بچوں کی ویکسین پر والدین کا اختلاف تحویل کی جنگ بن گیا، بیماری کے بعد امریکی ’’میگا‘‘ تحریک کے نظریات بھی عدالت تک پہنچ گئے
امریکا میں بچوں کو ویکسین لگوانے کے معاملے پر ایک والد اور والدہ کے درمیان شروع ہونے والا اختلاف اس وقت سنگین خاندانی اور قانونی تنازعہ میں تبدیل ہوگیا جب ان کے 3 بچے بیمار پڑ گئے اور ایک بچے کو نمونیا کے باعث اسپتال داخل کرنا پڑا،یہ معاملہ اب امریکی معاشرے میں ویکسین، والدین کے اختیار، سوشل میڈیا سے پھیلنے والے طبی شکوک اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے تحت مقبول ہونے والی ’’میک امریکا ہیلتھی اگین‘‘ تحریک کے اثرات پر ایک بڑی بحث کی علامت بن چکا ہے
دی نیویارکر کی رپورٹ کے ایک مطابق مائیکل لی ہوروکس اور ان کی سابق اہلیہ لیہ اسٹلی اپنے 3 بچوں کی طبی نگہداشت کے معاملے پر شدید اختلاف کا شکار ہوگئے،مائیکل چاہتے تھے کہ بچے وہ بنیادی ویکسین لگوائیں جو انہیں اپنے بچپن میں دی گئی تھیں، جبکہ لیہ نے ویکسین کے بارے میں شدید شکوک پیدا ہونے کے بعد بچوں کو ویکسین لگوانے سے انکار کردیا
لیہ وقت کے ساتھ ’’میک امریکا ہیلتھی اگین‘‘ یا ’’میگا‘‘ تحریک کے خیالات سے متاثر ہوگئیں،وہ سوشل میڈیا پر ویکسین کے خلاف مواد، ’’بگ فارما‘‘ کے خلاف نظریات اور کیمیائی مادوں سے پاک طرز زندگی کی حمایت کرتی تھیں،ان کے ہزاروں پیروکار تھے اور وہ خواتین، روحانیت اور ’’قدرتی‘‘ طرز زندگی کے بارے میں بھی مواد شائع کرتی تھیں
دوسری طرف مائیکل خود کسی روایتی طبی یا سیاسی نظام کے انتہائی حامی نہیں تھے،وہ کووڈ ویکسین بھی نہیں لگوا سکے تھے اور وبا کے حوالے سے ان کے اپنے شکوک تھے،تاہم بچوں کی بات آئی تو ان کا مؤقف تھا کہ انہیں کم از کم وہ بنیادی ویکسین ضرور ملنی چاہئیں جو عام طور پر بچوں کو متعدی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے دی جاتی ہیں
دونوں کے درمیان اختلاف بالآخر عدالت تک پہنچا،عدالت نے بچوں کی مشترکہ تحویل کا فیصلہ کیا، لیکن مائیکل کو یہ حق حاصل نہیں ہوا کہ وہ یکطرفہ طور پر بچوں کی تمام طبی نگہداشت کا فیصلہ کرسکیں،عدالتی انتظام کے مطابق دونوں والدین کو طبی فیصلے باہمی رضامندی سے کرنا تھے اور اختلاف کی صورت میں ڈاکٹر کی سفارش پر عمل کرنا تھا،مسئلہ یہ تھا کہ دونوں اس بات پر بھی متفق نہیں تھے کہ کس ڈاکٹر پر اعتماد کیا جائے اور بچوں کو کب طبی امداد دی جائے
پھر موسمِ بہار کی چھٹیوں کے دوران صورتحال اچانک سنگین ہوگئی
تینوں بچے بیمار پڑ گئے،انہیں بخار ہوا، کھانے میں دل چسپی ختم ہوگئی اور ان کے جسم گرم رہنے لگے،چند دن بعد مائیکل کے ایک بچے ڈونی کے چہرے اور جسم پر سرخ دھبے نمودار ہوئے،مائیکل کو تشویش ہوئی کہ کہیں یہ خسرہ تو نہیں
ڈونی پہلے ہی ریڑھ کی ہڈی کے پٹھوں کو کمزور کرنے والی ایک جینیاتی بیماری میں مبتلا تھا، جس کی وجہ سے اسے سانس کی بیماریوں کا خطرہ زیادہ تھا
اس کی حالت مزید بگڑ گئی،ایک موقع پر اس کا درجہ حرارت تقریباً 105 ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچ گیا جبکہ خون میں آکسیجن کی سطح 81 فی صد تک گر گئی،مائیکل اسے فوراً اسپتال لے گئے، جہاں ڈاکٹروں نے اس کے ایک پھیپھڑے میں نمونیا کی تشخیص کی
مائیکل کے لیے بچوں کی بیماری اس تنازعہ کا ثبوت بن گئی کہ ویکسین سے انکار خطرناک ہوسکتا ہے،دوسری طرف لیہ نے اس نتیجے کو قبول نہیں کیا،ان کا مؤقف تھا کہ مائیکل بچوں کی بیماری کو اپنی تحویل کی اپیل کے حق میں استعمال کر رہے ہیں
خاندان کے درمیان یہ تنازعہ سوشل میڈیا تک بھی پہنچ گیا،بعض لوگوں نے دعویٰ کیا کہ بچوں کو خسرہ ہوا ہے اور اس کی وجہ ویکسین نہ لگوانا ہے، جبکہ لیہ کے حامیوں نے سوال اٹھایا کہ اگر علاقے میں خسرے کا کوئی تصدیق شدہ کیس ہی نہیں تھا تو بچوں کو خسرہ کیسے ہوسکتا ہے
بعد میں خسرے کے ٹیسٹ منفی آئے،اس کے باوجود بیماری کی اصل وجہ پر دونوں والدین کے درمیان اختلاف ختم نہ ہوسک،بچوں میں سے ڈونی کو ایک رات اسپتال میں رہنا پڑا اور پھر اسے گھر بھیج دیا گیا،یوں طبی مسئلہ ختم ہونے کے بجائے والدین کے درمیان اعتماد کا بحران مزید گہرا ہوگیا
یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا تنازعہ نہیں رہا،دی نیویارکر نے اسے امریکا میں ’’میگا‘‘ تحریک کے بڑھتے ہوئے اثرات کے تناظر میں پیش کیا ہے،اس تحریک میں بعض والدین ویکسین، ادویات، خوراک میں شامل کیمیکلز اور روایتی طبی نظام کے بارے میں شکوک کا اظہار کرتے ہیں اور ’’اپنی تحقیق خود کریں‘‘ کو ایک اہم اصول سمجھتے ہیں
رپورٹ کے مطابق ایسے آن لائن گروپ والدین کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑتے ہیں جہاں ویکسین کے بارے میں شکوک اور متبادل علاج کے نظریات تیزی سے پھیلتے ہییں ،بعض سابق ویکسین مخالف والدین نے بتایا کہ اس ماحول نے ان کی ازدواجی زندگی اور خاندانوں میں بھی شدید اختلاف پیدا کیا
امریکی سیاست نے بھی اس بحث کو مزید حساس بنا دیا ہے،صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے والدین کو ویکسین کے معاملے میں زیادہ اختیار دینے کی حمایت کی ہے، جبکہ ان کی انتظامیہ میں وزیر صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے بچپن کی ویکسین سے متعلق وفاقی پالیسی میں بڑی تبدیلیاں متعارف کرانے کی کوشش کی ہے،ان تبدیلیوں پر طبی ماہرین اور ویکسین کے حامیوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے
اس پورے تنازعہ کا سب سے پیچیدہ پہلو یہ ہے کہ یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ بچے کو ویکسین لگوانی چاہیے یا نہیں،اصل سوال یہ ہے کہ جب مشترکہ تحویل رکھنے والے والدین اپنے بچے کی طبی نگہداشت کے بنیادی اصول پر ہی متفق نہ ہوں تو آخری فیصلہ کس کا ہونا چاہیے؟
امریکا میں ایسے اختلافات پہلے بھی عدالتوں تک پہنچ چکے ہیں،ایک مشہور مقدمے میں مشی گن کی ایک والدہ نے اپنے بیٹے کو ویکسین لگوانے سے انکار کیا تھا، جبکہ والد ویکسین کے حق میں تھا،عدالت کے حکم کی خلاف ورزی پر والدہ کو توہینِ عدالت کا مرتکب قرار دے کر چند دن جیل بھی بھیجا گیا تھا
مائیکل ہوروکس کی تحویل سے متعلق اپیل ابھی فیصلہ طلب ہے،اس دوران ڈونی کو اسکول جانے کے لیے ویکسین کی ضرورت تھی،طویل اختلاف کے بعد اگست میں لیہ خود اسے ویکسین کے پہلے معائنے کے لیے ڈاکٹر کے پاس لے گئیں
یوں ایک خاندان کی نجی لڑائی امریکی سیاست اور ثقافت کی ایک بڑی جنگ کی عکاسی بن گئی ہے،ایک طرف والدین کا طبی فیصلوں پر اختیار، دوسری طرف بچوں کی صحت اور ریاست کی ذمہ داری، اور درمیان میں سوشل میڈیا، غلط معلومات اور بدلتی ہوئی سیاسی ترجیحات





