گرینڈ کینین میں بارش قیامت بن گئی، 2 ہلاک، 15 لاپتا، سیلاب نے پل اور پانی کی مرکزی پائپ لائن تباہ کردی
امریکی ریاست ایریزونا کے مشہور سیاحتی مقام گرینڈ کینین میں ہفتے کے روز اچانک آنے والے شدید سیلاب نے تباہی مچا دی,کم از کم 2 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ تقریباً 15 افراد اب بھی لاپتا یا لاپتا قرار دیے جا رہے ہیں اور امدادی ٹیمیں خطرناک حالات میں ان کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں
سیلاب گرینڈ کینین کے اندر برائٹ اینجل کینین اور فینٹم رینچ کے علاقے میں آیا، جہاں اچانک شدید بارش کے بعد برائٹ اینجل کریک میں پانی کا ریلا آیا اور اپنے ساتھ لکڑیاں، چٹانیں اور ملبہ بہا لے گیا،متعدد پیدل پل تباہ ہوگئے جبکہ راستوں، کیمپنگ مقامات اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا
نیشنل پارک سروس کے مطابق کم از کم 62 افراد کو متاثرہ علاقے سے فضائی راستے سے نکالا گیا،ایک 46 سالہ شخص کی لاش پہلے ہی دریائے کولوراڈو کے قریب کرسٹل ریپڈز سے مل چکی تھی، جبکہ پیر کو دوسری لاش بھی برآمد ہوئی،ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ایک شخص، ڈاکٹر جان جسٹی، کی شناخت بھی ہلاک ہونے والوں میں کی گئی ہے
اس تباہی نے گرینڈ کینین کی پانی کی فراہمی کو بھی شدید متاثر کیا ہے،سیاحوں اور تقریباً 1,600 مستقل رہائشیوں کو پانی فراہم کرنے والی مرکزی ٹرانس کینین واٹر لائن کا تقریباً 40 فیصد حصہ تباہ یا شدید متاثر ہوا ہے،یہ وہی پائپ لائن ہے جس کی مرمت اور جدید کاری پر 2023 سے 200 ملین ڈالر سے زیادہ کا منصوبہ جاری تھا
حکام نے پانی کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کردی ہیں اور پارک کے اندر رات گزارنے والی رہائش گاہیں بند کردی گئی ہیں،فینٹم رینچ، برائٹ اینجل کیمپ گراؤنڈ اور نارتھ کائی باب ٹریل سمیت متاثرہ علاقے مزید اطلاع تک بند رہیں گے
ماہرین کے مطابق یہ صرف غیر معمولی بارش کا نتیجہ نہیں تھا،علاقے میں طویل خشک سالی، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور بحرالکاہل میں غیر معمولی گرم حالات جیسے موسمی عوامل نے شدید بارش کے اثرات کو مزید خطرناک بنایا،ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ مغربی امریکا میں مختصر دورانیے کی انتہائی شدید بارشیں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تقریباً 10 فیصد زیادہ طاقتور ہوچکی ہیں
خطرہ ابھی ٹلا نہیں،محکمہ موسمیات نے گرینڈ کینین کے علاقے میں مزید گرج چمک اور شدید بارش کا امکان ظاہر کیا ہے، جس کے باعث امدادی کارروائیوں کے دوران دوبارہ اچانک سیلاب آنے کا خدشہ برقرار ہے





