Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہارورڈ میں تنوع کی حامی تھیں، اب ٹرمپ کی حمایت یافتہ نیویارک اٹارنی جنرل امیدوار سریتا کوماتریڈی کا سیاسی سفر سوالوں کی زد میں

ہارورڈ میں تنوع کی حامی تھیں، اب ٹرمپ کی حمایت یافتہ نیویارک اٹارنی جنرل امیدوار سریتا کوماتریڈی کا سیاسی سفر سوالوں کی زد میں

نیویارک اٹارنی جنرل کے لیے ریپبلکن امیدوار سریتا کوماتریڈی کے ہارورڈ کالج کے طالب علمی کے دور کے خیالات اور آج کے سیاسی مؤقف کے درمیان نمایاں فرق سامنے آیا ہے،کوماتریڈی، جنہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے، اپنے طالب علمی کے زمانے میں ہارورڈ میں تنوع، شمولیت اور مختلف پس منظر رکھنے والے طلبہ اور مصنفین کی نمائندگی بڑھانے کی کوششوں کی حامی رہی تھیں
2003 اور 2004 کے دوران ہارورڈ کی طلبہ تنظیم ’’ہارورڈ کریمسن‘‘ میں ایڈیٹر کی حیثیت سے کوماتریڈی نے نصاب میں مختلف پس منظر رکھنے والے مصنفین کو شامل کرنے کی حمایت کی،وہ ایک ایسے طلبہ گروپ کی شریک سربراہ بھی تھیں جو ہارورڈ کے اس وقت کے بین الثقافتی اور نسلی تعلقات سے متعلق پروگرام کے تحت تنوع اور شمولیت کے فروغ کے لیے کام کرتا تھا
ان کے طالب علمی کے دور کے بعض تحریری مؤقف میں مغربی سامراج اور تاریخی ناانصافیوں پر تنقید بھی شامل تھی، جبکہ انہوں نے جارج ڈبلیو بش انتظامیہ کی ماحولیاتی پالیسیوں کی بھی مخالفت کی تھی،یہ خیالات آج کی ان کی سیاسی شناخت سے خاصے مختلف دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ اب وہ ریپبلکن جماعت کی امیدوار کی حیثیت سے قانون کے نفاذ، جرائم کے خلاف سخت کارروائی اور عوامی تحفظ کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنا رہی ہیں
کوماتریڈی کی انتخابی مہم میں اب تنوع کے سابقہ طالب علمانہ کردار کے بجائے نیویارک میں جرائم، دھوکا دہی اور بے گھر افراد کے مسئلے پر توجہ مرکوز ہے،ان کی مہم کے مطابق ان کا مقصد نیویارک کو محفوظ بنانا اور قانون کی عمل داری کو مضبوط کرنا ہے
کوماتریڈی کی پیشہ ورانہ زندگی بھی غیر معمولی رہی ہے،انہوں نے ہارورڈ کالج اور ہارورڈ لا اسکول سے تعلیم حاصل کی، وفاقی پراسیکیوٹر کے طور پر کام کیا اور بعد میں ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن میں چیف آف اسٹاف کی ذمہ داری بھی انجام دی،وہ کولمبیا لا اسکول میں تدریس بھی کر چکی ہیں
ان کے ماضی کا یہ ریکارڈ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریپبلکن قیادت، خصوصاً ٹرمپ انتظامیہ، جامعات میں تنوع، مساوات اور شمولیت کے پروگراموں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے،ٹرمپ انتظامیہ نے اعلیٰ تعلیم میں ان پروگراموں کو ختم یا محدود کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں
دوسری جانب نیویارک کی موجودہ اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے ان پالیسیوں کی شدید مخالفت کی ہے۔ جیمز نے 2025 میں 14 ریاستی اٹارنی جنرلز کے ساتھ مل کر تعلیمی اداروں میں تنوع، مساوات، شمولیت اور رسائی کے پروگراموں کے دفاع میں رہنما اصول جاری کیے تھے
2026 میں جیمز نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف ایک اور مقدمہ بھی دائر کیا جس میں وفاقی حکومت کی جانب سے جامعات سے طلبہ کے داخلوں اور نسلی و صنفی اعداد و شمار کی وسیع تفصیلات طلب کرنے کو چیلنج کیا گیا،ایک وفاقی عدالت نے بعد ازاں ریاستی جامعات سے یہ معلومات طلب کرنے کے اقدام کو عارضی طور پر روک دیا
یوں سریتا کوماتریڈی کی انتخابی مہم میں ان کے ہارورڈ کے طالب علمی کے دور کا ریکارڈ ایک دلچسپ سیاسی تضاد سامنے لاتا ہے،ایک ایسی امیدوار جو نوجوانی میں تنوع اور شمولیت کی سرگرمیوں کی حامی تھی، آج اسی سیاسی جماعت کی امیدوار ہے جو وفاقی سطح پر ایسے پروگراموں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے
یہ تضاد اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب نیویارک کی اٹارنی جنرل کی دوڑ کو دیکھا جائے، جہاں کوماتریڈی موجودہ ڈیموکریٹ اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز کو چیلنج کر رہی ہیں اور دونوں امیدوار قانون، عوامی تحفظ اور وفاقی حکومت کی پالیسیوں کے حوالے سے ایک دوسرے سے بالکل مختلف سیاسی راستوں کی نمائندگی کرتی ہیں

قومی خبریں سے مزید