اب امریکہ مڈل کلاس طبقے کا نہیں :متوسط طبقے کی تعمیر میں یونینوں کا بڑا کردار تھا، مگر ان کی کم ہوتی طاقت نے دولت کا توازن امیروں کے حق میں بدل دیا
امریکہ میں مزدور یونینوں نے صرف کارکنوں کی اجرتیں بڑھانے یا بہتر ملازمتیں دلانے میں کردار ادا نہیں کیا، بلکہ انہوں نے اس امریکی متوسط طبقے کی بنیاد رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کیا جو کبھی ملک کی معاشی طاقت اور سماجی استحکام کی علامت سمجھا جاتا تھا،لیکن گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران یونینوں کی طاقت مسلسل کم ہوتی گئی اور اسی عرصے میں ملک کی دولت کا بڑا حصہ بتدریج انتہائی امیر طبقے کے ہاتھوں میں مرتکز ہوتا چلا گیا
امریکہ میں مزدور یونینوں کی رکنیت اب تقریباً 10 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ 1983 میں یہ شرح 20.1 فیصد تھی،یعنی چار دہائیوں سے بھی کم عرصے میں امریکی کارکنوں میں یونین رکنیت تقریباً نصف رہ گئی،اسی دوران امیر ترین 1 فیصد امریکی گھرانوں کے پاس ملک کی دولت کا حصہ 1989 کے 22.9 فیصد سے بڑھ کر اب 31.6 فیصد ہو چکا ہے
یہ محض دو الگ الگ اعدادوشمار نہیں،ممتازمیگزین بارنز کی رپورٹ کے مطابق امریکی معیشت میں مزدوروں کی اجتماعی سودے بازی کی طاقت کم ہونے اور دولت کے اوپر کی جانب منتقل ہونے کے درمیان ایک واضح تاریخی تعلق دکھائی دیتا ہے، اگرچہ معاشی ماہرین اس تبدیلی کی دوسری بڑی وجوہات میں عالمی مسابقت، چین سے درآمدی مقابلہ، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کو بھی شامل کرتے ہیں
امریکہ میں مزدور تحریک کی تاریخ جب یہ یونین متوسط طبقے کی طاقت تھیں تقریباً صنعتی انقلاب کے آغاز کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، 1793 میں رہوڈ آئی لینڈ میں قائم ہونے والی سلیٹرز مل امریکہ کی پہلی ٹیکسٹائل فیکٹریوں میں شمار ہوتی ہے،وہاں مزدوروں کو 12 سے 16 گھنٹے تک کام کرنا پڑتا تھا، جن میں 7 سے 12 سال کی عمر کے بچے بھی شامل تھے،1824 میں پاٹکٹ ہڑتال میں 102 خواتین کارکنوں نے اجرتوں میں 25 فیصد کمی کے خلاف کام چھوڑ دیا، جو بعد میں وسیع احتجاج میں تبدیل ہو گئی
لیکن مزدور تحریک کو قومی سطح پر نمایاں کرنے والا ایک بڑا واقعہ 1877 کی عظیم ریلوے ہڑتال تھی،بالٹی مور اینڈ اوہائیو ریلوے کی جانب سے اجرتوں میں کمی کے بعد شروع ہونے والی یہ ہڑتال چند ہی دنوں میں ملک کے مختلف حصوں تک پھیل گئی،تقریباً 52 دن جاری رہنے والی اس ہڑتال کے نتیجے میں ملک بھر میں مال برداری کی سرگرمی تقریباً نصف رہ گئی اور بالآخر وفاقی فوج بھی طلب کی گئی
مزدور ہڑتال ہار گئے، لیکن ایک اہم چیز بدل چکی تھی،امریکی کارکنوں کو پہلی مرتبہ اپنی اجتماعی معاشی طاقت کا احساس ہوا اور آنے والی دہائیوں میں یونینیں تیزی سے منظم ہونے لگیں
1881 میں امریکی فیڈریشن آف لیبر کی پیش رو تنظیم کے قیام کے وقت ملک بھر میں 477 ہڑتالیں ہوئیں جن میں تقریباً 130,000 کارکن شامل تھے،1919 تک ہڑتالوں کی تعداد بڑھ کر تقریباً 3,600 اور شریک کارکنوں کی تعداد تقریباً 4 ملین تک پہنچ چکی تھی
مزدور تحریک کے دباؤ نے بالآخر امریکی کام کی جگہ کو بنیادی طور پر تبدیل کیا،8 گھنٹے کا کام کا دن، 5 روزہ ہفتہ، کارکنوں کے معاوضے کا نظام اور بچوں سے مشقت کے خلاف قوانین جیسے اقدامات اسی طویل جدوجہد کے نتیجے میں مضبوط ہوئے
1935 کے ویگنر ایکٹ نے کارکنوں کے یونین بنانے کے حق کو وفاقی قانون میں تحفظ دیا اور مزدور تحریک کو امریکی تاریخ میں اپنی طاقت کی بلند ترین سطحوں میں پہنچا دیا
ایک وقت ایسا بھی آیا جب ایک تہائی امریکی کارکن یونین کا حصہ تھے
1945 میں جب امریکی صنعتی شعبے کے ترجمان جارج ڈبلیو رومنی نے نیشنل انڈسٹریل کانفرنس بورڈ سے خطاب کیا تو اس وقت تقریباً ایک تہائی امریکی کارکن یونینوں کے رکن تھے،رومنی بعد میں ریپبلکن سینیٹر اور مشی گن کے گورنر بنے اور اور سابق ریپبلکن صدارتی امیدوار مٹ رومنی کے والد تھے
اس زمانے میں کاروبار اور مزدور تنظیموں کے درمیان تعلق آج کے مقابلے میں مختلف تھا،بڑی کمپنیوں میں یونینیں اتنی طاقتور تھیں کہ انتظامیہ کو کارکنوں کے اجتماعی مطالبات کو نظرانداز کرنا آسان نہیں تھا
لیکن پھر امریکی قانون اور سیاست نے مزدور تحریک کے لیے ماحول بدلنا شروع کر دیا
ٹافٹ ہارٹلے قانون اور یونینوں کی طاقت میں پہلی بڑی ضرب
1947 میں صدر ہیری ٹرومین کے ویٹو کے باوجود ٹافٹ ہارٹلے ایکٹ منظور کر لیا گیا،اس قانون نے یکجہتی پر مبنی ہڑتالوں سمیت مزدور تنظیموں کی کئی اہم طاقتوں کو محدود کیا اور ریاستوں کو ایسے قوانین بنانے کا راستہ دیا جنہیں عام طور پر ’’رائٹ ٹو ورک‘‘ قوانین کہا جاتا ہے
مزدور تنظیموں نے اس کے خلاف مزاحمت کی،1964 میں ڈیموکریٹس کو کانگریس میں بڑی اکثریت حاصل ہوئی تو یونینوں نے ٹافٹ ہارٹلے قانون ختم کرنے کی امیدیں وابستہ کیں، لیکن یہ قانون برقرار رہا
1966 میں صدر لنڈن جانسن نے بھی قومی ہنگامی صورتحال سے متعلق اسی قانون کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ہڑتال کرنے والے یونین کاربائیڈ کارکنوں کو واپس کام پر بھیجا
ریگن اور 11,400 فضائی ٹریفک کنٹرولرز
امریکی مزدور تحریک کی تاریخ میں ایک اور فیصلہ کن موڑ 1981 میں آیا، جب صدر رونالڈ ریگن نے ہڑتال کرنے والے تقریباً 11,400 فضائی ٹریفک کنٹرولرز کو ملازمت سے برطرف کر دیا
یہ ہڑتال متعلقہ یونین کی منظور شدہ ہڑتال نہیں تھی اور ٹافٹ ہارٹلے قانون کے تحت ممنوع تھی،ریگن حکومت کا یہ اقدام امریکی مزدور اور انتظامیہ کے تعلقات میں ایک اہم موڑ سمجھا جاتا ہے
اس کے بعد امریکی نجی شعبے میں یونین رکنیت طویل عرصے تک مسلسل کم ہوتی رہی
دوسری طرف دولت کا ارتکاز بڑھتا گیا
یونینوں کی کم ہوتی طاقت کے ساتھ امریکی معیشت میں دولت کی تقسیم بھی بدلتی گئی
وفاقی ریزرو کے اعدادوشمار کے مطابق 1989 میں امیر ترین 1 فیصد امریکی گھرانوں کے پاس ملک کی مجموعی دولت کا 22.9 فیصد تھا۔ اب یہ حصہ بڑھ کر 31.6 فیصد ہو چکا ہے
اس کے برعکس وہ طبقہ جسے عام طور پر امریکی متوسط طبقہ کہا جاتا ہے، یعنی دولت کی تقسیم میں 50ویں سے 90ویں فیصد کے درمیان آنے والے گھرانے، قومی دولت میں اپنا حصہ کھو چکے ہیں،ان کا حصہ 1989 کے 35.7 فیصد سے کم ہو کر 29.6 فیصد رہ گیا ہے
نچلے 50 فیصد امریکیوں کے پاس بھی قومی دولت کا حصہ 3.4 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 2.5 فیصد رہ گیا ہے
سب سے زیادہ فائدہ انتہائی اوپر کے طبقے کو ہوا ہے،امیر ترین 0.1 فیصد کے پاس اب امریکی دولت کا تقریباً 14.4 فیصد ہے، جبکہ 1989 میں یہ حصہ 8.7 فیصد تھا
کیا یونینوں کی کمزوری ہی ساری وجہ ہے؟
یہاں تصویر اتنی سادہ بھی نہیں کہ امریکی متوسط طبقے کی کمزوری کو صرف یونینوں کے زوال سے جوڑ دیا جائے
گزشتہ کئی دہائیوں میں امریکی صنعت کو چین اور دیگر ممالک سے شدید عالمی مسابقت کا سامنا رہا،ٹیکنالوجی نے کئی روایتی ملازمتوں کی نوعیت تبدیل کر دی،خودکاری، کمپیوٹرائزیشن اور اب مصنوعی ذہانت نے بھی کارکنوں کی سودے بازی کی طاقت پر اثر ڈالا ہے
لیکن ایک بنیادی حقیقت اپنی جگہ موجود ہے،جب کارکن اجتماعی طور پر اپنی اجرت، اوقات کار اور کام کے حالات پر گفت و شنید کرنے کی طاقت رکھتے ہیں تو انفرادی کارکن کے مقابلے میں ان کی پوزیشن مضبوط ہوتی ہے،جب یہ طاقت کم ہوتی ہے تو کارکن اور کمپنی کے درمیان طاقت کا توازن زیادہ تر انتظامیہ کے حق میں جھک جاتا ہے
بارنز کے مطابق امریکی معیشت میں مزدوروں کا قومی آمدنی میں حصہ بھی تاریخی طور پر انتہائی کم سطح پر پہنچ چکا ہے
آج کا سرمایہ دار اور کل کا سرمایہ دار
اس تبدیلی کو 1945 کے جارج رومنی اور آج کے ارب پتی کاروباری رہنماؤں کے رویوں کے فرق سے بھی سمجھا جا سکتا ہے
رومنی نے ایک ایسے دور میں کہا تھا کہ اگر ان کی فیکٹریوں میں یونینیں نہ ہوتیں تو شاید انتظامیہ کو خود انہیں منظم کرنا پڑتا،آج دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ایلون مسک یونینوں کے تصور سے اختلاف کا اظہار کر چکے ہیں
یہ فرق صرف دو افراد کے خیالات کا فرق نہیں بلکہ امریکی سرمایہ اور مزدور کے تعلق میں آنے والی وسیع تبدیلی کی علامت ہے۔”
کیا مزدور تحریک دوبارہ طاقت حاصل کر سکتی ہے؟
کرونا وبا کے بعد امریکہ میں یونینوں کے حق میں دلچسپی میں کچھ اضافہ ہوا،اجرتوں میں بھی کئی شعبوں میں تیزی آئی اور کارکنوں نے بڑی کمپنیوں کے خلاف اجتماعی کارروائیوں کا راستہ اختیار کیا،لیکن یہ نئی لہر اب تک امریکی مزدور تحریک کی مجموعی طاقت کو کئی دہائیوں پہلے کی سطح پر واپس نہیں لا سکی
اصل سوال یہ ہے کہ کیا نئی نسل کے کارکن دوبارہ اجتماعی سودے بازی کو امریکی معیشت کا مرکزی حصہ بنا سکتے ہیں؟
اگر یونینیں دوبارہ مضبوط ہوتی ہیں تو وہ صرف اپنے ارکان کی اجرت بڑھانے کا ذریعہ نہیں بنیں گی بلکہ ممکنہ طور پر متوسط طبقے کے سکڑنے کے عمل کو روکنے میں بھی کردار ادا کر سکتی ہیں،لیکن اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو خدشہ یہی ہے کہ امریکی معیشت میں پیدا ہونے والی نئی دولت کا بڑا حصہ پہلے ہی دولت رکھنے والے طبقے تک پہنچتا رہے گا
امریکہ میں متوسط طبقے کی کہانی دراصل صرف تنخواہ کی کہانی نہیں،یہ طاقت کی کہانی بھی ہے،ایک ایسا وقت تھا جب امریکی کارکن اجتماعی طور پر اتنی طاقت رکھتے تھے کہ حکومت، صنعت اور سرمایہ دار طبقہ ان کے مطالبات کو نظرانداز نہیں کر سکتا تھا،گزشتہ کئی دہائیوں میں اس طاقت کے کم ہونے کے ساتھ ہی دولت کی تقسیم بھی اوپر کی طرف منتقل ہوتی گئی
آج کا بنیادی سوال یہی ہے کہ اگر امریکہ ایک مضبوط متوسط طبقہ دوبارہ پیدا کرنا چاہتا ہے تو کیا وہ مضبوط مزدور یونینوں کے بغیر یہ کام کر سکتا ہے؟
بارنز کی رپورٹ کا تاریخی جائزہ اس سوال کا جواب براہِ راست نہیں دیتا، لیکن اعدادوشمار ایک واضح تصویر ضرور پیش کرتے ہیں: جس دور میں امریکی یونینیں مضبوط تھیں، اسی دور میں متوسط طبقہ بھی اپنی معاشی طاقت کے عروج پر تھا،اور جس دور میں یونینیں کمزور ہوئیں، اسی دور میں امریکی دولت کا بڑا حصہ چند ہاتھوں میں مرتکز ہوتا چلا گیا





