ایران کے خلاف واشنگٹن کی ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ مہم کامیاب کیوں نہیں ہو سکتی

ایران کے خلاف واشنگٹن کی ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ مہم کامیاب کیوں نہیں ہو سکتی

گزشتہ ہفتے ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر ایک بڑے معاشی دباؤ کا اعلان کرتے ہوئے اسے ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ قرار دیا، جس کا مقصد تہران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر مجبور کرنا ہے
تاہم، ماضی میں کیوبا، شمالی کوریا، وینزویلا اور شام جیسے ممالک کے خلاف مغربی پابندیوں اور معاشی دباؤ کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ آمرانہ حکومتوں کو معاشی تکلیف کے ذریعے اپنے مطالبات ماننے پر مجبور کرنا انتہائی مشکل ثابت ہوا ہے،روس اور شمالی کوریا سمیت کئی حکومتوں نے پابندیوں سے بچنے کے لیے متبادل تجارتی راستے، غیر رسمی مالیاتی نظام اور مختلف قسم کے معاشی طریقے اختیار کیے، جبکہ اندرون ملک سیاسی دباؤ اور سخت حکومتی کنٹرول نے بھی انہیں طویل عرصے تک مشکلات برداشت کرنے کے قابل بنایا
ایران کے معاملے میں بھی یہی بنیادی سوال موجود ہے کہ کیا شدید معاشی دباؤ تہران کو آبنائے ہرمز کھولنے اور مذاکرات پر مجبور کر دے گا، یا اس کے برعکس ایرانی قیادت پابندیوں کے اثرات برداشت کرتے ہوئے متبادل راستے تلاش کرے گی
تاریخی تجربہ یہ بتاتا ہے کہ پابندیاں کسی ملک کی معیشت کو شدید نقصان تو پہنچا سکتی ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ وہ سیاسی قیادت کو اپنی بنیادی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور بھی کر دیں،کئی آمرانہ حکومتیں برسوں بلکہ دہائیوں تک معاشی مشکلات، عالمی تنہائی اور پابندیوں کے باوجود اقتدار میں رہنے میں کامیاب رہی ہیں
ایران کے خلاف واشنگٹن کی موجودہ حکمت عملی کی سب سے بڑی آزمائش بھی یہی ہے کہ معاشی دباؤ کو سیاسی نتیجے میں تبدیل کرنا کتنا ممکن ہے،اگر تہران نے ماضی کی طرح پابندیوں سے بچنے کے لیے نئے معاشی اور تجارتی راستے نکال لیے اور داخلی دباؤ کو کنٹرول میں رکھا تو واشنگٹن کی ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ مہم اپنے مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل کرنے میں مشکلات سے دوچار ہو سکتی ہے

قومی خبریں سے مزید