شہباز شریف کا ایس سی او اجلاس میں بھارت کو دوٹوک پیغام، ’’پانی کو سیاسی ہتھیار نہیں بنایا جا سکتا‘‘
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے دریائے سندھ کے پانی کے تنازعہ پر بھارت کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ پانی کو کبھی سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے
شہباز شریف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت نے ہیگ میں قائم ثالثی عدالت کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ بدستور قانونی طور پر نافذ العمل ہے
شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم نے پانی کے معاملے کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی مخالفت کی اور کہا کہ پانی ایک بنیادی ضرورت ہے جسے سیاسی تنازعات میں ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے
سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا بنیادی فریم ورک ہے،بھارت کی جانب سے معاہدے کے حوالے سے حالیہ مؤقف اور پاکستان کی جانب سے ثالثی کے فیصلے کا خیرمقدم دونوں ایٹمی ہمسایوں کے درمیان پانی کے تنازع کو ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر نمایاں کر رہے ہیں
پاکستان کا مؤقف ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے اور اسے یک طرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیا جا سکتا، جبکہ بھارت نے ثالثی عدالت کے دائرۂ اختیار اور اس کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے
ایس سی او سربراہی اجلاس میں شہباز شریف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان پانی کے مسئلے پر کشیدگی برقرار ہے اور دریائے سندھ کے نظام سے متعلق بھارتی اقدامات پاکستان کے لیے شدید تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں





