ایران نے شادی کی تقریب پر امریکی حملے کو جنگی جرم قرار دے دیا

ایران نے شادی کی تقریب پر امریکی حملے کو جنگی جرم قرار دے دیا

ایران نے جنوبی علاقے سیریک میں شادی کی ایک تقریب پر ہونے والے امریکی حملے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ شادی کی تقریب کو نشانہ بنایا جانا امریکی حملے کی سنگینی اور شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کی واضح مثال ہے
ایرانی حکام کے مطابق جنوبی صوبہ ہرمزگان کے علاقے کوہستک میں شادی کی تقریب جاری تھی جب امریکی میزائل حملہ ہوا۔ حملے میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور 67 زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب ایک خاندان شادی کی خوشی منا رہا تھا ان کے مطابق شہری آبادی کے درمیان ہونے والی تقریب کو نشانہ بنانا قابل مذمت اقدام ہے اور اس واقعے نے امریکی فوجی کارروائیوں کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کر دیے ہیں
ایران کی ہلال احمر سوسائٹی نے بھی اس حملے کے خلاف عالمی فوجداری عدالت سے قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تنظیم نے عدالت کو بھیجے گئے خط میں کہا کہ اگر حملے کا مقام واقعی ایک خاندانی شادی کی تقریب تھا اور وہاں بڑی تعداد میں شہری موجود تھے تو یہ واقعہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت سنگین خدشات پیدا کرتا ہے
ہلال احمر کے مطابق واقعے کی آزادانہ، غیر جانب دار، مکمل اور مؤثر تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حملے کے دوران شہریوں کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی پابندی کی گئی یا نہیں۔ تنظیم نے کہا کہ حملے میں 4 افراد ہلاک اور 67 زخمی ہوئے ہیں
امریکا کی سینٹرل کمانڈ نے تاہم شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔ امریکی فوجی کمانڈ کے ترجمان نے کہا کہ امریکی فوج شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی اور اس کارروائی میں ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا
ایرانی حکام نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حملے کا ہدف کوئی فوجی تنصیب یا مواصلاتی ڈھانچہ تھا تو بھی اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ شادی کی تقریب میں موجود شہری اس حملے کی زد میں کیوں آئے۔ واقعے کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگوں کے زخمی ہونے کے باعث ایران نے حملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی ایک مرتبہ پھر شدید فوجی محاذ آرائی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور خطے میں وسیع جنگ کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے
ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے تازہ امریکی حملوں کے بعد کہا ہے کہ ایران اپنی جنگی حکمت عملی تبدیل کرے گا ان کے مطابق ایران میدان جنگ، سفارت کاری اور معاشی پابندیوں کے مقابلے کے لیے نئی حکمت عملی اختیار کرے گا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تازہ امریکی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کو سخت جواب دیا ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملہ اس کارروائی کے جواب میں کیا گیا جس میں ایران نے اردن میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا تھا ٹرمپ نے ایرانی عوام کی جانب سے اپنی حکومت کے خلاف ممکنہ بغاوت کا بھی ذکر کیا
شادی کی تقریب پر حملے کے واقعے نے شہریوں کے تحفظ اور جنگ کے دوران بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی سے متعلق خدشات مزید بڑھا دیے ہیں ایران نے اسے جنگی جرم قرار دیا ہے جبکہ امریکا نے شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی تردید کی ہے، اس لیے واقعے کی آزادانہ تحقیقات کو اصل صورتحال واضح کرنے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے

قومی خبریں سے مزید