پاکستان کا بیرونی قرض 139 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، معاشی اصلاحات تیز کرنے کی ضرورت
اسلام آباد: پاکستان کے بیرونی قرض اور واجبات بڑھ کر 139 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جس کے باعث ملکی معیشت کو بیرونی مالی دباؤ اور قرضوں کی ادائیگی کے حوالے سے مسلسل چیلنجز کا سامنا ہے سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین نے خبردار کیا ہے کہ قرضوں کے خطرات کم کرنے کے لیے برآمدات، سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں تیزی سے اضافہ کرنا ہوگا
تجزیے کے مطابق پاکستان کے مجموعی قرض اور واجبات میں سرکاری قرض کا حصہ تقریباً 91 فیصد ہے، جبکہ باقی تقریباً 9 فیصد نجی شعبے کے قرض پر مشتمل ہے سرکاری قرض میں حکومت کا براہ راست حصہ تقریباً 92 فیصد ہے جبکہ باقی رقم سرکاری اداروں کی واجب الادا رقم ہے جس کی ضمانت حکومت نے دے رکھی ہے
پاکستان کے بیرونی قرض اور واجبات میں تقریباً دو تہائی حصہ سرکاری شعبے کا جبکہ ایک تہائی نجی شعبے کا ہے سرکاری شعبے کے قرض میں براہ راست حکومتی قرض تقریباً 80 فیصد ہے
تشویش کی اہم وجہ یہ ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بیرونی قرض اور واجبات کا مجموعی ملکی پیداوار سے تناسب 24 فیصد سے بڑھ کر 31 فیصد ہوگیا ہے اسی عرصے میں بیرونی قرض کا اشیا اور خدمات کی برآمدات سے تناسب بھی 210 سے بڑھ کر 340 تک پہنچ گیا ہے، جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر کے مقابلے میں یہ تناسب 350 سے بڑھ کر 750 ہوگیا ہے
قرضوں کی ادائیگی کا دباؤ بھی بڑھا ہے۔ بیرونی قرض کی ادائیگی کا مجموعی ملکی پیداوار سے تناسب 1.7 فیصد سے بڑھ کر 4 فیصد ہوگیا ہے، جبکہ برآمدات کے مقابلے میں بیرونی قرض کی ادائیگی 18 فیصد سے بڑھ کر 44 فیصد تک پہنچ گئی ہے زرمبادلہ کے ذخائر کے مقابلے میں قرض کی ادائیگی کا تناسب بھی 37 فیصد سے بڑھ کر 98 فیصد ہوگیا ہے
رپورٹ کے مطابق پاکستان کو اکتوبر 2027 کے بعد عالمی مالیاتی پروگرام سے نکلنے کے لیے اگلے دو برس کے دوران ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن سے قرضوں کا بوجھ کم ہو اور معیشت بیرونی جھٹکوں کو برداشت کرنے کے قابل بن سکے
اس مقصد کے لیے برآمدات اور زرمبادلہ کی آمدنی میں تیزی سے اضافہ، ڈالر کے لحاظ سے ملکی پیداوار میں بہتری، جاری کھاتے کے خسارے میں کمی اور کم شرح سود والی مالی معاونت حاصل کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے
تجویز کیا گیا ہے کہ مالی سال 2029 تک اشیا کی برآمدات کو 40 ارب ڈالر، خدمات کی برآمدات کو 12 ارب ڈالر اور کارکنوں کی ترسیلات زر کو 46 ارب ڈالر تک بڑھایا جائے۔ اسی طرح براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو 3.7 ارب ڈالر تک پہنچانے اور درآمدات کو 76 ارب ڈالر تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا جا سکتا ہے
معاشی اصلاحات کے سلسلے میں صنعتی اور برآمدی شعبے پر ٹیکس اور غیر ضروری ضابطوں کا بوجھ کم کرنے، تیل صاف کرنے کے کارخانوں کو جدید بنانے، نجی شعبے کے لیے بجلی اور گیس کے شعبوں میں مواقع پیدا کرنے، ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور برآمد کنندگان کو بروقت رقوم واپس کرنے جیسے اقدامات پر زور دیا گیا ہے
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ اگر برآمدات، سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں مطلوبہ اضافہ کیا جائے تو پاکستان اپنے بیرونی قرضوں کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کرسکتا ہے اور مستقبل میں دوبارہ بڑے مالیاتی بحران سے بچنے کی صلاحیت پیدا کرسکتا ہے





