امریکہ میں کالجوں کی دوڑ الٹ گئی، طلبہ درخواستیں دینے کے بجائے کالج خود انہیں داخلے کی پیشکشیں بھیجنے لگے
امریکہ میں اعلیٰ تعلیم کا روایتی نظام ایک غیر معمولی تبدیلی سے گزر رہا ہے،ملک بھر کے سینکڑوں کالج اب ایسے ہائی اسکول طلبہ کو داخلے کی پیشکشیں بھیج رہے ہیں جنہوں نے ان کالجوں میں داخلے کے لیے درخواست ہی نہیں دی،یعنی جس نظام میں برسوں سے طالب علم کالجوں کو درخواستیں بھیجتے اور داخلے کے لیے مقابلہ کرتے آئے ہیں، وہاں اب کئی ادارے خود ممکنہ طلبہ کو تلاش کرکے انہیں اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں
اس نئے طریقے کو براہِ راست داخلہ کہا جا رہا ہے،اس میں طالب علم کو روایتی داخلہ درخواست، مضمون، اضافی سرگرمیوں کی تفصیل یا بعض صورتوں میں معیاری امتحانات کے مرحلے سے گزرنے کی ضرورت نہیں ہوتی،کالج عموماً ہائی اسکول کے تعلیمی ریکارڈ اور چند بنیادی معلومات کی بنیاد پر طالب علم کو داخلے کی پیشکش کرتے ہیں،کامن ایپ کے مطابق اس طریقے میں شامل اداروں کی تعداد 2023-24 کے بعد تین گنا سے زیادہ ہو چکی ہے اور اب اس کے شراکت دار اداروں کا تقریباً پانچواں حصہ براہِ راست داخلے کا راستہ استعمال کر رہا ہے،ایک درجن سے زیادہ ریاستوں نے بھی اس نوعیت کے پروگرام شروع کر دیے ہیں
اس تبدیلی کے پیچھے اصل کہانی امریکی کالجوں میں طلبہ کی کمی، بڑھتے ہوئے اخراجات اور اعلیٰ تعلیم کے روایتی مالیاتی ماڈل پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی ہے،خاص طور پر نسبتاً کم معروف نجی کالجوں کو نوجوانوں کی سکڑتی ہوئی آبادی کے باعث اپنی نشستیں پُر کرنا مشکل ہو رہا ہے،کالجوں کے لیے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ انہیں طلبہ چاہییں، بلکہ انہیں ایسے طلبہ بھی چاہییں جو داخلے کے بعد کئی سال تک فیس اور دوسرے اخراجات برداشت کر سکیں
یہی وہ وہ اصل مسئلہ ہے جہاں امریکی خاندانوں کے لیے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کالج کی تعلیم کی ناقابلِ برداشت ہوتی لاگت اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے،ایک طرف کالجوں کو طلبہ کی ضرورت ہے اور دوسری طرف بہت سے خاندان یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ وہ بھاری ٹیوشن فیس، رہائش، خوراک، کتابوں اور دیگر اخراجات کیسے ادا کریں گے،چنانچہ اب کالج صرف یہ نہیں کہہ رہے کہ ’’ہم آپ کو داخلہ دیتے ہیں‘‘ بلکہ بعض ادارے وظائف اور مالی مراعات بھی پہلے ہی سامنے رکھ رہے ہیں تاکہ طالب علم اور اس کا خاندان یہ فیصلہ کر سکے کہ تعلیم ان کی پہنچ میں ہے یا نہیں
نِش نامی تعلیمی پلیٹ فارم پر براہِ راست داخلے کے ذریعے پیشکش حاصل کرنے والے طلبہ کو ان کے تعلیمی ریکارڈ کی بنیاد پر فوری وظائف بھی بتائے جاتے ہیں،ادارے کے مطابق اس پروگرام میں ایک طالب علم کو اوسطاً سالانہ $17,000 سے زیادہ کے وظائف کی پیشکش ملتی ہے، جبکہ بعض طلبہ کو اوسطاً 8 براہِ راست داخلے کی پیشکشیں موصول ہوتی ہیں
لیکن یہاں امریکی اعلیٰ تعلیم کے بحران کا ایک بنیادی تضاد سامنے آتا ہے،کالج میں داخل ہونا نسبتاً آسان ہوتا جا رہا ہے، مگر کالج کی تعلیم برداشت کرنا اب بھی مشکل ہے،ناقدین کا کہنا ہے کہ داخلے کا خط مل جانا اور اس تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے قابل ہونا دو الگ باتیں ہیں،اسی وجہ سے بعض ریاستی پروگراموں میں کالجوں کو ابتدائی داخلے کی پیشکش کے ساتھ متوقع قیمت بھی واضح کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
آبادیاتی تبدیلی اس مسئلے کو مزید گہرا کر رہی ہے،امریکہ میں کالج جانے کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد آنے والے برسوں میں کم ہونے کی توقع ہے،اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کالج آج طلبہ کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں، آنے والے برسوں میں انہیں مزید شدید مسابقت کا سامنا ہو سکتا ہے،نسبتاً کم معروف ادارے اس تبدیلی سے پہلے ہی متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ بڑے اور معروف کالجوں تک بھی اس کے اثرات پہنچنے لگے ہیں
اس بحران کا ایک اہم پہلو بین الاقوامی طلبہ سے متعلق بھی ہے،کئی امریکی جامعات کے مالی ماڈل میں غیر ملکی طلبہ اہم کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ وہ اکثر مکمل یا نسبتاً زیادہ فیس ادا کرتے ہیں،ویزا پالیسی، امیگریشن کے مستقبل، امریکہ میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد کام کرنے کے مواقع اور بڑھتی ہوئی لاگت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال نے امریکی جامعات کے لیے بین الاقوامی طلبہ کو اپنی طرف متوجہ کرنا بھی زیادہ مشکل بنا دیا ہے
چنانچہ امریکی اعلیٰ تعلیم ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں کئی قوتیں ایک ساتھ کام کر رہی ہیں،نوجوانوں کی آبادی میں کمی، تعلیم کی بڑھتی ہوئی قیمت، خاندانوں کی محدود ہوتی مالی استطاعت، طلبہ کے قرضوں کا دباؤ اور بین الاقوامی طلبہ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال
اسی لیے براہِ راست داخلے کا یہ رجحان محض داخلہ لینے کا ایک نیا آسان طریقہ نہیں،یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ بعض امریکی کالجوں میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے،کبھی طالب علم کالج سے کہتا تھا کہ مجھے داخلہ دے دیجیے، اب کالج طالب علم سے کہہ رہا ہے کہ ہمارے ہاں آئیے
اور اس پوری تبدیلی کے پیچھے ایک بڑا سوال کھڑا ہے،اگر امریکی کالجوں کو اپنی نشستیں پُر کرنے کے لیے خود طلبہ تلاش کرنا پڑیں، انہیں وظائف دینا پڑیں اور داخلے کے روایتی تقاضے کم کرنا پڑیں، تو کیا یہ امریکی اعلیٰ تعلیم کے پرانے مالیاتی ماڈل کے اختتام کی ابتدا ہے؟





