Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

دنیا بھر میں بانڈ ییلڈز میں غیر معمولی اضافہ، حکومتوں کے لیے قرض لینا مشکل ہوگیا

دنیا بھر میں بانڈ ییلڈز میں غیر معمولی اضافہ، حکومتوں کے لیے قرض لینا مشکل ہوگیا

عالمی معیشت کو ایک نئے مالیاتی چیلنج کا سامنا ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتوں میں حکومتی بانڈز کی شرحِ منافع تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں حکومتوں کے لیے قرض لینا مہنگا ہوتا جا رہا ہے اور اس کے اثرات گھروں کے خریداروں، کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے والوں اور کاروباری اداروں تک پہنچ سکتے ہیں
منگل کو بانڈ مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ مزید بڑھ گیا،جاپان میں 10 سالہ حکومتی بانڈ کی ییلڈ پہلی مرتبہ 3 فیصد تک پہنچ گئی، جو 1996 کے بعد بلند ترین سطح ہے،برطانیہ میں 30 سالہ حکومتی بانڈ کی ییلڈ 1998 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جبکہ جرمنی اور فرانس میں بانڈ ییلڈز ایک دہائی سے زیادہ عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
امریکا میں بھی 10 سالہ ٹریژری ییلڈ تقریباً 4.8 فیصد تک پہنچ گئی، جو جنوری 2025 کے بعد کی بلند ترین سطح کے قریب ہے
یہ صورتحال اس لیے اہم ہے کہ دنیا کی کئی بڑی حکومتیں پہلے ہی بھاری قرضوں میں جکڑی ہوئی ہیں،جب بانڈ ییلڈز بڑھتی ہیں تو نئی قرض گیری کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے، جس سے حکومتوں کے بجٹ پر قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے۔

اس کے اثرات صرف حکومتوں تک محدود نہیں رہتے،بلند شرح سود سے رہن کے قرضے، کاروباری قرضے اور کریڈٹ کارڈ کی لاگت بڑھ سکتی ہے، جس سے صارفین کی قوتِ خرید اور کاروباری سرمایہ کاری متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے
اصل تشویش یہ ہے کہ دنیا ایک ایسے وقت میں بڑھتی ہوئی شرح سود کا سامنا کر رہی ہے جب امریکا، جاپان، برطانیہ، فرانس اور دیگر بڑی معیشتوں پر پہلے ہی قرضوں کا حجم بہت زیادہ ہے،اگر بانڈ ییلڈز طویل عرصے تک بلند رہیں تو حکومتوں کو اپنے بجٹ میں قرضوں کی خدمت کے لیے زیادہ رقم مختص کرنا پڑ سکتی ہے، جس سے ترقیاتی اخراجات اور دیگر حکومتی ترجیحات کے لیے گنجائش کم ہو سکتی ہے
مختصراً، عالمی بانڈ مارکیٹ میں موجودہ ہلچل صرف مالیاتی منڈیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بڑھتے ہوئے قرض، مہنگی حکومتی مالی معاونت اور بلند شرح سود کے ایک نئے دور کا انتباہ بھی ہے

قومی خبریں سے مزید