زیارت کراس میں کسٹمز ویئر ہاؤس پر مسلح حملہ، اہلکار شہید، متعدد زخمی، علاقے میں شدید فائرنگ اور آگ، کلیئرنس آپریشن جاری

زیارت کراس میں کسٹمز ویئر ہاؤس پر مسلح حملہ، اہلکار شہید، متعدد زخمی، علاقے میں شدید فائرنگ اور آگ، کلیئرنس آپریشن جاری

بلوچستان کے ضلع پشین میں زیارت کراس کے مقام پر کسٹمز ویئر ہاؤس اور چیک پوسٹ پر مسلح افراد کے بڑے حملے کے بعد علاقے میں شدید فائرنگ اور آگ بھڑکنے کی اطلاعات ہیں،ابتدائی مقامی اطلاعات میں شہید اہلکاروں کی تعداد 7 بتائی گئی ہے جبکہ 7 دیگر کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے، تاہم عسکری حکام کی جانب سے جاری کردہ تازہ تفصیلات کے مطابق زیارت کراس کے واقعے میں 6 اہلکار شہید ہوئے جن میں 2 افسران اور کسٹمز کا ایک اہلکار شامل ہے،بعض غیر سرکاری اطلاعات میں اس سے زیادہ ہلاکتوں کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے، اس لیے حتمی تعداد کی سرکاری تصدیق کا انتظار ہے
مقامی اطلاعات کے مطابق حملہ رات گئے کیا گیا اور مسلح افراد نے کسٹمز کی تنصیب کے ساتھ سکیورٹی اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا۔ حملے کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جبکہ ویئر ہاؤس کے احاطے میں کھڑی متعدد گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی،امدادی ٹیموں اور فائر بریگیڈ نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا، جبکہ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی رات بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے متعدد واقعات پیش آئے،زیارت کراس، ضلع پشین میں دہشت گردوں نے کسٹمز ہاؤس پر منظم حملہ کرتے ہوئے اسے توڑنے کی کوشش کی، جس کا سکیورٹی فورسز نے بھرپور جواب دیا،شدید فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشت گرد مارے گئے جبکہ فرار ہونے والے حملہ آوروں کو بھی نشانہ بنایا گیا،مجموعی طور پر چاغی اور پشین کے مختلف واقعات میں 21 دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی ہے
عسکری حکام کے مطابق زیارت کراس میں حملے کے دوران 6 اہلکاروں نے جان قربان کی، جن میں 2 افسران اور کسٹمز ڈیپارٹمنٹ کا ایک سرکاری اہلکار بھی شامل ہے،حکام نے حملے کو دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ کسٹمز اہلکاروں کو ان کے قانونی فرائض کی انجام دہی سے روکنا بھی حملہ آوروں کے مقاصد میں شامل تھا
حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے زیارت کراس اور ملحقہ علاقوں کو گھیرے میں لے کر سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے،حکام کے مطابق علاقے میں باقی ماندہ مسلح افراد کی تلاش جاری ہے اور اہم شاہراہوں اور مقامی آبادی کی حفاظت کے لیے سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے
دوسری جانب بعض مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ آوروں نے سکیورٹی اور سرکاری تنصیبات کو بیک وقت نشانہ بنایا اور متعدد گاڑیاں نذر آتش کیں،ایک مقامی رپورٹ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی
زیارت کراس میں صورتحال تاحال حساس ہے،علاقے میں سکیورٹی آپریشن اور فائرنگ کے باعث شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور زیارت کراس کے راستے سے فی الحال دور رہنے کی ہدایت کی جا رہی ہے

قومی خبریں سے مزید