانیہ میں 2.6 فی ہزار جبکہ جاپان میں صرف 0.9 فی ہزار ہے
صحت کے ماہرین کے مطابق پاکستان میں بنیادی صحت کی سہولیات کمزور ہیں اور سرکاری ہسپتالوں کو انتظامی بحران کا بھی سامنا ہے۔ صحت کے شعبے پر خرچ ہونے والی رقم پہلے ہی کم ہے اور دستیاب وسائل بھی مؤثر انداز میں استعمال نہیں ہو رہے
اسلام آباد کے ہسپتال میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کو اسی بڑے مسئلے کی ایک انتہائی المناک مثال قرار دیا جا رہا ہے ملک میں 2010 سے اب تک مختلف ہسپتالوں میں 31 آتش زدگی کے واقعات بھی ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جس سے ہسپتالوں میں ہنگامی حالات سے نمٹنے اور حفاظتی انتظامات پر مزید سوالات پیدا ہوتے ہیں
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے صحت کے نظام میں بہتری لانا ناممکن نہیں۔ پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ اور تحقیقی مرکز نے 2024 میں بین الاقوامی معیار کی منظوری حاصل کی اور وہ پاکستان اور جنوبی ایشیا کا پہلا سرکاری ہسپتال بنا جسے یہ اعزاز حاصل ہوا اس ادارے کے انتظامی ڈھانچے اور آزادانہ فیصلہ سازی کو سرکاری صحت کے شعبے کے لیے ایک قابلِ عمل نمونہ قرار دیا جا رہا ہے
ماہرین کے مطابق صرف ہسپتالوں کی عمارتیں بنانے یا جدید آلات فراہم کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ بنیادی صحت مراکز کو مضبوط بنانا، تربیت یافتہ طبی عملہ فراہم کرنا، ہسپتالوں میں حفاظتی نظام بہتر کرنا، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی باقاعدہ مشقیں کرانا اور انتظامی نگرانی کو مؤثر بنانا ضروری ہے
26 اگست کا سانحہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ نومولود بچوں کی اموات کا مسئلہ محض ایک ہسپتال یا ایک حادثے تک محدود نہیں بلکہ یہ پورے صحت کے نظام، غربت، ماں کی صحت، طبی سہولیات اور انتظامی کارکردگی سے جڑا ہوا ایک وسیع بحران ہے اگر بنیادی سطح پر اصلاحات کی جائیں اور سرکاری ہسپتالوں کو بہتر انتظامی آزادی اور جواب دہی کے ساتھ چلایا جائے تو اس صورتحال میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے

قومی خبریں سے مزید