ایک ہی خطہ، ایک ہی تہذیب، دو دشمن قومیں

ایک ہی خطہ، ایک ہی تہذیب، دو دشمن قومیں
تحقیق و تحریر : آفاق فاروقی
امریکہ اور کینیڈا کی سرحد کے دونوں طرف منظر بدلتا نہیں، صرف نقشے کا رنگ بدلتا ہے،کہیں دور تک پھیلے ہوئے جنگلات ہیں، کہیں برف سے ڈھکے پہاڑ، کہیں نیلی جھیلیں جن کا پانی آسمان کا عکس اپنے اندر اتار لیتا ہے، کہیں دریا خاموشی سے سرحدوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف بہتے چلے جاتے ہیں،موسم وہی، ہوا وہی، درختوں کی خوشبو وہی، بارش کی آواز وہی،ایک طرف کینیڈا ہے، دوسری طرف امریکہ، مگر قدرت نے دونوں کے درمیان کوئی دیوار نہیں کھڑی کی
ٹورنٹو سے بفیلو جائیں، مونٹریال سے نیویارک کی طرف نکلیں یا وینکوور سے سیئٹل جائیں، تو انسان ایک ہی شمالی امریکی دنیا میں سفر کرتا محسوس ہوتا ہے۔ وہی کھانے، وہی لباس، وہی موسیقی، وہی فلمیں، وہی گاڑیاں، وہی بازار، وہی جدید شہری زندگی،سرحد کے دونوں طرف لوگ ملازمتیں کرتے ہیں، خریداری کے لیے آتے جاتے ہیں، تعلیم حاصل کرتے ہیں، خاندانوں سے ملتے ہیں اور کاروبار کرتے ہیں،مگر اس تمام مماثلت کے باوجود کوئی یہ نہیں کہتا کہ امریکی اور کینیڈین ایک ہی قوم ہیں
کیوں؟
کیونکہ قومیں صرف زمین، موسم، خوراک اور لباس سے نہیں بنتیں،قومیں اپنی تاریخ، اجتماعی یادداشت، سیاسی تجربے، اداروں اور اپنے بارے میں قائم کیے گئے تصور سے بھی بنتی ہیں
کینیڈا اور امریکہ اس کی ایک غیر معمولی مثال ہیں
دونوں ایک ہی براعظم میں ہیں، مگر ان کی قومی نفسیات ایک جیسی نہیں،کینیڈا میں فرانسیسی زبان اور کیوبک کی تہذیبی شناخت ایک ایسی داخلی حقیقت ہے جو اسے امریکہ سے الگ کرتی ہے،امریکہ میں فرد کی آزادی، ذاتی اختیار اور اپنی بات کھل کر کہنے کی روایت زیادہ نمایاں ہے،امریکی معاشرہ نسبتاً زیادہ بے باک، بلند آواز اور انفرادی آزادی پر اصرار کرنے والا دکھائی دیتا ہے،کینیڈین معاشرہ عمومی طور پر زیادہ محتاط، اجتماعی اور مفاہمت پسند سمجھا جاتا ہے،اختلاف وہاں بھی ہوتا ہے، مگر اکثر اس کا اظہار نسبتاً کم شور کے ساتھ کیا جاتاہے
بندوق بھی دونوں قومی مزاجوں کے درمیان ایک علامت بن چکی ہے،امریکہ میں بندوق ذاتی آزادی اور آئینی حق کی بحث کا مرکزی حصہ بن گئی ہے، جبکہ کینیڈا میں بندوق رکھنے اور شکار کی روایات موجود ہونے کے باوجود بندوق امریکی معاشرے جیسی طاقتور سیاسی علامت نہیں
دونوں کے درمیان فرق ان کی تاریخ نے پیدا کیا
امریکہ نے برطانوی اقتدار کے خلاف انقلاب بپا کیا،اس کے قومی شعور میں آزادی کا مطلب ریاستی طاقت کے مقابلے میں فرد کی آزادی بھی ہے،کینیڈا نے اس کے برعکس برطانوی تاج سے ایک ہی جھٹکے میں علیحدگی اختیار نہیں کی بلکہ بتدریج آئینی خودمختاری حاصل کی،آج بھی کینیڈا بادشاہت کو اپنی آئینی ساخت کا حصہ مانتا ہے، جبکہ امریکہ کی قومی داستان ہی ایک بادشاہ کے خلاف بغاوت سے شروع ہوتی ہے
اس کے باوجود دونوں دشمن نہیں ہیں
یہی وہ نکتہ ہے جہاں شمالی امریکہ جنوبی ایشیا کے لیے ایک سوال بن جاتا ہے
پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کھڑے ہوکر اگر کوئی شخص لاہور، امرتسر، دہلی، راولپنڈی، لکھنؤ، کراچی یا کشمیر کی طرف دیکھے تو اسے ایک ایسی تہذیبی دنیا دکھائی دیتی ہے جسے صرف 1947 کی لکیر سے سمجھنا ممکن نہیں
یہ وہ خطہ ہے جہاں ہمالیہ کے پہاڑوں سے پانی اترتا ہے، دریائے سندھ اپنے طویل سفر پر نکلتا ہے، گنگا اور جمنا کے میدان صدیوں کی تہذیبوں کو سینچتے ہیں، پنجاب کے کھیت دونوں طرف پھیلے ہوئے ہیں، کشمیر کی وادیوں میں ایک جیسی ہوائیں چلتی ہیں، سندھ کے دریائی اور صحرائی مناظر سرحد کے دونوں طرف تاریخی رشتے رکھتے ہیں،بہار کی خوشبو، برسات کی مٹی، آم کے درخت، سرسوں کے کھیت، پہاڑی چشمے، دریاؤں کی نمی اور شہروں کی گرد، یہ سب کسی پاسپورٹ سے واقف نہیں
ایک طرف بریانی ہے، دوسری طرف بھی،ایک طرف کباب ہیں، دوسری طرف بھی،چائے، روٹی، مصالحے، مٹھائیاں، شادی بیاہ کی رسومات، لوک موسیقی، غزل، قوالی، فلمیں، شاعری اور خاندانی تعلقات کی بے شمار شکلیں ایسی ہیں جو سرحد کے دونوں جانب ایک دوسرے کو پہچان لیتی ہیں
اردو اور ہندی کا رشتہ اس قربت کی ایک نمایاں مثال ہے،پنجابی دونوں ملکوں میں بولی جاتی ہے،سندھی، کشمیری اور دوسری علاقائی تہذیبی روایات بھی موجودہ سرحدوں سے کہیں پرانی ہیں
لیکن یہاں بھی ایک بنیادی حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا
1947 سے پہلے بھی پورا ہندوستان ایک جیسا نہیں تھا
جنوبی ہندوستان کی زبانیں، خوراک، لباس، موسیقی، سماجی روایات اور مذہبی روایتیں شمالی ہندوستان سے مختلف تھیں،بنگال کی دنیا پنجاب سے مختلف تھی، دکن کی تہذیب گنگا کے میدانوں سے مختلف تھی اور کشمیر کی اپنی الگ تہذیبی شناخت تھی،خود ہندو مذہبی روایت ایک یکساں معاشرتی تجربہ نہیں رہی، بلکہ اس کے اندر بے شمار عقائد، رسوم، فلسفے اور علاقائی روایات موجود رہی ہیں
پاکستان کے اندر بھی کوئی ایک یکساں ثقافت نہیں،پنجابی اپنی جگہ، سندھی اپنی جگہ، پشتون اپنی جگہ، بلوچی اپنی جگہ، کشمیری اپنی جگہ اور سرائیکی اپنی جگہ،ان سب کے درمیان فرق بھی ہے اور ایک دوسرے سے تعلق بھی
تو پھر قوم کہاں بنتی ہے؟
قوم ہمیشہ یکساں ہونے سے نہیں بنتی،کبھی کبھی قوم مختلف لوگوں کے ایک مشترک سیاسی تجربے سے بنتی ہے
پاکستان نے 1947 کے بعد تقریباً 80 برس میں اپنا ایک الگ قومی تجربہ تشکیل دیا ہے،اس تجربے میں اسلام مرکزی حیثیت رکھتا ہے، لیکن اس کے ساتھ علاقائی، لسانی اور ثقافتی شناختیں بھی مسلسل موجود رہی ہیں،ہندوستان نے ایک مختلف آئینی راستہ اختیار کیا، جس میں ایک کثیرالمذہبی اور سیکولر جمہوری ریاست کا تصور مرکزی رہا
سات دہائیوں سے زیادہ عرصے میں دونوں طرف نسلیں ایسی پیدا ہوچکی ہیں جنہوں نے ایک دوسرے کو زیادہ تر کتابوں، خبروں، جنگوں، سرحدوں اور سیاسی بیانیوں کے ذریعے جانا ہے، روزمرہ زندگی کے ذریعے نہیں
یہی وہ مقام ہے جہاں مشترک تہذیب اور الگ قومی شناخت کے درمیان فرق واضح ہوجاتا ہے
ایک پاکستانی ہندوستانی فلم دیکھ سکتا ہے، ہندوستانی پاکستانی گلوکار سن سکتا ہے، دونوں ایک ہی شاعر کے شعر پر داد دے سکتے ہیں، ایک ہی کھانا کھا سکتے ہیں، ایک ہی زبان کے لفظ پر مسکرا سکتے ہیں، لیکن جب قومی شناخت کا سوال سامنے آتا ہے تو دونوں اپنے آپ کو الگ سمجھتے ہیں
یہ حقیقت اب تبدیل نہیں کی جاسکتی کہ پاکستان اور ہندوستان دو الگ ریاستیں ہیں اور ان کے شہریوں نے گزشتہ 79 برس میں الگ قومی یادداشتیں تشکیل دی ہیں
لیکن ایک سوال ضرور تبدیل کیا جاسکتا ہے
کیا دو الگ قومیں ایک دوسرے کی دشمن ہوئے بغیر زندہ نہیں رہ سکتیں؟
امریکہ اور کینیڈا کا جواب ہے، رہ سکتی ہیں
وہ ایک قوم نہیں بنے،انہوں نے اپنی الگ شناختیں نہیں چھوڑیں،ان کے سیاسی مفادات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہے،ان کی حکومتیں ایک دوسرے سے اختلاف کرتی ہیں،لیکن عام آدمی کی زندگی میں سرحد ہمیشہ دشمنی کی علامت نہیں بنتی
لوگ سرحد پار جاتے ہیں، کام کرتے ہیں، خریداری کرتے ہیں، تعلیم حاصل کرتے ہیں، کاروبار کرتے ہیں اور واپس آتے ہیں،دونوں معاشرے اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے ایک دوسرے کی ترقی سے فائدہ اٹھاتے ہیں
پاکستان اور ہندوستان کے لیے بھی شاید یہی زیادہ حقیقت پسندانہ راستہ ہے
انہیں ایک دوسرے میں ضم ہونے کی ضرورت نہیں،انہیں اپنی تاریخ ترک کرنے کی ضرورت نہیں،کسی پاکستانی سے یہ مطالبہ نہیں کہ وہ اپنی پاکستانی شناخت چھوڑ دے اور کسی ہندوستانی سے یہ کہ وہ اپنی ہندوستانی شناخت ترک کردے
ضرورت صرف اتنی ہے کہ دشمنی کو قومی شناخت کا لازمی جزو سمجھنا چھوڑ دیا جائے
کیونکہ تقریباً 80 برس سے ایک دوسرے کو کمزور کرنے کی کوشش نے دونوں کو مضبوط نہیں کیا
پاکستان کے لیے ہندوستان کے ساتھ مستقل کشیدگی نے اسے ایک ایسی سلامتی پر مبنی ریاست کی طرف دھکیلا جس میں قومی وسائل کا بڑا حصہ دفاع اور داخلی سلامتی کے سوالات میں الجھتا رہا،ہندوستان کے لیے بھی پاکستان کے ساتھ تنازعہ ایک مستقل سیاسی اور سکیورٹی مسئلہ بنا رہا،دونوں ممالک نے اپنی اپنی ترقی کے لیے درکار وسائل، توانائی اور سیاسی توجہ کا ایک حصہ ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہونے میں صرف کیاہے
دوسری طرف جغرافیہ مسلسل دونوں کو یاد دلاتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے فرار نہیں ہوسکتے
ہندوستان کو وسطی ایشیا تک پہنچنے کے لیے پیچیدہ راستے تلاش کرنا پڑتے ہیں، حالانکہ پاکستان اس کے لیے قدرتی زمینی دروازہ بن سکتا ہے،پاکستان ایک ایسی جغرافیائی جگہ پر واقع ہے جہاں سے چین، وسطی ایشیا، ایران، افغانستان، ہندوستان اور بحیرہ عرب کے درمیان تجارت کے بے شمار راستے نکل سکتے ہیں، لیکن اپنی ہی سرحدوں کی کشیدگی اور سلامتی کے مسائل نے اس جغرافیائی فائدے کو محدود کر رکھا ہے
یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ دو پڑوسی اپنے درمیان تجارت کے دروازے بند کرکے دنیا کے دوسرے کناروں تک پہنچنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں
پاکستان اور ہندوستان کو شاید اب کسی عظیم تاریخی خواب کی نہیں، ایک معمولی مگر مشکل عقل مندی کی ضرورت ہے
پڑوسی کو دشمن نہ سمجھنے کی عقل مندی
مذہب اپنی جگہ محترم ہوسکتا ہے، لیکن مذہب کو دوسرے انسان کی انسانیت سے انکار کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے،زمین اپنی جگہ اہم ہوسکتی ہے، لیکن زمین کے لیے انسانوں کو ختم کرنا کسی قوم کی دائمی کامیابی نہیں،قومی وقار ضروری ہے، مگر قومی وقار اور انسانی وقار ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہونے چاہئیں
اگر دونوں ممالک اپنی آنے والی نسلوں کو بھی یہی سکھاتے رہے کہ سرحد کے دوسری طرف پیدا ہونے والا انسان بنیادی طور پر دشمن ہے، تو یہ دشمنی صرف ماضی کو نہیں کھائے گی، مستقبل کو بھی کھاتی رہے گی
نہ پاکستان کی خوشحالی کا خواب مکمل ہوگا، نہ ہندوستان کی علاقائی طاقت کا خواب مکمل ہوگا، جب تک دونوں اپنے سب سے بڑے پڑوسی کے ساتھ مستقل تصادم کو اپنی قومی سیاست کا مستقل ستون بنائے رکھیں گے
شاید اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان ایک دوسرے کو فتح کرنے کا خواب چھوڑ کر ایک دوسرے کے ساتھ ترقی کرنے کا خواب دیکھیں
امریکہ اور کینیڈا نے ایک دوسرے کو ختم نہیں کیا،انہوں نے یہ سیکھا کہ الگ رہ کر بھی قریب رہا جاسکتا ہے
جنوبی ایشیا بھی یہ سیکھ سکتا ہے
پاکستان پاکستان رہے،ہندوستان ہندوستان رہے۔ اپنی اپنی زبانیں، اپنے اپنے مذہب، اپنے اپنے پرچم، اپنی اپنی تاریخ اور اپنی اپنی قومی شناختیں قائم رہیں، کہ اب یہ دونوں چاہیں بھی تو ایک قوم ایک جغرافیہ نہیں بن سکتے کہ اسی سال نے سوچ ہی نہیں بدلی زندگی برتنے کے سارے طریقے انداز بھی بدل ڈالے ہیں
مگر سرحد کے دونوں طرف انسان کو انسان سمجھا جائے
کیونکہ آخرکار دریا اب بھی سرحد نہیں مانتے، ہوا اب بھی پاسپورٹ نہیں مانگتی، پہاڑ اب بھی دونوں طرف کھڑے ہیں، بارش اب بھی دونوں زمینوں پر برستی ہے اور مٹی کی خوشبو آج بھی کسی قومیت کا ثبوت مانگے بغیر انسان کو اپنے قریب بلاتی ہے
شاید مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان اور ہندوستان بہت مختلف ہیں،شاید مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی مماثلت کے باوجود ایک دوسرے سے نفرت کرنا سیکھ گئے ہیں
اور اگر کبھی یہ نفرت کم ہوگئی، تو ممکن ہے دونوں کو پہلی مرتبہ اندازہ ہو کہ ان کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ سرحد نہیں تھی
وہ ایک دوسرے کے بارے میں بنائی گئی کہانی تھی

قومی خبریں سے مزید