نکولاس مادورو نے امریکی عدالت سے اپنے خلاف مقدمہ خارج کرنے کی درخواست کردی، سابق وینزویلی صدر نے ریاستی استثنیٰ کا دعویٰ کردیا

نکولاس مادورو نے امریکی عدالت سے اپنے خلاف مقدمہ خارج کرنے کی درخواست کردی، سابق وینزویلی صدر نے ریاستی استثنیٰ کا دعویٰ کردیا

وینزویلا کے معزول رہنما نکولاس مادورو نے امریکی وفاقی عدالت سے اپنے خلاف عائد فردِ جرم ختم کرنے کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہیں ایک غیر ملکی سربراہِ مملکت کی حیثیت سے امریکی عدالتی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے
مادورو کے وکلا کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ وہ وینزویلا کے سربراہِ مملکت رہے ہیں، اس لیے ان کے خلاف امریکی عدالت میں فوجداری مقدمہ چلانا قانونی طور پر قابلِ اعتراض ہے
یہ درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ مادورو کو وینزویلا کا جائز اور قانونی حکمران تسلیم کرنے کے بجائے انہیں ایک ناجائز حکمران قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے
مادورو کی قانونی ٹیم کا مؤقف اس مقدمے کو ایک غیر معمولی آئینی اور بین الاقوامی قانونی تنازع میں تبدیل کر سکتا ہے، کیونکہ عدالت کو یہ طے کرنا ہوگا کہ کسی غیر ملکی سربراہِ مملکت کو امریکی فوجداری مقدمے سے کس حد تک استثنیٰ حاصل ہوسکتا ہے اور آیا یہ استثنیٰ کسی ایسے رہنما پر بھی لاگو ہوتا ہے جسے امریکی حکومت جائز حکمران تسلیم نہیں کرتی
یہ مقدمہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس کا فیصلہ مستقبل میں امریکہ کی جانب سے غیر ملکی حکمرانوں اور اعلیٰ ریاستی عہدیداروں کے خلاف فوجداری کارروائی کے دائرۂ اختیار کے لیے ایک اہم قانونی نظیر بن سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید