Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ڈیرہ غازی خان میں ایک اور پولیس مقابلہ، 2 مشتبہ ڈاکو ہلاک، مگر پنجاب میں ’’مقابلہ یا عدالت سے باہر فیصلہ‘‘ کا سوال پھر اٹھ کھڑا ہوا

ڈیرہ غازی خان میں ایک اور پولیس مقابلہ، 2 مشتبہ ڈاکو ہلاک، مگر پنجاب میں ’’مقابلہ یا عدالت سے باہر فیصلہ‘‘ کا سوال پھر اٹھ کھڑا ہوا

لاہور: ڈیرہ غازی خان میں پولیس مقابلے کے دوران 2 مشتبہ ڈاکو ہلاک اور ایلیٹ فورس کا ہیڈ کانسٹیبل محمد عمران جاں بحق ہوگیا جبکہ 2 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں، پولیس کے مطابق یہ کارروائی بستی میر والی بیلا میں تھانہ صدر کی حدود میں کی گئی، جہاں پولیس ٹیم مبینہ ڈاکوؤں کو گرفتار کرنے پہنچی تو فائرنگ شروع ہوگئی،پولیس کی جوابی فائرنگ میں 2 مشتبہ ملزمان مارے گئے جبکہ ایک نامعلوم زخمی ساتھی فرار ہوگیا
پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے حنیف عرف حنیفی ہبتانی لغاری اور جنید عرف جنیدی ہبتانی لغاری درجنوں مقدمات میں مطلوب تھے،پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس سے ایلیٹ فورس کے ہیڈ کانسٹیبل محمد عمران شدید زخمی ہوئے اور بعد میں دم توڑ گئے، جبکہ کانسٹیبل گلاب خان اور سب انسپکٹر امتیاز عالم بھی زخمی ہوئے،ایک زخمی مشتبہ ملزم کے فرار ہونے کی اطلاع پر علاقے میں سرچ آپریشن بھی شروع کیا گیا
لیکن ڈیرہ غازی خان کا یہ واقعہ پاکستان میں پولیس مقابلوں کے بارے میں برسوں سے موجود اس بنیادی سوال کو ایک مرتبہ پھر سامنے لاتا ہے کہ جب کسی مشتبہ ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کے بجائے پولیس کارروائی میں مار دیا جائے تو اس واقعے کی آزادانہ اور قابلِ اعتماد تحقیقات کا نظام کہاں ہے،پولیس کا مؤقف تقریباً ہر ایسے واقعے میں یہی ہوتا ہے کہ ملزمان نے پہلے فائرنگ کی، پولیس نے جوابی فائرنگ کی اور ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں سے مارے گئے جبکہ باقی ساتھی اندھیرے یا موقع کا فائدہ اٹھا کر فرار ہوگئے،یہ وہی طرزِ بیان ہے جس نے معاشرے میں پولیس مقابلوں کی شفافیت کے بارے میں مسلسل شکوک پیدا کیے ہیں
یہ سوال محض سیاسی مخالفین یا سوشل میڈیا کے اعتراضات تک محدود نہیں رہا،انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے 2025 میں پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی کارروائیوں پر ایک تفصیلی جائزے میں 707 پولیس مقابلوں کی نشاندہی کی جن میں 977 مشتبہ افراد ہلاک ہوئے،کمیشن نے ان واقعات پر اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کارروائیوں کے نمونے اور واقعات کی کثرت ایسے خدشات پیدا کرتی ہے جنہیں آزادانہ تحقیقات کے ذریعے دور کیا جانا چاہیے
اس سے پہلے انسانی حقوق کمیشن کی فروری 2026 کی ابتدائی رپورٹ میں 2025 کے پہلے 8 ماہ کے دوران 670 کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ مقابلوں میں 924 مشتبہ افراد کی ہلاکت کی نشاندہی کی گئی تھی،ان کارروائیوں میں پولیس کے صرف 2 اہلکار مارے گئے تھے،انسانی حقوق کمیشن نے ہلاکتوں اور پولیس اہلکاروں کے جانی نقصان کے اس غیر معمولی فرق کو انتہائی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا
بعد کے اعداد و شمار میں یہ تعداد مزید بڑھ کر 977 ہلاکتوں تک پہنچتی ہے،یعنی یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے ایک سال میں محض ’’800 یا 900‘‘ افراد مارے ہیں، بلکہ انسانی حقوق کمیشن کے مکمل 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق تعداد 977 مشتبہ افراد تک پہنچتی ہے
یہاں اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پولیس کو ڈاکوؤں یا خطرناک جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی نہیں کرنی چاہیے،مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں بظاہر عدالتیں موجود ہیں، تفتیش کا نظام موجود ہے، استغاثہ کا ادارہ موجود ہے اور نام نہاد بھی آئین بھی موجود ہے جو بظاہر ہر شہری کو قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے،اگر پولیس کے نزدیک کسی شخص کے خلاف اتنے شواہد موجود ہیں کہ وہ خطرناک مجرم ہے تو پھر اسے گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کرنا ہی قانون کی حکمرانی کا بنیادی تقاضا ہے
پولیس مقابلے میں کسی شخص کی ہلاکت صرف اسی صورت میں جائز قرار دی جاسکتی ہے جب واقعی جان بچانے کے لیے فوری اور ناگزیر طاقت استعمال کرنا پڑی ہو،لیکن اگر ’’مقابلہ‘‘ خود ایک ایسا طریقہ بن جائے جس میں گرفتار کیے جانے والے مشتبہ افراد عدالت تک پہنچنے سے پہلے ہی مارے جائیں تو پھر پورا فوجداری نظام اپنی معنویت کھونے لگتا ہے
پاکستان میں یہ تاثر بھی بڑھ رہا ہے کہ کمزور تفتیش، ناقص فرانزک نظام اور کمزور استغاثہ کے باعث ریاست بعض اوقات عدالت سے فیصلہ لینے کے بجائے پولیس کارروائی کو فوری حل سمجھتی ہے،یہ طرز عمل بظاہر جرم کے خلاف سختی دکھائی دیتا ہے، لیکن طویل مدت میں اس سے عدالت، پولیس اور ریاستی قانون کی ساکھ تینوں متاثر ہوتی ہیں
اس لیے ڈیرہ غازی خان کا واقعہ صرف 2 مشتبہ ڈاکوؤں کی ہلاکت اور ایک پولیس اہلکار کی شہادت کی خبر نہیں،اصل سوال یہ ہے کہ ان ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کون کرے گا، پولیس کے بیان کی تصدیق کیسے ہوگی اور اگر ہلاک ہونے والے واقعی خطرناک مجرم تھے تو عدالت میں ان کے خلاف مقدمہ چلانے کا موقع کیوں نہیں آیا
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایک پولیس اہلکار کی شہادت کو کسی صورت معمولی نہیں سمجھا جاسکتا،محمد عمران کی جان کا زیاں اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ پولیس اہلکار بھی اسی ریاستی نظام کا حصہ ہیں جسے قانون کے مطابق کام کرنا ہے،لیکن پولیس اہلکار کی قربانی اور مشتبہ ملزمان کی ہلاکت دونوں کو ایک ہی واقعے کے حصے کے طور پر آزادانہ تحقیقات کے سامنے رکھنا ہی وہ راستہ ہے جس سے ’’پولیس مقابلے‘‘ اور ’’عدالت سے باہر قتل‘‘ کے درمیان فرق واضح ہوسکتا ہے،یہی فرق قانون کی حکمرانی اور طاقت کے بے لگام استعمال کے درمیان بنیادی لکیر ہے

قومی خبریں سے مزید